?>

ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام شہید قاسم سلیمانی کی پہلی برسی پر گول میز کانفرنس کا انعقاد

ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام شہید قاسم سلیمانی کی پہلی برسی پر گول میز کانفرنس کا انعقاد

مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام سردار شہید قاسم سلیمانی، ابومہدی مہندس اور رفقاءکی پہلی برسی کے سلسے میں اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں شہید قدس گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام سردار شہید قاسم سلیمانی، ابومہدی مہندس اور رفقاءکی پہلی برسی کے سلسے میں اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں شہید قدس گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کی نامور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ کوئٹہ میں غریب محنت کشوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔مقتولین کے ورثا گزشتہ تین روز سے جنازے رکھ کر شدید سردی میں وزیر اعظم کی آمد کے منتظر ہیں۔انہیں ان کی غربت کے باعث نظر انداز کیاجارہا ہے۔ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔عوام کی جان و مال کا تحفظ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔اگر وزیر اعظم وہاں نہ گئے تو پورے پاکستان میں ملت تشیع مظلوموں کی حمات میں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے گی۔ہم شہدائے کوئٹہ کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خطے میں بدامنی پھیلانے کے لیے امریکہ اور اس کے حواری خطرناک کھیل شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔اسرائیل کو گریٹر اور ایشیا کو عدم استحکام کا شکار کر کے امریکہ پوری دنیا پر قابض ہوناچاہتا تھا۔امت مسلمہ کی تقسیم کے لیے کروڑوں ڈالڑ خرچ کیے جا رہے ہیں۔یہودونصاری کے اہداف کوناکام بنانے کے لیے قاسم سلیمانی نے بہترین حکمت عملی اپنائی۔انہوں نے لبنان، شام اور یمن کو ہتھیاروں تیاری سکھائی۔ انہوں نے ہمیشہ صف اول میں رہ کر مجاہدانہ کردار ادا کیا۔قاسم سلیمانی کی مزاحمت کے نتیجے میں گریٹر کا خواب دیکھنے والا اسرائیل سکڑنا شروع ہوگیا۔ قاسم سلیمانی کے تربیت یافتہ آج مزاحمتی تحریکوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ایشیا اور امت مسلمہ کو ٹوٹنے سے بچانے میں قاسم سلمانی کاکلیدی کردار تھا۔وہ انسانیت کے قدر دان تھے۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ دشمن پاکستان میں خانہ جنگی چاہتا ہے۔انہوں نے امت مسلمہ کو ان کے حقیقی دوست دشمن کی شناخت کرائی۔۔کم ظرف دشمنوں نے ان پر چھپ کر وار کیا۔قاسم سلمانی کاقتل ریاستی دہشت گردی ہے جس کی پوری دنیا کومذمت کرنی چاہیئے تھی۔ قاسم سلیمانی کے بعدکھیل ختم نہیں ہوا بلکہ اسلام دشمنوں اور غاصبین کے خلاف مسلمانوں کے غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اسرائیل تسلیم نہیں کرنے دیں گے۔پاکستان امت مسلمہ کا دل اور اسلام کاقلعہ ہے اسے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔امریکہ کی کمزوری اسرائیل کی تباہی ثابت ہو گی۔ہم نے ظالمین عالم کو تباہ ہوتے دیکھنا ہے۔سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہزارہ قبیلہ کے ساتھ وحشت و بربریت کا جوکھیل کھیلا گیا ا سکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے قاسم سلیمانی حریت پسبند رہنما تھے۔ان کی دنیائے اسلام کے لیے ان گنت خدمات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوتسلیم کرنے کی مہم کے دوران حجاز مقدس کے غاصبوں کا اصل چہرہ بھی سامنے آگیا ہے۔او آئی سی کا اسلامی ممالک کو درپیش مشکلات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ باہمی مفادات کے تحفظ کی تبظیم ہے جو غیر مند قوموں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔انہوں ن نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی زندگی کا مقصد ہی شہادت تھا۔ان کی زندگی ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ غاصبین کا مقابلہ کرنے والا ہر جوان قاسم سلیمانی ہے۔