ایک سوپر پاور کا زوال-2

ایران کے مقابلے میں امریکہ کی تنہائی اور اقوام متحدہ میں پے درپے ناکامیاں

ایران کے مقابلے میں امریکہ کی تنہائی اور اقوام متحدہ میں پے درپے ناکامیاں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹرش نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "میں، ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے پلٹنے کے سلسلے میں امریکی دعوے کے بارے میں، کچھ بھی نہيں کرسکتا کیونکہ لگتا ہے کہ اس سلسلے میں غیر یقینیت پائی جاتی ہے"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے مطابق، ایران پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی کی مدت 18 اکتوبر 2020ء کو اختتام پذیر ہونا قرار پائی تھی چنانچہ امریکیوں نے مورخہ 15 اگست 2020ء سے یورپ اور مغربی ایشیا و شمالی افریقہ میں گھر گھر گھومنے کا آغاز کیا۔ وہ ایران کے خلاف ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر لگی پابندی کی مدت بڑھانے کے لئے دوسرے ممالک کو اپنے ساتھ ملانے لئے کوشاں رہے مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کو رسوا کن اور بھاری شکست ہوئی۔ اور صرف امریکی مندوب اور لاطینی امریکہ کے چھوٹے ملک جمہوریہ ڈومینیکن نے  امریکی مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔ روس اور چین نے اس کی مخالفت کی  اور سلامتی کونسل کے گیار ہ رکن ممالک نے رائے دہی سے گریز کیا۔ روس اور چین کو ویٹو کا اختیار بھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ امریکہ 9 اراکین کی حمایت بھی حاصل نہیں کرسکا تھا۔
اس بھاری اور رسوا کن شکست کے بعد، امریکہ - جس نے اس سے پہلے دھمکی دی تھی - نے مطالبہ کیا کہ اسنیپ بیک میکانزم (اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی یک لخت بازگشت) کے طریق کار کو فعال کیا جائے اور امریکی مندوب کیلی کرافٹ (Kelly Craft)  نے اپنے پہلے رد عمل کے طور پر کہا کہ اس کی حکومت اگلے ایام میں اس طریق کار کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے گی اور ایٹمی معاہدے کے تحت منسوخ ہونے والی پابندیوں کو دوبارہ پلٹائے گی۔
 پانچ دن بعد امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر ایران پر ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور عالمی ادارے کو مطلع کیا کہ امریکہ ایران پر لگی تمام پابندیوں کو لوٹانا چاہتا ہے۔ اس خط کو ایک تیس روزہ عمل سے گذرنا چاہئے تھا جس کے بعد ایران کے خلاف لگی پابندیاں خودکار طور پر پلٹ جاتیں۔ لیکن امریکی استدلال غیر معقول تھا وہ  2016 میں ایٹمی معاہدے سے علیحدہ ہوچکا تھا لیکن شاید اپنی سابقہ عالمی بالادستی کے گھمنڈ میں آکر سمجھ رہا  تھا کہ کوئی بھی  اس کی ہر ناجائز بات  کی مخالفت نہیں کرے گا۔ بہرصورت وہ معاہدے میں شامل ہی نہیں تھا اور وہ اس میکانزم کو فعال نہیں کستا تھا  چنانچہ اس کا یہ خط بھی اس جگ ہنسائی کا سبب بنا اور اس کے روایتی حلیفوں نے اس کے روایتی مخالفین کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ایک محاذ قائم کیاجس نے یک صدا ہوکر اس اقدام کو غیر قانونی، باطل اور بےاثر کردیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹرش نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "میں، ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے پلٹنے کے سلسلے میں امریکی دعوے کے بارے میں، کچھ بھی نہيں کرسکتا کیونکہ لگتا ہے کہ اس سلسلے میں غیر یقینیت پائی جاتی ہے"۔ چین اور روس نے بھی سلامتی کونسل کو مراسلے بھیج کر ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں پلٹانے کے سلسلے میں امریکی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ خوسپ بوریل (Josep Borrell) نے اس امریکی اقدام پر اپنے رد عمل کے ضمن میں کہا: ایٹمی معاہدے کے مطابق ایران کے خلاف پابندیوں کی منسوخی کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*