امریکی زوال کی نشانیاں!

امریکی غذائی صنعت میں پراسرار حادثاتی! آتشزدگیوں کا تسلسل / امریکہ غذائی قحط کے دہانے پر

امریکی زوال کا آغاز سے تو کافی عرصے سے ہو چکا ہے مگر اس کی کچھ علامتیں حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی، اور غیرحتمی نشانیاں بھی زوال کی طرف ایک بڑا قدم سمجھی جاتی ہیں۔ یوکرین پر روسی حملہ، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے، ان ہی نشانیوں میں سے ایک ہے یہاں تک کہ یہ حتمی نشانی میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی زوال کا آغاز سے تو کافی عرصے سے ہو چکا ہے مگر اس کی کچھ علامتیں حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی، اور غیرحتمی نشانیاں بھی زوال کی طرف ایک بڑا قدم سمجھی جاتی ہیں۔ یوکرین پر روسی حملہ، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے، ان ہی نشانیوں میں سے ایک ہے یہاں تک کہ یہ حتمی نشانی میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس حملے کی وجہ سے مغرب کو تیل، گیس، دھاتوں، کھادوں، اشیائے خورد و نوش اور متعلقہ تمام شعبوں میں بحران کا سامنا ہے ایسے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ حالیہ چند مہینوں میں امریکہ میں - جہاں بچوں کے لئے دودھ تک دستیاب نہیں ہے اور افراط زر کے ریکارڈ ہر روز ٹوٹ رہے ہیں، - مبینہ طور پر ناگہانی اور حادثاتی آتشزدگیوں کے درجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں؛ یہاں تک کہ امریکی ماہرین کے مطابق، اس ملک کو سنہ 2022ع‍ کے آخر تک امریکہ کا غذائی بحران آج کی نسبت کہیں زیادہ ہولناک ہوگا۔

رپورٹوں کے مطابق، سنہ 2022ع‍ کے آغاز سے آتشزدگیوں کے 16 پراسرار (1) واقعات ریاست ہائے متحدہ کے انتہائی اہم غذائی تنصیبات میں رونما ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ حالیہ ایام میں اس طرح کی مبینہ حادثاتی آتشزدگیوں میں اضافہ بھی ہؤا ہے۔


مینیسوٹا سے واشنگٹن تک خوفناک آتشزدگیاں
حال ہی میں مینیسوٹا میں واقع ایک پولٹری فارم میں آگ لگنے سے لاکھوں چوزے (2) تلف ہوئے، خبر لگی کہ رائٹ کاؤنٹی (Wright County) میں آگ کے شعلوں نے ایک پولٹری فارم کو راکھ کردیا جس میں لاکھوں چوزے پالے جا رہے تھے۔
بہت سے بڑی آتشزدگیوں کی طرح، ہاوارڈ جھیل میں واقع فورسمین کی کھیتیوں (Forsman farms Howard lake) کو آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا۔ (3) یہ آگ بہت زیادہ تیزی سے پھیل گئی ہے۔ (4) کہا جاتا ہے کہ یہ غیر ارادی آتشزدگی تھی، اور صرف ایک دوسرا بلا وجہ حادثہ تھا اور باقی کچھ بھی نہیں ہؤا ہے!!!


البتہ اس سے چند روز قبل ریاست واشنگٹن کے اناج کے گوداموں میں بھی اسی طرح کی ایک آتشزدگی ہوئی (5) جس نے تمام غلات کو جلا کر راکھ کردیا لیکن اس کے لئے بھی اسی قسم کی وضاحت سامنے آئی: سب کچھ ٹھیک ہے، اس واقعے میں کسی کا بھی ہاتھ نہیں ہے!
دانوں اور غلات کی کمپنی M & E میں بہت بڑی آتشزدگی بھی ان ہی اسرار آمیز آتشزدگیوں میں سے ایک تھی، جس نے اس کمپنی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس واقعے میں ایک شخص جھلس گیا۔ بعدازاں فائر بریگیڈ کے عملے نے پوری رات آگ بجھانے میں گذار دی، اور کارخانے میں سے جلے ہوئے دھاتوں اور لکڑی کے ادھ جلے تختوں کے چارکولوں کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے بڑے سکون سے کہا کہ "اس طرح کے حادثات ہمیشہ پیش آتے ہیں"۔

اس سے چند ہی روز قبل ایک المیہ ریاست واشنگٹن میں پیش آیا اور پوٹاش (Potash) لے جانے والی 43 ویگنیں پٹڑی سے اتر گئیں۔ (6) رائل کینیڈین پولیس کے گھڑ سوار دستے نے رپورٹ دی کہ کینیڈا کے صوبے البرٹا کے شمال مشرق میں فورٹ میکلوڈ کے مقام پر پوٹاش لے جانے والی کینیڈا پیسیفک ریلوے کمپنی کی 43 ویگنیں پٹری سے اتر گئیں۔ کینیڈین پولیس کے رسالے نے شاہراہ 251 سے شاہراہ 252 تک کے علاقے میں ہائے وے 3 کے قریب، تحقیقات کی ذمہ داری قبول کر لی۔ پولیس کے مطابق فائر بریگیڈ اور کینیڈا-بحرالکاہل ریلوے کے اہلکار بھی موقع ہر حاضر ہوئے۔
سوال: آپ کے خیال میں اس واقعے کے بارے میں کینیڈین حکام نے کیا کہا ہوگا؟ آپ نے درست اندازہ لگایا! "یہ صرف ایک سادہ سا تصادم تھا!"۔ (7)
اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے عوام ان دنوں بے اعتنا ہوگئے ہیں، کیونکہ یہ "تصادمات" مسلسل ہیں اور یکے بعد دیگرے ہو رہے ہیں۔ (8) اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کو غذائی قلت کے ایک ہولناک بحران کا سامنا ہے۔ (9)

