ایک مختصر جائزہ

امیر المومنین حضرت علی ابن ابیطالب(ع) کا فلسفہ زندگی

امیر المومنین حضرت علی ابن ابیطالب(ع) کا فلسفہ زندگی

مولا علی ؑ کا فلسفہ زندگی وہی ہے جو رسول اللہ (ص) کا فلسفہ زندگی تھا۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین کا نفاذ، اسلام کا دفاع، عدل ا نصاف کا نفاذ، مظلومین اور بے سہاروں کی امدا د کرنا، حسن اخلاق، اتحاد کے حامل، کافروں پہ بھاری، اور قرآن کی عملی تعلیمات کا پرچار ہی ان کی فلسفہ زندگی کا نچوڑ ہے۔ آخر میں مولا علی ؑ کے اس حدیث مبارک سے اختتام کرتے ہیں۔ مولا فرماتے ہیں کہ ’’خدا کی رحمت ہو اس بندے پر جو یہ جانتا کہ کہاں سے آیا ہے؟ کس مقصد سے آیا ہے؟ اور کہاں جانا ہے؟ اللہ تعالی ٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔

 بقلم برکت حسین پرہ 

ریسرچ اسکالر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انسان کی ہمت اور ارادہ جتنا بلند ہوتا ہے اتنا ہی اس کی شخصیت کی قدر و قیمت روشن ہو جاتی ہے ۔ اور اسی سے انسان کی طرز زندگی اور طرز عمل میں پختگی آتی رہتی ہے ۔ ہمارے جینے اور دنیا میں آنے کا مقصد اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کون سے اصول اپنائیے ۔انہی اصولوں کا نام فلسفہ زندگی ہے۔ فلسفہ کے تین بنیادی اصول یا شاخیں ہوتی ہیں ۔ ما بعدالطبعیات، علمیات اور اقدار۔ انہی پہلوؤں سے انسان اپنی زندگی کا راستہ طے کرتا ہے۔ پہلے رکن میں کچھ بنیادی سوالات کا جواب کھوجنھے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے ہم کون ہے؟ ہم کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس دنیا کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ موت و زندگی کیا ہے؟ ہمارے زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ۔۔۔ ان سارے سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے مابعد الطبعیات کی طرف رجوع کرنا پڑتاہے؟ دوسرے رکن میں علم سے متعلق جانکاری حاصل کی جاتی ہے؟ علم کیا ہے؟ اس کے ذاریع کون کون سے ہے؟ حقیقت علم کیا ہے؟ تیسرے رکن میں اقدار و اخلاق سے متعلق گفتگو کی جاتی ہے۔ خیر کیا ہے ؟ شر کیا ہے؟ اچھائی اور برائی میں کیا فرق ہے؟ ان سارے پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک انسان اپنا ایک لائحہ عمل تیار کرتا ہے جس پہ وہ عمل کر کے اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے اور اپنی زندگی کا حقیقی مقصد پانے کی کوشش کرتا ہے۔ امیر المومنین علی ابن ابیطالب ؑ کی ذات گرامی بعد از خدا و رسول اللہ (ص) اس دنیا کی کامل ترین شخصیت ہے۔ اور اس شخصیت کے فلسفہ زندگی کو چند اوراق پہ روشن کرنا حماقت و نادانی ہے۔ بہرحال اپنی کم علمی اور کم ظرفی کا اعتراف کرتے ہوئے مولا ؑ کی بارگاہ میں خراج تحسین کے طور پر یہ ہدیہ پیش کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔امام علی ؑ کے فلسفہ زندگی و موت کو درجہ ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔
ایمان بالاللہ:
زندگی کی جہت کو سنوارنے کا سب سے پہلا اصول توحید پرستی ہے۔ یہ توحید ہی ہے جس کے ذریعہ انسان کے باقی سارے کام انجام پاتے ہیں۔ لہذا جو جتنا خدا کے قریب ہو گا وہ اتنا ہی توحید پرست ہو گا۔ امام علی ؑ کی پیدائش ہی اللہ کے گھر یعنی خانہ کعبہ میں ہوئی۔ لہذا ان کے با ایمان ہونے میں ذرا بر بھی شک نہیں۔ البتہ دنیاوی اعتبار سے سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں امام علی ؑ سر فہرست ہے۔ ان کی پوری زندگی توحید پرستی پہ مبنی ہے ۔ نجی معاملات ہو یا سرکاری، اخلاقی امور ہو یا فلسفی، علمی احکام ہو یا فقہی یعنی ہر شعبٔہ حیات میں وہ توحید سے بھر پور ہے۔یہاں تک کہ جنگی معاملات میں بھی مولا علی ؑ الہی اصولوں کے پابند تھے ۔ میدان جنگ میں مرحب جیسے پہلوان اور دشمن پہ فتح پانے کے باوجود اس کے سینے سے اس لئے اتر آئے تا کہ جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی انا کا عنصر شامل نہ جائے۔ دعائے کمیل اور مناجات امیر المومنین جیسے دعائیں توحید کے شاہکار سے بھری ہوئی ہیں۔ ایک امت کا امام ہونے کے باوجود امام علی ؑ رعایا کا خاص خیال رکھتے تھے۔ وہ دن رات لمحہ بھی بغیر توحید کے نہیں رہے۔ اس سے بہتر اور کیا مثال ہوسکتی ہے اللہ تعالی نے خود اپنی مرضی کو ان کے حوالے کرے اور محمد (ص) جیسا رسول اس کو اپنا جانشین بنا کر جائے۔ یہ ایمان بالاللہ ہی ہے جسے انسان توحید کے اعلیٰ کمالات و درجات کو طے کرسکتا ہے۔ اورامام علی ؑ نے یہ مقام بہت ہی کم عمری میں حاصل کیا تھا۔
مظلومین و مستعضفین کی آماجگاہ:
انسان کی زندگی کا اہم اخلاقی اصول کمزور و ناتواں طبقے کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ امیر اور دولت مند لوگوں سے سبھی رابطہ بنانا چاہتے ہیں ، لیکن حقیقی رہبر وہی ہے جو الہی اصول کو ملحوظ نظر رکھ کر سب کو ایک نظر سے دیکھے۔ جیسے کہ قرآن مجید بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت حاصل نہیں اگر ہے تو وہ تقویٰ و پرہیز گاری کی بنا پر ہے۔ امام علی ؑ کے چار سالہ حکومت میں کوئی مظلوم اور مستعضف ایسا نہیں جس کو ان کے حقوق نہ ملے ہوں۔ امیر المومنین علی ؑ نہ صرف مسلمانوں کا خیال رکھتے تھے بلکہ دیگر طبقہ کے لوگو ں کے حقوق فراہم کرنا اپنا فرض عین سمجھتے تھے۔ ان کے یہاں کسی قسم کی تخصیص نہیں جو حقوق اپنے لوگوں کے لئے وہی دوسرے قبیلہ کے لوگوں کے لئے بھی رکھے۔ لہذا علی ؑ جیسی شخصیت اور درد مند انسان تواریخ میں کہی نہیں ملتا۔
اتحاد کے علمبردار:
انسان کی زندگی کا ایک اور اصول آپسی تال میل ہے۔ ایک بڑے ہدف کے لئے ہمیشہ چھوٹے ہدف کو قربان کیا جاتا ہے۔ اب اگر ہدف ہی اللہ تعالیٰ کی رضا ہو تو بات ہی الگ ہے۔ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ؑ کی پوری ذات اتحاد کے سایہ میں بسر ہوئی ہے۔ اور یہ اصول انہوں نے رسول اللہ (ص) کی سیرت مبارک سے حاصل کیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ کی زندگی بھی اتحاد کے لئے بسر ہوئی۔ رحلت رسول کے بعد امت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ ہر کوئی جماعت اپنے ذاتی مقاصد کے خاطر دوسرے گروہوں سے مل مولا علی ؑ کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ لیکن امیر المومنین علی ؑ نے رسول اللہ کی ذات کو تجہیز و تکفین کر کے جب اپنا حق دوسروں کے پاس دیکھا تو گوشہ نشینی اختیار کی۔ لیکن جہاں بھی بات دین اسلام پہ آجاتی تو علیؑ کی ذات شیر جلی کی طرح میدان میں اتر آتی اور اسلام کے قلب پہ حرف نہ آنے دیتے ۔ وہی دوسری طرف اپنا ذاتی حق یعنی خلافت کو اسی بڑے مقصد یعنی اسلام کی بقا کے لئے قربان کردیا۔ لیکن خلیفہ سوم کو جب مارا گیا ۔ اس وقت زمانہ بڑا پر آشوب تھا۔ ایک طرف معاویہ نے اپنی چال بازیوں اور مکاریوں سے امت کو دھوکے میں رکھ کر مولا علیؑ کے خلاف کیا۔ وہی دوسری طرف طلحہ و زبیر حکومت نہ ملنے چکر میں حضرت عائشہ کو بڑھکا کر میدان میں قصاص عثمان کا بہانہ بنا کر لے آئے۔ تیسری طرف جو خلفائے ثلاثہ نے بیت المال کا غیر منصفانہ تقسیم کاری کی تھی اس کوبھی ٹھیک کرنا تھا۔امام علی ؑ نے ان سارے خطرات اور آشوبات کا تن تنہا مقابلہ کر کے اسلام اور امت اسلام پر آنچ نہ آنے دی۔ اپنے ذاتی حق کو اسلام پر نثار کیا اور دنیا کو بتا دیا کہ علیؑ ان میں سے نہیں جو اپنے گھر والوں اور دوسروں میں تفریق کرتا ہے۔ ان سارے فتنوں کو بڑی جانفشانی کے ساتھ قلع قمع کیا۔
علم کے وارث:
رسول پاک (ص) کی حدیث مبارک کے بقول انا مدینۃ العلم و علی بابھا یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ اس بات سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ مولا علی علم میں سارے زمانے سے افضل ہے۔ اس بارے میں آپ ؑ کا ارشاد گرامی ہے کہ رسول اللہ نے مجھے اپنے لعب دہن سے اس طرح علم عطا کیا جس کبوترن اپنے بچوں کو چبا چبا کے دانہ کھلاتی ہے۔ اپنے آخری ایام زندگی میں ممبر کوفہ پر بار بار یہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سلونی سلونی قبل ان تفقدونی یعنی اے لوگوں پوچھو پوچھو جو سوال ہے میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں کو جانتا ہوں۔ مولا علیؑ علم کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے۔ کوئی بھی خلیفہ فیصلہ دینے سے پہلے اس مسئلے کے بارے میں حضرت علی ؑ سے مشاورت کرتے تھے۔ پس یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ علی ابن ابی طالب علم و ادب کا مرکز تھے۔ لہذا اس اصول کو زندگی میں بھی ملحوظ نظر رکھا۔ انہوں نے جو خطبات، اور کلمات اپنے چار سالہ دور میں ارشاد فرمائے ہے وہ دنیا ئے علم و فن میں آج بھی ایک زندگی آفرین کتاب ’’نہج البلاغہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ جس کو سید رضی نے مرتب کیا ہے۔
حق و راست گوئی کا مظہر:
صداقت انسانی زندگی کے بنیادی اصولوں میں اہم ترین ہے۔ انسان اپنی شخصیت کو حق و حقیقت کے راستے پر لگا کر اپنا سفر خداوند متعال کی جانب بڑھاتا ہے۔ امام علی ؑ کے حق و راست گوئی کی گواہی خود رسول پاک (ص) دیتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ ہے اے اللہ حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی مڑ جائے‘‘۔ اسے بہتر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے۔
بہادر، شجاع واور دلیر:
بہادری، شجاعت اور دلیری ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور ہو۔ لیکن بات جب دین اسلام پہ آجاتی ہے تو بڑے بڑے سورما اپنے آپ کو لرزتے اور لڑکھڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امام علی ؑ کو شیر خدا کا لقب ملا ہے۔ یہ ایسے ہی نہیں کیونکہ علی نے دعوت ذوالعشیرہ میں ہی رسول اللہ (ص) کی مدد اور نصرت کا وعدہ کیا تھا۔ اور تب سے لے کر اسلام کی ہر ایک جنگ میں پیش پیش نظر آتے ہیں اور دشمن کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ در خیبر جو روایات کی روشنی میں ۷۰ من سے بھی زیادہ وزنی تھا کو اپنے بایئں ہاتھ سے اکھاڑ پھینکا۔ اس کے علاوہ تمام جنگوں میں اپنی بہادری اور شجاعت کے جوہر دکھائے۔
جفاکش اور محنت کش:
آج کے دور کی بات کی جائے تو کوئی بھی صدر مملکت یا بڑا سیاسی لیڈر اپنی پارٹی اور کرسی کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اپنے سارے خرچے سرکاری خزانے سے لوٹتے رہتے ہیں۔ اس وقت کے حکمران بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ لیکن امام علی ؑ کی ایک اور منفر د خصوصیت جو انہیں دیگر حکمرانوں سے مختلف کرتی ہے وہ ہے ان کی محنت ۔ ایک حاکم اور امیر المومنین ہونے کے ناطے وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے اخراجات حکومتی خزانے سے پورا کرسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے خود محنت کرنے کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یا یہودیوں کے باغوں میں مزدوری کرتے یا کنواں کھودتے رہتے تھے۔ یہ آج کے نسل کے لئے ایک سبق آموز نسخہ ہے کہ اپنی محنت آپ کر کے کامیاب اور کامران بنے نہ کہ دوسروں کی حق تلفی کر کے حکومتی خزانے لوٹتے رہے۔
شہادت کے آرزو مند :
انسان کی زندگی کا سب سے اہم فلسفہ موت ہے۔ یہ موت ہی ہے جو در اصل حیات ہے۔ امام علی ؑ پوری زندگی شہادت کے آرزو مند رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کو تین طلاقیں دے رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ مسجد کوفہ میں اس عظیم سعادت سے سرفراز ہوئے تو اس وقت ایک جملہ ارشاد فرمایا ’’رب کعبہ کی قسم علی کامیاب ہو گیا‘‘ ۔ دنیا میں بہت کم ایسے افراد گذرے ہے جو پوری زندگی میں شہادت کے آرزو مند رہے ہوں گے اور اس عظیم سعادت سے سرفراز ہوئے ہوں ۔ لیکن امام علی ؑ ایک ایسی واحد شخصیت ہے جن کی پیدائش بھی خدا کے گھر میں ہوئی اور شہادت بھی اللہ کے گھر میں نصیب پائی۔
پس یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولا علی ؑ کا فلسفہ زندگی وہی ہے جو رسول اللہ (ص) کا فلسفہ زندگی تھا۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین کا نفاذ، اسلام کا دفاع، عدل ا نصاف کا نفاذ، مظلومین اور بے سہاروں کی امدا د کرنا، حسن اخلاق، اتحاد کے حامل، کافروں پہ بھاری، اور قرآن کی عملی تعلیمات کا پرچار ہی ان کی فلسفہ زندگی کا نچوڑ ہے۔ آخر میں مولا علی ؑ کے اس حدیث مبارک سے اختتام کرتے ہیں۔ مولا فرماتے ہیں کہ ’’خدا کی رحمت ہو اس بندے پر جو یہ جانتا کہ کہاں سے آیا ہے؟ کس مقصد سے آیا ہے؟ اور کہاں جانا ہے؟ اللہ تعالی ٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔
حوالہ جات
۱۔ قرآن کریم
۲۔ نہج البلاغہ
۳۔ بہار الاانوار
۴۔ چودہ ستارے
۵۔ مقام ولایت


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*