ایرانی کوو "ایران برکت" ویکسین انتہائی محفوظ اور بے خطر ویکسین قرار پائی

ایرانی کوو

ایرانی ماہرین کی تیار کردہ کورونا ویکسین کوو ایران برکت کی انسانی آزمائش کے آخری مرحلے کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں اور ماہرین اسے اب تک کی انتہائی محفوظ اور بے خطر ویکسین قرار دے رہے ہیں-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران یونیوسٹی آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر کلینیکل ریسرچ  ڈاکٹر حامد حسینی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ایرانی کورونا ویکسین کوو ایران  برکت  کی  انسانی آزمائش کے اب تک کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ویکسین پوری طرح سے محفوظ اور بے خطر ہے۔

ڈاکٹر حامد حسینی نے مزید کہا کہ  ٹرائل کے دوران اس ویکسین کی سیفٹی کا پورا یقین حاصل ہوگیا ہے اور تیسرے مرحلے کے نتائج کی تکمیل کے دوران  کورونا وائرس کے خلاف اس کی تاثیر اور ایفی شینسی کا تناسب بھی واضح ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ  پہلے اور دوسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائل کے دوران اس ویکسین کی پانچ مائیکرو گرام ڈوز  استعمال کی گئی جس نے رضاکاروں میں  کورونا وائرس کے مقابلے میں بہترین قوت مدافعت پیدا کی  اور اسی کے پیش نظر تیسرے مرحلے میں بھی اسی مقدار کی ڈوز رضاکاروں کو لگائی جارہی ہے۔

 تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے  ڈائریکٹر کلینکل ریسرچ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ  لیبارٹری ٹیسٹ کے  نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ  کوو برکت ویکسین ، کورونا وائرس کے  برطانوی ویرینٹ  کو بھی  ناکارہ بنانے کی  صلاحیت رکھتی ہے۔

 ڈاکٹر حامد حسینی  کے مطابق،  تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل یا انسانی آزمائش کے دوران ایک تہائی رضاکار یہ ویکسین حاصل کریں گے اور باقی ویکسین رینڈم پروگرام کے تحت لگائی جائے گی۔

 دوسری جانب روسی کورونا ویکسین اسپوتنک وی کی چھٹی  کھیپ خصوصی طیارے کے ذریعے ایران پہنچ گئی ہے  اور ایک لاکھ  خوراکوں پر مشتمل ساتویں کھیپ جمعرات کو تہران پہنچنے  والی ہے۔

ماسکو میں ایران کے سفیر سید کاظم جلالی نے بتایا ہے  ایران نے روس کے ساتھ اسپوتنک وی کی  بیس لاکھ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اور اس کے تحت اب تک سات لاکھ  سے زائد خوراکیں ایران  پہنچ چکی ہیں  دراین اثنا ایران کی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، اب تک سات لاکھ چوالیس ہزار سے زائد لوگوں کو کورونا ویکسین کی  پہلی خوراک لگائی جا چکی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ  چورانوے ہزار کے قریب لوگ ویکسین کی دوسری خوراک بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح  ملک میں اب تک مجموعی طور پر نولاکھ اڑتیس ہزار سات سو سے زائد  خوراکیں استعمال ہوچکی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*