اوصافِ شیعہ کلام امام صادق (علیہ السلام) کے آئینے میں (۱)

اوصافِ شیعہ کلام امام صادق (علیہ السلام) کے آئینے میں (۱)

ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ تھے جو شیعہ کہلواتے رہے ہیں اور شیعوں کی صفوں میں گھستے آئے ہیں اور اپنے غیر شائستہ طرز سلوک کی بنا پر شیعوں کی عزت و آبرو خاک میں ملانے کے لئے کوشاں رہے ہیں؛ چنانچہ گہری سوچ رکھنے والے صاحب بصیرت شیعوں کو ایسے لوگوں کا سراغ لگانا اور انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت 17 ربیع الاول سنہ 83ھ کو مدینہ میں ہوئی اور آپ سنہ 148ھ میں 65 سال کی عمر میں عباسی حکمران منصور دوانیقی کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر گئے۔
آنجناب سنہ 114ھ میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور آپ آخری اموی اور پہلے عباسی حکمرانوں کے ہم عصر تھے:
اموی حکمران:
1۔ ہشام بن عبدالملک (سنہ 105ھ سے سنہ 125ھ تک)
2۔ ولید بن یزید بن عبدالملک (سنہ 125ھ سے سنہ 126ھ تک)
3۔ یزید بن ولید بن عبدالملک ( سنہ 126ھ)
4۔ ابراہیم بن ولید بن عبدالملک (صرف 70 روز سنہ 126ھ)
5۔ مروان بن محمد المعروف بہ مروان الحمار (سنہ 126ھ سے سنہ 132ھ تک)؛ آخری اموی حکمران۔
عباسی حکمران:
1۔ عبداللہ بن محمد المعروف بہ سفّاح (سنہ 132ھ سے سنہ 137ھ تک)
2۔ منصور دوانیقی (سنہ 137ھ سے سنہ 158ھ تک)
آخری اموی حکمرانوں کے دور اقتدار کے لئے اٹھنے والی عباسیوں کی شورش اور اموی بادشاہت کے زوال کا دور تھا۔ اس دور میں امام صادق (علیہ السلام) کو فکری، علمی اور تہذیبی فائدہ اٹھانے کا بھرپور موقع ملا اور آپ نے اس زمانے میں مختلف علوم کے فروغ کو مطمع نظر بنائے رکھا اور ہزاروں شاگردوں کی تربیت کا اہتمام کیا۔
شیعہ کا تعارف
آج، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) اور ان کے پیروکاروں کے درمیان حائل طویل عصری فاصلہ ایک طرف سے، دوسری طرف سے اجنبی ثقافتوں کی یلغار اور تیسری طرف سے بعض انحرافات اور تحریفات، خرافات اور ناخواستہ تبدیلیوں کی وجہ سے شیعہ مکتب اور اس کی ثقافت شیعیان آل رسول (صلوات اللہ علیہم) کے رویوں اور ثقافت میں تبدیلیاں آئی ہیں؛ یہاں تک کہ کئی لوگ صرف شیعہ کہلانے اور اہل بیت سے محبت رکھنے کو اپنی نجات کا سبب گردانتے ہیں خواہ وہ بے شمار گناہوں کے مرتکب کیوں نہ ہوئے ہوں؛ حالانکہ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے جابر جعفی سے مخاطب ہوکر فرمایا:
"يَا جَابِرُ! وَاللَّهِ مَا يُتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا بِالطَّاعَةِ، وَمَا مَعَنَا بَرَاءَةُ مِنَ النَّارِ وَلَا عَلَى اللَّهِ لِأَحَدٍ مِنْ حُجَّةٍ، مَنْ كَانَ لِلَّهِ مُطِيعاً فَهُوَ لَنَا وَلِيُّ وَمَنْ كَانَ لِلَّهِ عَاصِياً فَهُوَ لَناعَدُوٌّ، وَمَا تُنَالُ وَلَايَتُنَا إِلَّا بِالْعَمَلِ وَالْوَرَعِ؛ (1)
خدا کی قسم! کوئی بھی اللہ کی درگاہ کا مقرب نہیں بن سکتا سوا یہ کہ بندگی اور طاعت کے ذریعے، اور ہمارے پاس دوزخ کی آگ سے بچاؤ کا برات (یعنی چھٹکارے کی کوئی سند) نہیں ہے اور نہ ہی اللہ پر [کچھ منوانے کے لئے] ہمارے پاس کوئی حجت ہے؛ تو جو اللہ کا فرمانبردار و اطاعت گزار ہے وہ ہمارا [بھی] دوست ہے اور جو اللہ کا نافرمان ہے وہ ہمارا دشمن ہے؛ اور [جان لو کہ] کوئی بھی ہماری ولایت تک نہیں پہنچنا سوا اس کے عمل صالح انجام دے اور حرام سے دوری اختیار کرکے رکھے"۔
چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شیعیان اہل بیت کے حقیقی اوصاف کو امام جعفر صادق (علیہ السلام) - جو حق کے سوا کچھ نہیں بولتے اور اپنے پیروکاروں کی اصلاح اور تعمیری کردار پر انتہائی حساسیت کے ساتھ زور دیتے رہے ہیں - کے مکتب میں تلاش کریں اور اپنے اعمال و کردار ایک بار پھر غور کریں؛ تاکہ ہم اور اپنے اور آج کے معاشرے کے اعمال ان اوصاف و خصوصیات کی کسوٹی پر پرکھ سکیں۔
۔۔۔۔۔
تمہیدی حدیثیں
حُبِّ اہل بیت (علیہم السلام)
امام جعفر صادق (علیہ السلام) عبداللہ بن جُنْدَب سے فرماتے ہیں:
"يَا ابْنَ جُنْدَبٍ! صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ، وَسَلِّمْ عَلَى مَنْ سَبَّكَ، وَأَنْصِفْ مَنْ خَاصَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ كَمَا أَنَّكَ تُحِبُّ أَنْ يُعْفَى عَنْكَ، فَاعْتَبِرْ بِعَفْوِ اللَّهُ عَنْكَ، أَلَا تَرَى أَنَّ شَمْسَهُ أَشْرَقَتْ عَلَى الْأَبْرَارِ وَالْفُجَّارِ وَأَنْ مَطَرَهُ يَنْزِلُ عَلَى الصَّالِحِينَ وَالْخاطِئِينَ؛ (2)
اے جندب کے بیٹے! جس نے تم سے تعلق توڑ دیا ہے، اس کے ساتھ تعلق جوڑ دو؛ جس نے تمہیں محروم کیا ہے اس کو عطا کرو؛ جس نے تم سے برا سلوک کیا ہے اس کے ساتھ اچھائی کرو؛ جس نے تمہیں گالی دی ہے، اس کو سلام کرو؛ جس نے تم سے دشمنی کی ہے اس کے ساتھ منصفانہ سلوک روا رکھو؛ جس نے تم پر ظلم کیا ہے اس سے درگذر کرو؛ جس طرح کہ تم پسند کرتے ہو کہ دوسرے تم سے درگذر کریں، اور تمہیں معاف کریں، تم بھی دوسروں سے درگذر کرو اور انہیں معاف کرو۔ اپنے بارے میں اللہ کی عفو و بخشش سے سبق حاصل کرو [یعنی جس طرح کہ اللہ تم سے درگذر کرتا ہے، تمہیں گناہوں کی سزا نہیں دیتا، اور تم سے اپنی نعمتوں کو منقطع نہیں کرتا، تم بھی لوگوں کو معاف کرو؛ بالخصوص اگر وہ لوگ اپنے عزبز و اقربا اور اپنے ایمانی بھائی ہوں]۔ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ کا سورج نیکوں اور کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کا سورج کا اشراق (و طلوع) نیکوکاروں اور اور بدکاروں پر [یکسان] ہوتا ہے اور اس کا مینھ نیکوکاروں اور اور گنہگاروں پر [یکسان] برستا ہے؟"۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهِ عَلَيهِ وَآلِهِ: لاَ يَدْخُلُ اَلْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ كَانَ مُسْلِماً فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اَللَّهِ وَمَا اَلْإِسْلاَمُ فَقَالَ اَلْإِسْلاَمُ عُرْيَانٌ وَلِبَاسُهُ اَلتَّقْوَى وَشِعَارُهُ اَلْهُدَى وَدِثَارُهُ اَلْحَيَاءُ وَمِلاَكُهُ اَلْوَرَعُ وَكَمَالُهُ اَلدِّينُ وَثَمَرَتُهُ اَلْعَمَلُ اَلصَّالِحُ وَلِكُلِّ شَيْءٍ أَسَاسٌ وَأَسَاسُ اَلْإِسْلاَمِ حُبُّنَا أَهْلَ اَلْبَيْتِ؛ (3)
پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: جنت میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ وہ مسلمان ہو؛ تو ابوذر نے پوچھا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اسلام ہے کیا؟ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اسلام عریاں ہے اور اس کا لباس تقویٰ اور پرہیز گاری ہے، اور اس کا نصب العین ہدایت ہے اور اس کا پردہ حیا ہے؛ اور اس کا معیار پرہیزگاری داری ہے، اس کا کمال دین اور دین داری ہے، اور اس کا ثمرہ عمل صالح ہے، اور ہر چیز کی ایک بنیاد و اساس اور اسلام کی اساس و بنیاد ہم اہل بیت کی محبت ہے"۔
اور بے شک حب اہل البیت (علیہم السلام) کی اپنی شرطیں ہیں جن میں سے بعض کو اگلی سطور میں بیان کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔
اہل تشیّع کی قسمیں
