انسانیت کے علمبردار حضرت امام خمینیؒ

انسانیت کے علمبردار حضرت امام خمینیؒ

امام خمینی ؒ اتحاد بین المسلمین کے سب سے بڑے علمبردار تھے ۔آپ نے مسلم امہ کو متحد کرنے کی جو پالیسی مرتب کی تھی اگر مسلم امہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہوتے تو دنیا کی کوئی بھی طاغوتی قوت مسلمانوں کی طرف میلی آنکھ اٹھانے کی جسارت بھی نہیں کرسکتی تھی

تحریر مجتبیٰ علی شجاعی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بیسویں صدی کے ایک عظیم اور تاریخ سازشخصیت ۔ظلم وجہالت،بربریت اوربدترین تہذیب وتمدن سے نجات دلانے والے ،دین اسلام پر ایمان کامل رکھنے والے،پختہ عزم ،قوی حوصلہ اور بلند افکارات کے حامل ،انصاف اور انسانیت کے علمبردار،عظیم فقیہ اور ممتاز سیاست مدار حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ خمینی ؒ تین دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی عظیم الشان کارناموں ،بلند افکارات،ممتاز نظریات اور بے باک تجربات کی صورت میں زندہ وپائندہ ہےاور تادیرسرمشق عمل بن کر نسلوں کو فکری تربیت اور نظریاتی رہنمائی کرتے رہیں گے۔
امام خمینی سراپا اسلامی اخلاق کا آئینہ دارہے کوئی حادثاتی لیڈر نہیں بلکہ بہ یک وقت ایک مفکر ،ایک مدبر ،ایک مجاہد،ایک فقیہ بھی اور ایک ایسے سیاستدان ہیں جس نے سیاست کے سیاروں پہ کمندیں ڈالیںاور ایسا کارنامہ انجام دیا جس سے دنیا بھر کے بڑے سے بڑے سیاستدان انگشت بہ دندان ہے۔حضرت امام خمینی ؒ نے اپنے آبا واجداد کی طرح دینی سماجی اور سیاسی خدمت گزاری میں حیات اقدس کا ایک ایک لمحہ صرف کیا۔امام خمینی کی توانائیاںعلوم الٰہی کی گتھیاں سلجھانے اور بین الاقوامی سطح پر اسلامیت کی نمائندگی میںصرف ہوئی ۔
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ امام خمینی ؒکے آباؤ واجداد کا تعلق نیشابور سے تھا ۔تیرہویں اجداد کا نام سید حیدر اردبیلی کردیؒ تھا جو زمانہ کے ممتازشخصیات میں شمار کئے جاتےتھے۔یہ اپنے چچا امیر کبیر حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ سے دین حق کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کی غرض سے سرزمین کشمیر تشریف لائے۔حضرت امیر کبیرؒ سید حیدر کے سسر بھی تھے ۔انہوں نے کشمیر میں اسلام کی تبلیغ اور اس کے نشر واشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔۷۶۶ ہجری میں اردبیلیؒ نے کشمیر میں اسلام کی تبلیغ کے لئے ایک کارواں کی قیادت کی اس کارواں کو میر سید علی ہمدانی نے ہندوستان بھیجا تھا۔ اس کے بعد اس کے اولاد پوتوں اور پڑپوتوں نے اپنے والد محترم کے اس مشن کو جاری رکھا ۔یہاں تک کہ امام خمینی ؒ کے دادا سید احمد جس کو سید ھندی کے نام سے جانا جاتا تھا کشمیر میں متولد ہوئے ۔جنہوں نے بعد میں مقدس مقامات کی زیارات کے لئے کشمیر سے عراق سفر کیا۔وہاں قیام کے دوران سید احمد کی ملاقات خمین کے ایک شخص یوسف خان فرفھانی سے ہوئی۔جس نے سید ھندی کو خمین آنےاور وہاں لوگوں کی رہنمائی کرنے کی دعوت دی جس کو سید ھندی نے قبول کیا۔انہوں نے خمین میں جائیداد خریدی اور خمین ہجرت کے بعد سید احمد نے یوسف خان کی بہن(سکینہ) سے شادی کی ۔سید احمد کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ۔بیٹے کا نام سید مصطفیٰ تھا جو ۲۹رجب1278میں خمین کے اس متقی اور پرہیزگار گھرانے میں متولد ہوئے۔سید مصطفیٰ خمینی بھی زمانہ کے مشہور فقہا میں گردانے جاتے تھے۔