ایام علی (ع) اور مدافعین حرم!!!!

ایام علی (ع) اور مدافعین حرم!!!!

اب سوال یہ ہے کہ اگر ولایت کا دفاع اس قدر اہم چیز ہے تو آج ہم اس سے غافل کیوں ہیں۔؟ آج مدافعین حرم کے نام پر قاٸم اس حساسیت کے حصار کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے۔؟ جناب سیدہ زہرا سلام علیہا نے جس شجاعت، بصیرت، استقامت اور عزم و حوصلہ سے ولایت کا دفاع کیا، آج ہم میدانِ عمل میں نظر کیوں نہیں آتے۔؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہم میں سے بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ مدافعینِ حرم کی تاریخ نئی ہے جبکہ تاریخِ اسلام میں اس کے واضح شواہد موجود ہیں کہ مدافعین کی تاریخ ظہورِ اسلام سے پہلے کی ہے۔ اسلام میں سب سے پہلے مدافع نبوت رسول اللہ(ص) کے چچا جناب ابو طالب علیہ السلام ہیں۔ جناب ابو طالب علیہ السلام نہ صرف مدافع نبوت ہیں بلکہ مدافع ولایت بھی ہیں۔ آپ نے اُس وقت اپنے بھتیجے کی نصرت کا اعلان کیا، جب تمام اہل عرب نے بنو ہاشم کا باٸیکاٹ کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام کو اگر اول مدافع نبوت کہا جاٸے تو غلط نہ ہوگا۔ گویا مدافعین کی تاریخ ظہور اسلام سے ہے اور آج تک ہنوز جاری ہے۔ تاریخی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنابِ ابو طالبؑ نے قریش کے دباؤ، سازشوں، دھونس، دھمکیوں اور ان کی طرف لاحق خطرات کے مقابلے میں رسول اکرمؐ کی بےشائبہ اور بےدریغ حمایت جاری رکھی۔

گو کہ ابو طالبؑ کی عمر رسول اللہؐ کی بعثت کے وقت پچھتر برس ہوچکی تھی، تاہم انہوں نے ابتداء ہی سے آپؐ کی حمایت و ہمراہی کو ثابت کر دکھایا۔ انہوں نے قریش کے عمائدین سے باضابطہ ملاقاتوں کے دوران رسول اللہؐ کی غیر مشروط اور ہمہ جہت حمایت کا اعلان کیا۔ یعقوبی کے مطابق یہ حمایت اور محبت اس حد تک تھی کہ جناب ابو طالبؑ اور ان کی زوجہ مکرمہ حضرت فاطمہ بنت اسد (س) رسول اللہؐ کے لئے ماں باپ کی صورت اختیار کرگئے تھے۔ آپ کی رسول اللہ(ص) سے یہ الفت اور محبت محض چچا بھتیجے کی حد تک نہ تھی بلکہ آپ علیہ السلام رسول اللہ کی معرفت سے بخوبی آشنا تھے۔

مردوں میں پہلے مدافع نبوت جناب ابو طالب ہیں جبکہ خواتین میں پہلی مدافع ولایت جناب فاطمۃ الزہراء سلام علہیا ہیں۔ بعد از رحلتِ پیغمبرِ اسلام(ص) آپ سلام علیہا جس طرح ولایت کا دفاع کرتیں دکھاٸی دیتیں ہیں، اُس کی نظیر کہی نہیں ملتی۔ جب در زہراء پر آگ لاٸی جاتی ہے اور آگ کے شعلوں میں علی (ع) کو گھر سے باہر نکالا جاتا ہے، تب سیدہ زہراء سلام علیہا ابوالحسن کا دفاع کرتیں دکھاٸی دیتیں ہیں۔ چاہے وہ مدینے کا ہر در کھٹکٹانا ہو، ابوالحسن کو ہمت و حوصلہ دینا ہو، حسنین کی ڈھارس بننا ہو یا دربار جانا، ہر مقام پر جناب فاطمہ زہراء سلام علہیا کی زندگی کا حماسی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔

ہم میں سے بہت کم لوگ جناب فاطمہ زہراء سلام علیہا کی زندگی کے حماسی پہلو سے آشنا ہیں، جبکہ درحقيقت معصومین (ع) کی پوری حیات اور شخصيت کا یہ اہم جزو ہے۔ حماسہ کے معنی شدت اور سختی کے ہیں جبکہ کبھی یہ لفظ شجاعت اور حمیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جناب زہراء سلام علیہا نے بعد از رسول اللہ جس شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، اُس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ آپ خود بتایئے کہ ایک ایسی خاتون جن کے والد ابھی گزرے ہوں، محسن شہید ہوٸے ہوں، خانہ زہراء پر آگ لاٸی گئی ہو، وہ کیسے تن تنہاء ان مصاٸب کا سامنا کرسکتی ہے۔؟ ان تمام مصاٸب و درد و الم کے باوجود سیدہ (س) ابو الحسن کے ہمراہ استقامت کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑی دکھاٸی دیتی ہیں۔ یہ پہلو سیدہ (س) کی حماسی زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور آپ کو اول مدافع حرم و ولایت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ولایت کا دفاع اس قدر اہم چیز ہے تو آج ہم اس سے غافل کیوں ہیں۔؟ آج مدافعین حرم کے نام پر قاٸم اس حساسیت کے حصار کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے۔؟ جناب سیدہ زہرا سلام علیہا نے جس شجاعت، بصیرت، استقامت اور عزم و حوصلہ سے ولایت کا دفاع کیا، آج ہم میدانِ عمل میں نظر کیوں نہیں آتے۔؟ آخر کب تک ہمارے جوان جو سیدہ (س) کے محافظ بنے گمنامی کی زندگی بسر کرتے رہیں گے؟ ہمیں تو چاہیئے تھا کہ ان پاک طینیت جوانوں کے افکار کو عام کرتے، ان پر کتب مرتب کی جاتیں، ان کی مناجات کو عام کیا جاتا۔ اس کے برعکس ہم سب حساسیت کے حصار کی نظر ہوگئے ہیں۔

یومِ علی (ع) کے ان ایام میں ہمیں چاہیئے کہ جناب فاطمہ زہراء کی زندگی کے حماسی پہلو کا دقیق مطالعہ کریں، تاکہ ہمیں علم ہو کہ کیسے جناب سیدہ نے ولایت کا دفاع کیا۔ وہ آگ جس کے شعلوں میں در سیدہ تو جل گیا مگر ابوالحسن پر آنچ نہیں آٸی۔ محسن تو شہید ہوٸے، مگر ولایت کا دفاع کرتے ہوٸے ولایت کی اول محافظہ کہلواٸیں۔ جناب زہراء کی حماسی زندگی کے اس پہلو سے آشناٸی بے حد ضروری ہے، تبھی ہم مدافعین حرم کو بخوبی سمجھ سکتے اور آج کی کربلا میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، ورنہ صبح شام علی کی ولا کے دعوے ہمیں دنیا میں تو سرخرو کرسکتے مگر علی (ع) کی نظروں میں نہیں۔
آج کی کرب و بلا کے محافظ باکردار ہیں زینبیون
عزم حسینی، عزم خمینی کی للکار ہیں زینبیون
تکفیریت بھاگ رہی ہے ہم مختار ہیں زینبیون
زینب (س) کے روضے پہ شہادت کو تیار ہیں زینبیون

سویرہ بتول

...........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*