ہمیشہ یہی کچھ تھا اور ہمیشہ یہی کچھ ہے کہ شیعہ ہونے اور ولایت پذیری کے دعویداروں کی کوئی کمی نہیں تھی اور لیکن حقیقی اور امامت پذیر اور ا‏ئمہ معصومین (علیہم السلام) کے عملی پیرو شیعہ کم تھے اور کم ہیں۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مختلف قسموں کی تشریح کرکے حقیقی شیعوں کو تشیّع کے مدعیوں سے ممتاز کردیا ہے؛ فرماتے ہیں:
"الشِّيعَةُ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صِنْفُ يَتَزَيَّنُونَ بِنَا، وَصِنْفُ يَستَأكِلُونَ بِنَا، وَصِنْفُ مِنَّا وَإِلَيْنَا، يَأْمَنُونَ بأمننا وَيَخافُونَ بِخَوْفِنا لَيسُوا بِالْبُذُرِ المُذِيعِينَ وَلَا بِالْجُفَاةِ الْمُرَاءِينَ إِنْ غَابُوا لَمْ يُفْقَدُوا وَإِنْ يَشْهَدُوا لَمْ يُؤْبَهُ بِهِمْ أُولَئِكَ مَصَابِيحُ الهدی؛ (4)
شیعہ تین قسم کے ہیں: ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو ہمارے ذریعے سے اپنے آپ کو مزین کرتے ہیں [اور ہمیں اپنی عزت و آبرو کا وسیلہ بناتے ہیں]، ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو ہمارے ذریعے سے کھاتے پیتے ہیں [اور ہمیں اپنی آمدنی، دنیاوی زندگی اور معیشت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں] اور ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو ہم سے ہیں اور ہماری طرف ہیں، ہمارے امن و سکون سے سکون پاتے ہیں، ہمیں خوف و خطر کا سامنا ہو تو خوف و خطر میں مبتلا رہتے ہیں؛ [رازوں کے بوئے ہوئے] دانوں کو بکھیرتے نہیں ہیں، ظالموں اور جابروں کے سامنے خودنمائی نہیں کرتے؛ اگر چھپے ہوئے ہوں تو کوئی ان کو تلاش نہیں کرتا اور اگر ظاہر و آشکار ہوں تو کوئی ان پر دھیان نہیں دیتا؛ [شہرت اور نام و نمود سے گریزاں، اور معاشرے میں گم نام ہیں] یہی لوگ ہدایت کے چراغ ہیں"۔
نیز فرماتے ہیں:
"الشِّيعَةُ ثلاثٌ: مُحِبٌّ وادٌّ فهُو مِنّا، ومُتَزَيِّنٌ بنا ونحنُ زَينٌ لِمَن تَزَيَّنَ بنا، ومُستَأكِلٌ بِنَا الناسَ، ومَنِ استَأكَلَ بِنَا افتَقَرَ؛ (5)
شیعوں کی تین قسمیں ہیں، وہ جو ہمارے حبدار دوست ہیں؛ اس طرح کے شیعہ ہم سے ہیں؛ اور وہ جو ہمارے وسیلے سے بنتے سنورتے ہیں اور ہم ان کی آراستگی کا ذریعہ ہیں، اور وہ جو ہمارے وسیلے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں [یا ہمارے ذریعے سے لوگوں سے مانگ کر کھاتے ہیں]؛ اور جو ہمیں ذریعۂ معاش بنائے وہ محتاج ہو جاتا ہے"۔
مکتب کے پیروکاروں ميں کی صفوں میں دشمن کے درانداز
البتہ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ تھے جو شیعہ کہلواتے رہے ہیں اور شیعوں کی صفوں میں گھستے آئے ہیں اور اپنے غیر شائستہ طرز سلوک کی بنا پر شیعوں کی عزت و آبرو خاک میں ملانے کے لئے کوشاں رہے ہیں؛ چنانچہ گہری سوچ رکھنے والے صاحب بصیرت شیعوں کو ایسے لوگوں کا سراغ لگانا اور انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اس نکتے کو توجہ دیتے ہوئے جناب ابو جعفر محمد بن النعمان الاحول (رحمہ اللہ) سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
«يَابْنَ النُّعْمان! إنّا أهْلُ بَيْتٍ لا يَزالُ الشَّيْطانُ يُدْخِلُ فينا مَنْ لَيْسَ مِنّا وَلا مِنْ أهْلِ ديننا فَإذا رَفَعَهُ وَنَظَرَ إليْهِ النّاسُ أمَرَهُ الشّيْطانُ فَيُكَذّبُ عَلَيْنا وَكلّما ذَهَبَ واحِدٌ جاءَ آخَرُ؛؛(6)
اے فرزندِ نعمان! ہم وہ گھرانہ ہیں شیطان نفوذی (infiltrative) شخص گھسا دیتا ہے، جو نہ ہم سے ہے نہ ہمارے خاندان سے، تو جس وقت شیطان اس کو شہرت دلاتا ہے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے کہ ہم پر جھوٹ باندھے۔ اور جب وہ چلا جاتا ہے تو دوسرا نفوذی داخل ہوجاتا ہے"۔

جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*