ایران اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات بڑھانے میں صدر رئیسی کی تاکید

ایران اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات بڑھانے میں صدر رئیسی کی تاکید

علامہ رئیسی نے اس ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دیرینہ اور تاریخی تعلقات ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے ایران اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں خاص طور پر ماحولیاتی اور پانی کے مسائل پر تعاون کی تقویت کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے آج بروز منگل کو تہران میں تعنیات نیدرلینڈز کے نئے سفیر "فرانسیسکوس یوہان کاریا مولن" سے ملاقات کی؛ اس موقع پر یوہان کاریا مولن نے اپنی اسناد تقرری کو رئیسی کے سامنے پیش کیا۔

علامہ رئیسی نے اس ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دیرینہ اور تاریخی تعلقات ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیدر لینڈز جیسے مہذب ملک کو آزاد ہونے سمیت دیگر جابر طاقتوں کے نقش قدم پر چلنے سے نمٹنا ہوگا۔

علامہ رئیسی نے نیدرلینڈز میں سینکڑوں مساجد کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے حقوق کا احترام، یورپ میں ثقافت اور تہذیب کو تقویت دیتا ہے۔

انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کے لیے نیدرلینڈز کی تیاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبے بالخصوص ماحولیاتی اور پانی کے مسائل میں تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ آج تسلط کے نظام نے ترقی پذیر ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے انسانی حقوق کو آلے کے طور پر استعمال کیا ہے، جب کہ ہم مذہبی اور انقلابی تعلیمات کی بنیاد پر اپنے آپ کو انسانی حقوق کا احترام کرنے کا پابند سمجھتے ہیں، جس کی ایک واضح مثال ایران میں 40 لاکھ افغانوں کی میزبانی ہے۔

اس موقع پر نیدرلینڈز کے سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ 400 سال پرانی ہے اور ایران ہمیشہ نیدرلینڈز کی اہم تجارتی منزلوں میں سے ایک رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے کا ایک طاقتور ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے بہت سے اچھے مواقع موجود ہیں۔

یوہان ماریا مولن نے افغانستان کی حالیہ تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت سارے افغانوں کی میزبانی پر اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*