امریکی صدر و نائب صدر کے مابین اختلافات کی خبریں، ہیرس بایڈن کی حریف بن سکتی ہیں

امریکی صدر و نائب صدر کے مابین اختلافات کی خبریں، ہیرس بایڈن کی حریف بن سکتی ہیں

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کر کے روزنامہ ڈیلی میل سے یہ کہا ہے کہ ایتھن دسمبر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر الگ ہو جائیں گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس میں نائب صدر کے دفتر کے کارکنوں کے درمیان اختلافات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد اب امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ نائب صدر کیملا ہیرس کے دفتر کے شعبہ تعلقات عامہ کی انچارج ایشلے ایتھن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق ایشلے ایتھن پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی کے دفتر کی کارکن تھیں مگر صدارتی انتخابات میں جوبایڈن کی کامیابی کے بعد وہ کیملا ہیرس کی ٹیم میں شامل ہو گئی تھیں اور اُسی وقت انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ صرف ایک سال ہیرس کے ساتھ رہیں گی۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کر کے روزنامہ ڈیلی میل سے یہ کہا ہے کہ ایتھن دسمبر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر الگ ہو جائیں گی۔ گزشتہ روز امریکی چینل فاکس نیوز نے بھی ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں یہ دعوا کیا گیا تھا کہ امریکی صدر جوبایڈن اور نائب صدر کیملا ہیرس کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور ممکن ہے کہ بایڈن کسی اور کو نائب صدر مقرر کردیں۔

فاکس نیوز کی اس رپورٹ سے تین روز قبل سی ان ان نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کر کے یہ دعوا کیا تھا کہ جوبایڈن کے دفتر اور اس سے وابستہ افراد اور نائب صدر کیملا ہیرس کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔سی ان ان کی رپورٹ کے مطابق کیملا ہیرس اور ان کے قریبی افراد کا یہ ماننا ہے کہ بایڈن حکومت میں نائب صدر کو انکی صحیح حیثیت نہیں دی جا رہی ہے اور انہیں الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔

ان اختلافات کے پیش نظر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ دوہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں کیملا ہیرس جوبایڈن کی حریف کے طور پر میدان میں اتر سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*