سید مصطفیٰ مرحوم آیت اللہ شیرازی کے ہم عصر تھے ۔ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی بعد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے نجف اشرف کا سفر کیا ۔سید مصطفیٰ نے علمی میدان میں کمال حاصل کرکے اجتہاد کا درجہ حاصل کیا۔اور نجف سے واپس آکر اپنے علاقے میں دینی امور کی انجام دہی میں لگ گئے لیکن امام خمینی ؒ کے والد محترم بھی سیاست کو کافی نزدیکی سے دیکھتے تھے اور ملکی حالات پر کافی گہری نظر رکھے ہوئے تھے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ملک ومعاشرہ میں ہورہی زیادتیوں ،ناانصافیوں اور ظلم وتشدد کے خلاف وقتاً فوقتاً آواز اٹھائی۔یہی وجہ بنا کہ مرحوم سید مصطفیٰ خمینی ؒ کو شاہ کے کارندوں نے حملہ کرکےپُر اسرار طور پر شہید کردیا۔اس وقت امام خمینی ؒکا سن چھ سے آٹھ ماہ کا تھا جب شفقت پدری سے محروم ہوگئے ۔لیکن والدہ ماجدہ نے ہمت نہ ہاری بلکہ دیگر اولادوں کے ساتھ ساتھ امام خمینی ؒ کی ایسی تربیت کی جس کی مثال ملنا باردیگر محال ہے۔امام کی والدہ گرامی کا نام ھاجرہ آغا خانم تھا۔جو اس زمانہ کے مشہور فقیہ مرزا مرزا آاغا احمد مجتہد کی صاحب زادی تھی ۔امام خمینی ؒ نے بھی ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے میں حاصل کی مزید تعلیم کے لئے اراک اور قم کا سفر کیا اور قابلیت کا لوہا منوا کر اجتہاد کا اعلیٰ درجہ حاصل کیا۔چونکہ مصطفوی خاندان علم وادب کا گہوراہ تھا لہذا امام خمینی ؒ کے بردارآغا سید مرتضیٰ ( آیت اللہ پسندیدہ ) نےامام کی تعلیم وتربیت میں اہم کردار ادا کیا ۔مرحوم پسندیدہ امام کے اولین اساتذہ میں سے تھے جنہوں نے امام کو منطق اور دیگر علوم سے سیراب کرایا۔امام خمینی ؒ نے علوم دینیہ میں اختصاص کمال حاصل کیا اور سیاسی میدان میں بھی ایسے نقوش چھوڑے جو ہمہ جہت مثالی ہے۔حضرت امام خمینی ؒ کی شادی میرزا محمد ثقفی کی دخترخدیجہ ثقفی سے ہوئی جس کے بطن سے آٹھ بچے پیدا ہوئے جن میں سے تین اولاد پہلے ہی رحمت حق ہوگئے ۔دیگر اولادوں کے نام آیت اللہ مصطفیٰ خمینی ؒ ،صدیقہ مصطفوی،فریدہ مصطفوی،زہرا مصطفوی اور حجۃالاسلام احمد خمینی ؒ ہیں۔امام خمینی کی شریک حیات خدیجہ ثقفی نے جدوجہد آزادی میں امام خمینی ؒ کو بھر پور ساتھ دیا ۔اپنے سسر یعنی سید مصطفی خمینی اور اپنے بیٹے کی شہادت سے ذرا برابر بھی خوف وڈر محسوس نہ کیا بلکہ ان صدموں کو برداشت کرکے مقدس تحریک پر قربانیوں کا انبار پیش کیا۔
خاندان مصطفوی میں امام خمینی کی پرورش ایسی ہوئی تھی کہ صحیح وقت پر صحیح محاذ پر لڑنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔ایران کی سماجی اور سیاسی صورتحال ،اپنے والد کی شہادت اور علماو حق پرست طبقہ کی بے حرمتی نے آپ کی زندگی کوبڑی حد تک متاثر کیا۔سب سے اہم واقعہ آیت اللہ سید حسن مدرس کی گرفتاری کا تھا۔اسی طرح جب ملعون نے قم کے مدرسہ کو ختم کرنے کے لئے علما کے لئے سرکاری امتحان کا آمرانہ حکم جاری کیا ۔امام خمینی ؒ نے ان ناانصافیوں کو برداشت نہیں کیا اور جرائت وبہادری کے ساتھ آواز اٹھا کر پس پردہ مقاصد کو بے نقاب کیا۔حکومتی کے مسلح کارندوں نے جب مدرسہ فیضہ پر دھاوا بول دیااور بڑی تعداد میں دینی طلبا کو شہید اور مضروب کردیا ۔تو امام خمینی ؒ نے جوانمردی کے ساتھ مشہور شعار ’’شاہ دوستی یعنی غارتگری‘‘ بلند کیا ۔جو امام خمینی کے تیز ترین اور با اثربیانات میں سے ایک مانا جاتا ہےا ۔حکومتی خونخوار ایجنسی ’’ساواک‘‘ نے امام کو اسرائیل اور شاہ کے خلاف بیانات نہ دینے کی دھمکی دی۔لیکن امام خمینی نے عاشورا کے موقع پر شاہ اور اسرائیل کی مداخلت پر کڑی تنقید اور مخالفت کی ۔اسی رات امام خمینی ؒ کو گرفتار کرکے تہران بھیجا گیا ۔لیکن عوامی مزاحمت نے حکومت کو امام کی رہائی پر مجبور کردیا ۔اور امام کو رہا کردیا گیا۔17اپریل1967کو ایران کے مدارس کے نام مصلح ملت امام خمینی ؒ نے ایک پیغام نشر کیاجس کا اردو متن یوں ہے۔’’میں آپ حضرات اور اہل ایران کو یقین دلاتا ہوں کہ نظام ناکام ہوجائے گا ان کے پیش رؤں کو اسلام نے تھپڑ مارا ہے انہیں بھی تھپڑ لگے گا ۔پس ثابت قدم رہو اور ظلم کے آگے نہ جھکنا‘‘۔
سرزمین ایران یورپی بیہودہ تہذیب وتمدن کی زد میں پوری طرح آچکی تھی۔شاہی کارندوں اور عیاش پرست عناصر کی جانب سے اسلامی اور ایرانی تہذیب وتمدن کا مذاق اڑایا جارہا تھا۔یہاں تک کہ پردہ کو عیب سمجھا جارہا تھا۔۔امام خمینیؒ ایران بلکہ پوری دنیا کی سیاسی صورتحال اورپیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ پہلوی حکمرانوں کے طرز عمل نے امام خمینی ؒ کو چین سے بیٹھنے نہ دیا ۔ان واقعات وسانحات نے امام خمینی ؒ کی تحریک کے پھیلاو میں نمایاں کردار ادا کیا۔جب جون 1967اسرائیل عرب چھ روزہ جنگ کا آغاز ہوگیا تو امام خمینی نے اسلامی حکومتوں اور اسرائیل کے درمیاں کسی بھی لین دین تجارت اور سیاسی تعلقات کی حرمت اور اسلامی معاشروں میں اسرائیلی اشیا کے استعمال کے حوالے سے انقلابی فتویٰ جاری کردیا اس فتوے سے امریکہ برطانیہ اور اس کے حواری بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ۔
امام خمینی ؒ کی نقل وحمل پر پابندیوں کا سلسلہ زور پکڑتا گیا ۔ اس عظیم الشان قائد کو ڈرانے اور تحریک انقلاب کو دبانے کے لئے عالمی سطح پر سازشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔آخرکار جب تمام منصوبے ایک ایک کرکے ناگام ہوگئے توجابر حکمرانوں نے امام خمینی ؒ کو جلاوطن کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ۔امام خمینی ؒ عراق چلے گئے لیکن اپنا مشن شد ومد سے جاری رکھا ۔ان کھٹن اور مشکل ترین ایام میں بھی مجاہدین حق اور ایرانی ذی شعور طبقہ کے ساتھ رابطہ میں رہے اور انہیں ثابت قدم رکھنے کے لئےان کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔بت شکن امام خمینی ؒکے پیغامات کورئیر ،ٹیپ ریکارڈراور دیگر ذرائع سے ایرانی غیور عوام تک پہنچتے تھے جنہوں نے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کا کام گیا۔
مرد آہن کی تدبیروں نے ایرانی پہلوی حکومت اور اس کے آقاؤں کی نیندیں حرام کردی تھی لہذا انہوں نے عراق سے امام خمینی ؒ کو نکالنے کا منصوبہ بنایا ۔نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ اور اس کے عراقی ہم منصب کے ملاقات میں امام راحل ؒ کو عراق سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔1978میں عراقی سیکورٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امام خمینی ؒ کو عراق میں ان کے قیام کی شرط جنگ بندی رکھ دی لیکن امام نے سختی سے جواب دیا کہ وہ اس سمجھوتہ کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتا ہے۔امام خمینیؒ کو عراق سے نکالا گیا اور امام نجف سے کویت جانے کا ارادہ کیا لیکن کویتی حکومت بھی یورپین کٹھ پتلی تھی لہذا انہوں نے بھی ایرانی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے امام راحل ؒ کو ملک میں داخل ہونے سے روکا ۔امام خمینی پیرس چلے گئے امام خمینی نے پیرس کے علاقے نوفل لوشاتو میں ایک ایرانی نژاد کے گھر میں سکونت اختیار کی۔نوفل کا علاقہ دنیا میں خبروں کا مرکز مانا جاتا تھا ۔لہذا امام خمینی ؒ کو بھی اسلامی تحریک کے اہداف واضع کرنے کا بہترین موقع ملا ۔مختلف ملاقاتوں اور مختلف انٹرویوز میں امام خمینی ؒ نے اسلامی حکومت کی تشکیل اور تحریک کے مستقبل کے اہداف کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔دنیا بھر خاص طور پر ایران کے لوگ ان کی فکر سے آشنا ہوئے ۔تحریک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے منازل طے کرنے لگی ۔چار مہینے کے بعد ایرانی غیور عوام کے اسرار پرامام خمینی ؒ ایران واپس تشریف لے گئے ۔11فروری1979کا مبارک دن تھا کہ اسلامی انقلاب کا سورج بڑی آب وتاب کے ساتھ ایرانی افق پر نمودار ہوا۔ایران میں حکومت الٰہی قائم ہوگئی اور ہزاروں سالہ شہنشاہیت کا قلعہ زمین بوس ہوگیا۔
صحیح معنوں میں امام خمینی ؒ فرد واحد نہیں بلکہ ایک عہد ایک مکتب اورتاریخ ہے جس نے قوم کی تقدیر کا محافظ بن کر نہ فقط ایران بلکہ دنیا بھر میں اسلام اور انسانیت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے لگایا ۔امام خمینی ؒ درحقیقت شجاعت،بہادری،جوانمردی ،عزم واستقلال،صبراورحریت کا دوسرا نام ہے جس نے دنیا بھر کے استکبار کو اپنی وسیع نظریات اور بلند افکارات سے للکارا اور فرعونیت،چنگیزیت،نمرودیت اور یذیدیت کے بدنما چہرے پر ایسی تھپڑ رسید کی جس سے یہ شیطانی قوتیں ابھی بھی حواس باختہ ہیں۔مرد آہن بت شکن حضرت امام خمینی ؒ نے طوفانوں کے رخ موڑ کر اسلام اور انسانیت کو جابروں ،ظالموں اور درندہ صفت حکمرانوں سے آزاد کروایا اور آزاد کرانے کا سلیقہ سکھایا۔آج اگر مسلم دنیا میں القدس لنا کے فلک شگاف نعرے بلند ہورہے ہیں یہ امام خمینی ؒ کی دین ہے جس نے مسلکی معاملات کو بالائے طاق رکھ کر فلسطینی مسلمان بھائیوںکی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی کے لئے یوم القدس کا تاریخ ساز فتویٰ جاری کیا۔اسی طرح دنیا بھر کے مظلوم و مستضعف قوموں خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر کے ماننے والے ہو کے حق میں آواز بلند کی ۔
امام خمینی ؒ اتحاد بین المسلمین کے سب سے بڑے علمبردار تھے ۔آپ نے مسلم امہ کو متحد کرنے کی جو پالیسی مرتب کی تھی اگر مسلم امہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہوتے تو دنیا کی کوئی بھی طاغوتی قوت مسلمانوں کی طرف میلی آنکھ اٹھانے کی جسارت بھی نہیں کرسکتی تھی۔مصلح ملت حضرت امام خمینی ؒ نظر ایک دور اندیش مفکر تھا جس نے اسرائیل کےناپاک وجود کے ایام میں ہی کہا تھا کہ اگر مسلمان ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر پھیر دیتے تو اسرائیل سیلاب میں بہہ کر نیست ونابود ہوگا۔امام خمینیؒ اسلامی تاریخ کی ایک ناقابل فراموش شخصیت کا نام ہے۔امام راحل گھٹا ٹوپ اندھیرے میں قندیل رہبانی کی حیثیت رکھتے تھے۔اتنی شہرت و عظمت کے باوجود اس عظیم ترین شخصیت نے جو سادہ روش اختیار کی وہ قابل ستائش ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امام راحل حضرت امام خمینی ؒ کی شخصیت روحانی بالیدگی کی علامت ہے۔ایسا فقیہ ،عالم ،مبلغ ،مصنف اور سیاستدان صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔آج امام خمینی ؒ کی33ویں برسی پر اس عظیم الشان قائد کوہم سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*