ایران اور چین کے وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو، بحران افغانستان پر تبادلہ خیال

ایران اور چین کے وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو، بحران افغانستان پر تبادلہ خیال

چین نے کہا ہے کہ ایران کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ، دوستانہ تبادلوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تیار ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ٹیلی فونک مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان کے بحران پر تبادلہ خیال کیا۔

ریڈ چائنا انٹرنیشنل کے مطابق وانگ ژی نے کہا کہ بیجنگ نے گذشتہ 8 برسوں کے دوران چین اور ایران کے مابین تعلقات کے فروغ میں "صدر حسن روحانی" اور ایرانی حکومت کی مثبت کردار کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ چین نو منتخب صدر سید ابراہیم رئیسی اور نئی ایرانی حکومت کے ساتھ باہمی اعتماد پر مبنی دوطرفہ تعلقات کے فروغ، دوستانہ تبادلوں اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ، امریکہ کی من مانی اور غنڈہ گردی کے مقابلے کے لئے بھی ایران سمیت تمام ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ، کثیرالجہتی اور بین الاقوامی انصاف کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔

یانگ ژی نے چین کے حیاتی مفادات کی حمایت پر مبنی ایرانی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کی خودمختاری اور قومی وقار اور اس ملک کے جائز حقوق کے دفاع کے لیے اپنی کوشش کو جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے کورونا ویکسین مہیا کرنے اور کوویڈ 19 کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کرنے پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف تہران بیجنگ کے درمیان باہمی تعاون میں مزید فروغ آئے گا۔

ظریف نے کہا کہ ایران چین کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایران میں نئی ​​حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ تعلقات مزید مضبوط ہوجائیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے اس گفتگو میں افغانستان کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*