سینئر صحافی اور کالم نگار مظہر برلاس نے کہا کہ انقلاب پسند شخصیات دنیا دار نہیں ہوتے بلکہ زندگی کا کوئی عظیم ہدف رکھتے ہیں۔دشمنانِ اسلام فلسفہ انقلاب سے آج بھی خائف ہیں۔قاسم سلیمانی کو شہید کرنے والوں کو قاسم سلیمانی کی ہیبت آج بھی سکون سے سونے نہیں دیتی۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حیثیت سے بانی پاکستان کے فرمودات پر عمل سب کا فریضہ ہیس۔کشمیر و فلسطین کے حوالے سے ہم بانی پاکستان کے موقف کے پابند ہیں۔سینئر صحافی و اینکر پرسن امیر عباس نے کہا کہ غیر مسلم انقلابی شخصیات کے ایام اگر پاکستان میں منائیں جا سکتے ہیں تو پھر قاسم سلمیانی جیسے عظیم اور نڈر مجاہد کاذکر کیوں نہیں کیا جاسکتا۔شہید قاسم سلیمانی کے قتل میں امریکہ کے ساتھ اسرائیل بھی شامل تھا۔ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اسرائیل کی شناخت دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی شہید کا دن ہمیں ہر سال پوری جرات سے منانا چاہیئے تاکہ ہماری نسلوں کی بہترین فکری رہنمائی ہو سکے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر داعش کا وجود ناقابل قبول ہے۔پاکستان کے بیٹے داعش کے خاتمے کے لیے پوری جرات کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت قائد اعظم کے موقف کی تائید ہے جنہوں نے اس سرزمین پر سب سے پہلے یوم فلسطین منایا۔اسرائیل کے مقابلے میں فلسطین کو جس شخصیت نے جرات عطا کی اس کا نام شہید قاسم سلیمانی ہے۔ کل تک جو اسرائیل گریٹر کے منصوبے بنا رہا تھا آج اپنی بقا وسالمیت کے لیے اضطراب کا شکار ہے۔اہلبیت اطہار علیہم السلام اورصحابہ کے مزارات دنیائے اسلام کے مقدسات ہیں۔داعش انہیں تباہ کرنا چاہتی تھی لیکن شہید قاسم سلیمانی دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیواربن کرکھڑے رہے۔مسئلہ کشمیرو فلسطین پر شہیدقاسم سلیمانی کاموقف ان ریاستوں کے باسیوں کے دل کی آواز تھی۔جمعیت علمائے پاکستان(نیازی)کے صدر سیدمعصوم نقوی نے کہاہے کہ قاسم سلیمانی کاذکر کسی محدود کانفرنس کی بجائے ہر گلی محلے میں ہوناچاہیئے۔شام وعراق کو داعش کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کا سہرا امت مسلمہ کے اس سچے عاشق رسول ?کے سر ہے۔ہمارے لیے یہ شخصیت مشعل راہ ہے۔فلسطین فاو ¿نڈیشن کے چیئرمین صابر ابو مریم کربلائی نے کہا کہ داعش کے سامنے سب سے مضبوط مزاحمتی قوت شہید قاسم سلیمانی کی تھی۔انہوں نے کہاہر محاذ پر ان شیطانی طاقتوں کو شکست دی۔ شہید قاسم سلیمانی عالم اسلام کے ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کے بھی مسیحا تھے۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنما علامہ ثاقب اکبر نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے یہی رشتہ قاسم سلیمانی کے ساتھ بھی ہے اور قدس کے ساتھ بھی۔قاسم سلیمانی کی شہادت وہ ظلم ہے جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ اسرائیل اور سعودری عرب کے دوستانہ تعلقات کے بعد القدس کی آزادی کے ساتھ ہمیں حرمین کے تحفط کی بھی تحریک شروع کرنا ہو گی۔امت مسلمہ کو سعودی عرب کی خیانت پر متوجہ رہنا چاہئیے۔اسلام آباد کے ڈپٹی میئر ذیشان نقوی نے کہا کہ شہہید قاسم سلیمانی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔انہوں نے دنیا کو اسلام کااصل چہرہ دکھایا۔پیر سید صفدر گیلانی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔قاسم سلیمانی اتحاد امت کے سب سے بڑے داعی تھے۔ایران کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی وابط قائم رہ سکتے ہیں تو پاکستان کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے۔فلسطین اور اسرائیل حق وباطل کے معیار ہیں۔ جو طاقتیں اسرائیل کے ساتھ ہوں گی وہ کبھی حق پر نہیں ہو سکتیں۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ قبیلہ کب تک لاشیں اٹھائے گا۔ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں۔کانفرنس سے علامہ حسنین گردیزی اور داکٹر امجد حسین چشتی سمیت دیگر مذہبی،صحافتی و سیاسی شخصیات نے خطاب کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی