?>

ایران کے مقابلے میں جو بائیڈن کی پسپائی کیلئے الٹی گنتی کا آغاز

 ایران کے مقابلے میں جو بائیڈن کی پسپائی کیلئے الٹی گنتی کا آغاز

اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے غیر منطقی اور غیر منصفانہ اقدامات اور مطالبات کے مقابلے میں یہ اصولی موقف اختیار کر رکھا ہے کہ جوہری معاہدے میں واپسی صرف اسی صورت ممکن ہے، جب امریکہ پہلے اسی معاہدے کی رو سے ایران کے خلاف عائد کی گئی تمام ظالمانہ پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ متنازعہ اور مہم جوئی سے بھرپور اقتدار کی منتقلی حالیہ صدارتی انتخابات میں پیش آئی، جس کے دوران اقتدار ڈونلڈ ٹرمپ سے جو بائیڈن کو منتقل کر دیا گیا۔ اسی وجہ سے نئے امریکی صدر کو بند گلی کا شکار، چیلنجنگ، بحرانی اور بھاری قیمت چکانے والے ایشوز کی طویل فہرست کا سامنا ہے۔ اب جو بائیڈن کے سامنے دو ہی راستے ہیں، یا تو انہیں سابق امریکی صدر کی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے ان سے پسپائی اختیار کرنا ہوگی یا پھر انہی پالیسیوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ یہی وجہ ہے، جس کے باعث جو بائیڈن خود کو شدید مشکل حالات میں محسوس کر رہے ہیں۔ وہ نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے پسپائی اختیار کرسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں آگے بڑھانے کی جرات رکھتے ہیں۔

جو بائیڈن کو درپیش ایسا ہی ایک ایشو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ براک اوباما کے دور میں امریکہ، یورپی ممالک اور ایران کے درمیان جوہری سرگرمیوں سے متعلق طویل مذاکرات کے بعد ایک جامع معاہدہ طے پا گیا تھا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو پر مبنی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اس پالیسی کے ذریعے ایران کو امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر دینا چاہتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو پر مبنی پالیسی درحقیقت صہیونی لابی کی تجویز کردہ پالیسی تھی۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ظالمانہ اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کے خلاف بھرپور استقامت کا مظاہرہ کیا اور یوں زیادہ سے زیادہ دباو پر مبنی پالیسی بھی ناکامی کا شکار ہوگئی۔ اب جو بائیڈن نے ایک بار پھر ایران سے نرم رویہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اقتصادی پابندیاں ایک جنگی ہتھیار کے طور پر متعارف کروائی گئی ہیں جبکہ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے بھی ایک بل منظور کیا ہے، جس کی رو سے حکومت جوہری معاہدے کے تحت انجام پانے والی محدودیتوں کو ختم کرنے کی پابند ہوچکی ہے۔ اس بل کی روشنی میں ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 فروری تک جوہری معاہدے سے ملحقہ پروٹوکول کی پابندی ختم کر دے گی۔

جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی حکومت ایرانی پارلیمنٹ کے اس بل پر عملدرآمد روکنے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہے۔ اگر اس بل پر عملدرآمد ہو جاتا ہے اور چار ماہ بعد ایران کے صدارتی انتخابات کے نتائج بھی سامنے آجاتے ہیں تو جو بائیڈن کو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔ لہذا جو بائیڈن ایک طرف اقتصادی پابندیوں پر مشتمل اپنا جنگی ہتھیار برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کو جوہری معاہدے میں ذکر شدہ محدودیتوں کا پابند رکھنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی حکمرانوں نے مختلف طریقوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں منظور شدہ بل کے اثرات سے بچنے کی کوشش کی، لیکن ان کا کوئی حربہ مفید ثابت نہیں ہوا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے غیر منطقی اور غیر منصفانہ اقدامات اور مطالبات کے مقابلے میں یہ اصولی موقف اختیار کر رکھا ہے کہ جوہری معاہدے میں واپسی صرف اسی صورت ممکن ہے، جب امریکہ پہلے اسی معاہدے کی رو سے ایران کے خلاف عائد کی گئی تمام ظالمانہ پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ ایران گذشتہ آٹھ برس سے اس معاہدے کی پابندی کرتا آیا ہے اور اس بات کی تصدیق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی ای اے ای نے بھی بارہا کر دی ہے۔ لیکن دوسری طرف امریکہ معاہدے کے آغاز سے ہی اس سے دستبردار ہوگیا تھا اور معاہدے میں ذکر شدہ اقدامات انجام دینے سے گریز کرتا آیا ہے۔ موجودہ حالات میں ایران کا موقف انتہائی مضبوط ہے اور ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل نے تمام امریکی، صہیونی اور مغربی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے خلاف عائد شدہ پابندیوں کے باوجود اقتصادی میدان میں بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ایران کی اقتصادی ترقی کی شرح 7.7 فیصد ہے۔ دوسری طرف ایران نے ایشیا میں ابھرتی ہوئی نئی اقتصادی طاقتوں سے بھی بہت اچھے اور قریبی تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ لہذا جو بائیڈن ایران اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مسئلے میں انتہائی گھمبیر صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں۔ ایران نے 21 فروری کی ڈیڈ لائن کا اعلان کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف عائد تمام پابندیاں ختم نہیں کرتا تو اس دن سے ایران جوہری معاہدے کی پابندی ختم کر دے گا۔ جو بائیڈن کے خلاف الٹی گنتی کا آغاز ہوچکا ہے۔ ان کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

تحریر ہادی محمدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی