اٹلی کی کمپنیوں کو ایران سے تجارتی لین دین میں بہت دلچسبی ہے: اطالوی سفیر

اٹلی کی کمپنیوں کو ایران سے تجارتی لین دین میں بہت دلچسبی ہے: اطالوی سفیر

پرونہ نے مزید کہا کہ اٹلی ایران کا ایک اچھا شراکت دار رہا ہے اور ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ سے پہلے، اٹلی یورپ کے ساتھ تجارت کے لحاظ سے ایران کا پہلا شراکت دار تھاـ تاہم؛ اب پابندیوں سے اٹلی اور ایران کے درمیان تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات اطالوی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی طویل تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی کی کمپنیوں کو ایران سے تجارتی لین دین اور سرمایہ کاری میں بہت دلچسبی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "چوزبہ پرونہ" نے آج بروز بدھ کو شہر تبریز چیمبر آف کامرس کے سربراہ اور اراکین سے ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں اطالوی صنعت کی ترقی کے پیش نظر، ایرانی اور اطالوی تاجروں اور صنعت کاروں کے درمیان دوستانہ اور قریبی تعلقات کے قیام سے دونوں ممالک کے لیے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پرونہ نے مزید کہا کہ اٹلی ایران کا ایک اچھا شراکت دار رہا ہے اور ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ سے پہلے، اٹلی یورپ کے ساتھ تجارت کے لحاظ سے ایران کا پہلا شراکت دار تھاـ تاہم؛ اب پابندیوں سے اٹلی اور ایران کے درمیان تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اطالوی کمپنیاں اٹلی اور ایران کے درمیان تجارت کو دوبارہ شروع کرنے اور بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور پابندیوں کے باوجود اٹلی کے متعدد بینکوں نے ایرانی بینکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔

پرونہ نے مزید کہا کہ یہ بینک اس وقت ایران کے ساتھ مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں اور ان کمپنیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جو ایران میں کام کرنا یا سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مستقبل قریب میں پابندیوں کے خاتمے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری معمول پر آجائے گی۔

اطالوی سفیر نے اٹلی کی اقتصادی اور تجارتی میدان میں سرگرم ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اطالوی کمپنیوں کو ایران کی طرف دوبارہ دیکھنے، سرمایہ کاری کرنے اور ایرانی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات استوار کر کے تعاون بڑھانے کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں قائم اطالوی سفارت خانہ بھی ان تعلقات کو آسان بنانے اور قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور ایرانی کمپنیاں بھی اطالوی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے اور اس ملک کے ساتھ کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

پرونہ نے کہا کہ تبریز، یورپ اور اٹلی کے نزدیک ترین ایرانی شہر ہے اور اس شہر اور اطالوی شہروں کے درمیان تاریخی تعلقات کو دیکھتے ہوئے تاجروں اور کاریگروں کے درمیان ان تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی جانی ہوگی۔

بینکنگ مسائل نے تبریز کے تاجروں کے اٹلی کے ساتھ تعلقات کو سست کر دیا ہے

دراین اثنا تبریز چیمبر آف کامرس، انڈسٹریز، مائنز اینڈ ایگریکلچر کے سربراہ نے اس شہر کے تاجروں اور اطالوی تاجروں کے درمیان تجارتی تعلقات کی طویل تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اٹلی کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تجارتی تعلقات تھے، اور تبریز کے تاجروں میں سے ایک "فیات" کار کمپنی کو کار کے پرزے برآمد کرنے والوں میں سے ایک ہے، اور اس صوبے میں زیادہ تر کارخانوں میں اطالوی مشینیں لگائی گئی ہیں۔

"یونس ژائلہ" نے کہا کہ اس صوبے کے صنعت کار اطالوی صنعت خصوصاً فوڈ انڈسٹری سے واقف ہیں اور ایرانی تاجر بالخصوص اس صوبے میں اطالوی کمپنیوں کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھتے ہیں، لہذا؛ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک اور چیمبرز کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان مسائل میں سے ایک بینکنگ مسائل ہیں اور اطالوی بینک بھی ایران کے خلاف پابندیوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس مسئلے نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو سست کردیا ہے۔

تبریز چیمبر آف کامرس، انڈسٹریز، مائنز اینڈ ایگریکلچر کے سربراہ نے کہا کہ اٹلی کو ایران کی طرح 80 ملین کی بڑی مارکیٹ کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات بھی اٹلی کے حق میں ہوسکتے ہیں اور ان کے تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔

ژائلہ نے مزید کہا کہ ایران کے ارد گرد 500 ملین کی مارکیٹ میں پہلے ہی اچھی صلاحیت موجود ہے اور اٹلی کو صرف ایران تک محدود نہیں رہنا ہوگا کیونکہ عراق، دولت مشترکہ ممالک، افغانستان اور پاکستان میں اس کی اچھی صلاحیت ہے۔

انہوں نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ ایران توانائی کا مرکز ہونے کے پیش نظر یہ ملک یورپ بالخصوص اٹلی کے درمیان تجارت میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور اس ملک میں پیدا ہونے والی اشیا کم قیمت پر تیار کی جا سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*