ایران کے خلاف بینیٹ کی دھمکیاں؛ کیا “اسرائیل” مزاحمت سے پہلے کے دور میں جی رہا ہے؟

ایران کے خلاف بینیٹ کی دھمکیاں؛ کیا “اسرائیل” مزاحمت سے پہلے کے دور میں جی رہا ہے؟

یہ زوال کی طرف رواں دواں، راندہ درگاہ، غاصب صہیونی ریاست کے زوال پذیر اور نامناسب وزیر اعظم جو ایک نامناسب وقت میں اس ریاست کی وزارت عظمی تک پہنچا ہؤا ہے، کا عجیب و غریب بیان ہے۔ اس نے یہ الفاظ ایران پر لگی امریکی پابندیاں ہٹانے کے لئے ہونے والے ویانا مذاکرات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ادا کئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ “ہمیں یقینی طور پر تشویش ہے۔ اسرائیل [ایران کے ساتھ مغرب کے] سمجھوتوں کا فریق نہیں ہے۔ سمجھوتوں میں جو کچھ لکھا جائے گا اور جن متون پر دستخط کیا جائے گا اسرائیل اس کا پابند نہیں ہوگا؛ اور اسرائیل کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت، بغیر کسی پابندی کے مکمل طور پر عمل کی آزادی کو بروئے کار لائے گا؛ ہم نہ صرف دفاعی حملے کریں گے بلکہ جارحانہ حملے بھی کریں گے۔”
یہ زوال کی طرف رواں دواں، راندہ درگاہ، غاصب صہیونی ریاست کے زوال پذیر اور نامناسب وزیر اعظم جو ایک نامناسب وقت میں اس ریاست کی وزارت عظمی تک پہنچا ہؤا ہے، کا عجیب و غریب بیان ہے۔ اس نے یہ الفاظ ایران پر لگی امریکی پابندیاں ہٹانے کے لئے ہونے والے ویانا مذاکرات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ادا کئے ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست میں بینیٹ جیسے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام سے بھی پہلے اور مزاحمت کے دور سے بھی پہلے، کے دور میں رہ رہا ہے۔ وہ اس زمانے میں رہتا ہے جب اسرائیل جنگوں کو شروع کرتا تھا اور خود ہی انہیں ختم کر دیتا ہے اور جوابی کارروائی کے خوف کے بغیر مختلف حملوں کا آغاز کرتا تھا۔ اسی تصور کی وجہ سے آج بھی اس ریاست کے راہنما خود کو، دوسرے ممالک کو جنگ کی دھمکیاں دینے کا مجاز سمجھتے ہیں؛ صرف لئے کہ وہ ان ممالک کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس، حقیقت پسند علاقائی اور بین الاقوامی سطح کے مبصرین کی رائے یہ ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی حکام کی طرف سے روز کی دھمکیوں کا مطلب اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہ مزید سنہ 1960ع‍ اور 1980ع‍ کی دہائیوں میں نہیں جی رہے ہیں بلکہ اب انہیں ایک بڑی علاقائی طاقت ” اسلامی جمہوریہ ایران” کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ، “محورِ مقاومت” (یا محاذ مزاحمت) کے نام سے ایک محاذ پورے خطے میں پھیل چکا ہے، جس نے ایران کے ساتھ مل کر حالیہ دو دہائیوں کے دوران اسرائیل کو “عمل کی آزادی” (Freedom of Action) سے محروم کر دیا ہے؛ ایک ایسی ریاست جو حکومتوں اور اقوام کی سرخ لکیروں کا کوئی احترام نہیں کرتی۔
کہنا یوں چاہئے کہ جب ایران اور محور مقاومت نے امریکہ جیسی “بڑی طاقتوں” کو مشرق وسطیٰ میں نکیل ڈال دی اور اسے اس خطے کے عوام کی دولت کو اس کی آزادانہ لوٹ مار اور غارتگری سے روک لیا تو یقیناً ان کے لئے اسرائیل کو لگام دینا زیادہ آسان ہوگا؛ کیونکہ یہ ریاست اپنی طاقت اندرونی صلاحیتوں سے نہیں بلکہ دوسروں کی کمزوریوں سے حاصل کرتی ہے۔
“اسرائیلی طاقت” کی حقیقت وہی ہے جس سے امت مسلمہ کے عظیم جرنیل الحاج قاسم سلیمانی نے پردہ اٹھایا۔ کسی زمانے سید حسن نصر اللہ نے فرمایا تھا کہ “اسرائیل کی طاقت مکڑی کے جال کی طرح کمزور ہے” اور جنرل سلیمانی نے بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک کرلیا تھا کہ اسرائیل کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہے، جس کی بنیاد پر وہ طویل المدت تنازعات کو برداشت کرسکے، اور جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اس کا سرچشمہ اطراف کے ممالک کی کمزوری ہے۔ اسی بنیاد پر ہی شہید امت مسلمہ کے احرار سے متحد ہوئے اور مقاومتی تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ وہ مقاومت ہے جس پر حملہ کرنے کا سوچنے سے پہلے، صہیونی ریاست کو اس کے مہلک نتائج کے بارے میں ہزاروں بار سوچنا پڑتا ہے۔
جائزوں کے مطابق، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حتی امریکہ سمیت اسرائیل کے مغربی اتحادی بھی ایران کے خلاف صہیونی ریاست کی دھمکیوں کو سنجیدہ نہیں لیتے؛ بلکہ وہ ان دھمکیوں سے تھک چکے ہیں۔
“اسرائیل ایک ایسے شرارتی بچے کی طرح ہے جو پاؤں زمین پر پٹختا ہے اور والدین سے ایسی چیز مانگتا ہے جو وہ اسے فراہم نہیں کر سکتے؛ چنانچہ والدین کے پاس اس کی چیخوں کی طرف توجہ دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے؛ ایسی چیخیں جو اگر شہیدوں – بالخصوص جنرل شہید سلیمانی – کا خون نہ ہوتا تو اب تک آسمان تک پہنچ چکی ہوتیں اور کئی اقوام کو اس ریاست کے ساتھ ملنے پر مجبور کرچکی ہوتیں۔
مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دربار کے ملک الشعراء عرفی شیرازی نے کیا خوب کہا ہے:
عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیبان
آواز سگان کم نکند رزق گدا را

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*