گرو انٹیلی جنس (Gro Intelligence) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سارا مینکر (Sara Menker) نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں عالمی تاریخ میں غلات کے کم ترین ذخیرے (10) کا سامنا ہے۔ مینکر نے مزید کہا: مینکر نے کہا کہ دنیا بھر میں سرکاری اداروں کے تخمینے بتاتے ہیں کہ سالانہ کھپت کی صرف 33 فیصد گندم موجود ہے لیکن انٹیلی جنس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ ذخائر 20 فیصد تک ہو سکتے ہیں اور یہ صورت حال 2007 اور 2008 کے بعد پہلی بار سامنے آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ "ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ ہم تاریخ میں اناج کی سب سے نـچلی سطح تک ایسے حال میں پہنچے ہیں کہ کیمیائی کھادوں کی شدید قلت ہے اور دنیا بھر میں گندم پیدا کرنے والے خطوں کو دو دہائیوں میں بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔ یہی خدشات مکئی اور دوسرے غلات کے سلسلے میں بھی پائے جاتے ہیں"۔ دوسرے لفظوں میں، سب کے لئے کافی غذا، دستیاب نہیں ہوگی۔



ذرائع کے مطابق (11) ممکن ہے کہ دنیا کی 20 فیصد آبادی عنقریب غربت اور بھوک کا شکار ہو سکتی ہے۔ (12) البتہ بھوک کے عالمی بحران کا بھاری سایہ مہینوں سے محسوس کیا گیا ہے، اور اب یوکرین میں جنگ ایک فیصلہ کن سبب ہے، کیونکہ غِذائی سِلسِلہ اور کھادوں کی فراہمی کو روک سکتی ہے؛ حالانکہ دنیا عالمی بھوک پر کورونا کی وبا کے منفی اثرات دور کرنے میں مصروف ہے۔
اگر آب و ہوا کے منفی اثرات کو بھی اس صورت حال سے جوڑ دیں، تو نتیجہ وہی ہوگا جس کو اقوام متحدہ نے "ایک بھرپور طوفان" کا نام دیا ہے جو تقریبا دنیا کی آبادی کا 20 فیصد حصہ (ایک ارب ستر کروڑ) غربت اور بھوک میں مبتلا کرے گا۔


ان واقعات کے تازہ ترین نمونے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدید گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے امریکی ریاست کی ریاست کنساس میں ہزاروں گائیں ہلاک ہو گئی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10,000 گائیں تلف ہوئی ہیں۔ (13)


امریکہ میں ناقابل یقین جہتوں کا حامل ایک ڈراؤنے خواب کا آغاز ہو چکا ہے
عالمی غذائی پروگرام (WFP) کےڈیوڈ بیزلی (David Muldrow Beasley) کہتے ہیں: "ہمارا ادارہ کھانا بھوکوں سے چھین لیتا ہے تا کہ اسے ان بھوکوں تک پہنچا دے جو موت کے دہانے پر ہیں؛ تو جب دنیا بھر میں کروڑوں بھوکے افراد قریب المرگ ہوں تو یہ ادارہ کیا کر سکتا ہے؟

عالمی رجحانات اور رویئے برسوں سے دنیا کو اسی سمت میں دھکیل رہے ہیں، لیکن سنہ 2022ع‍ کے واقعات نے اس "بھرپور طوفان" کی پیش قدمی کو تیز کر دیا ہے جس سے اب امریکہ دوچار ہے۔
امریکی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے اعلان کے مطابق، توقع کی جاتی ہےکہ سنہ 2022ع‍ کے آخر تک امریکہ میں غذائی بحران آج کی نسبت کہیں زیادہ شدت اختیار کرے گا۔ ایک ایسا خوفناک سپنا جس کی مختلف پہلو ناقابل یقین ہیں اور اب امریکہ میں اس کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے اختتام کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
________________________________________
Sources:
1. http://theeconomiccollapseblog.com/a-list-of-16-major-fires-that-have-occurred-at-key-food-industry-facilities-in-the-u-s-since-the-start-of-2022/
2. https://www.msn.com/en-us/news/us/tens-of-thousands-of-chickens-killed-in-wright-county-egg-farm-fire/ar-AAXRD1i
3. http://theeconomiccollapseblog.com/a-list-of-16-major-fires-that-have-occurred-at-key-food-industry-facilities-in-the-u-s-since-the-start-of-2022/
4. https://www.msn.com/en-us/news/us/tens-of-thousands-of-chickens-killed-in-wright-county-egg-farm-fire/ar-AAXRD1i
5. https://www.tri-cityherald.com/news/local/article261810032.html
6. https://www.cbc.ca/news/canada/calgary/cp-rail-train-derailment-hwy-3-fort-macleod-alberta-rcmp-1.6462783
7. https://twitter.com/rawsalerts/status/1528874266308902912
8. https://imgur.com/p8t6beD
9. http://endoftheamericandream.com/5-reasons-why-the-food-supply-in-the-united-states-is-going-to-continue-to-shrink/
10. https://www.insider.com/world-has-10-weeks-of-wheat-supplies-left-in-storage-food-expert-warns-2022-5
11. http://endoftheamericandream.com/5-reasons-why-the-food-supply-in-the-united-states-is-going-to-continue-to-shrink/
12. https://reliefweb.int/report/world/food-banks-are-early-warning-systems-emerging-food-crises-also-key-solution
13. https://www.mashreghnews.ir/news/1388400
……………
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*