ایک سوپر پاور کا زوال-10

امریکی زوال پر نیویارک پوسٹ کا اعتراف

امریکی زوال پر نیویارک پوسٹ کا اعتراف

ایران نے دنیا کو ثابت کرکے دکھایا کہ امریکہ نامی بڑی طاقت اور امریکی تسلط اختتام پذکر ہوچکا ہے؛ اور وہ امریکیوں کی آنکھوں کے سامنے، اپنے بحری جہازوں کو جہاں بھی چاہے بھیجتا رہے گا؛ اور کوئی بھی ان کے راستے میں رکاوٹ نہيں ڈال سکے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نیویارک پوسٹ نے تشویش، ناراضگی اور سراسیمگی سے بھرپور تجزیئے میں لکھا: ایرانی ہر روز دنیا کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں مصروف ہیں۔

وہ عراق، شام، لبنان، بحرین، یمن، وینزوئلا، اور کئی افریقی، یورپی، ایشیائی اور امریکی ممالک میں موجود ہیں اور ان ممالک میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔

ایران نے دنیا کو ثابت کرکے دکھایا کہ امریکہ نامی بڑی طاقت اور امریکی تسلط اختتام پذکر ہوچکا ہے؛ اور وہ امریکیوں کی آنکھوں کے سامنے، اپنے بحری جہازوں کو جہاں بھی چاہے بھیجتا رہے گا؛ اور کوئی بھی ان کے راستے میں رکاوٹ نہيں ڈآل سکے گا۔

ایران نے برطانیہ اور فرانس کی بحری سلطنت کا مکمل خاتمہ کیا اور آج ایران ہی ہے جو آس پاس کے علاقے میں بحری سلامتی کے مقدرات کا تعین کرتا ہے۔

شام، ایران کی عالمی طاقت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت شام اور بشار اسد کے مقدر کا تعین کرے اور یہ ملک اپنے مقدرات کا فیصلہ خود ہی کرے گا۔ ایران نے شام میں دسوں ممالک کا مقابلہ کیا اور انہیں ان کے مقاصد تک نہیں پہنچنے دیا؛ اور یہ بات سب کو سمجھا دی کہ علاقے میں کوئی بھی چیز نہیں بدلے گی جب تک ایران نہیں چاہے گا۔

ایران نے ثابت کرکے دکھایا کہ وہ دور قصۂ پارینہ بن چکا ہے جب امریکہ اپنے طیارہ بردار جہازوں کو روانہ کرکے حکومتوں کو تبدیل کردیتا تھا اور اقوام کے مقدرات کا تعین کرتا تھا؛ اور آج ایران جیسا طاقتور ملک اس کے مد مقابل آ کھڑا ہؤا ہے۔

ایران نے ثابت کرکے دکھایا کہ امریکہ مزید بڑی طاقت (Superpower) نہیں ہے۔

دنیا میں کوئی بھی طاقت اور کوئی بھی فوج نہیں ہے جو ایران کے ساتھ لڑنے بھڑنے کی خواہاں ہو؛ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہر جنگ کا آغاز باعث بنتا ہے کہ ایران اپنے مقاصد تک پہنچ جائے اور اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنائے اور ایسی جنگ سے پوری دنیا کو نقصان پہنچے گا۔ ایرانی ہی ہونگے جو جنگ کے دورانیے اور محاذ کی وسعتوں کا تعین کریں گے۔

دنیا کے تمام مسائل اور واقعات سے ثابت ہے کہ ایران عنقریب تمام نیابتی (پراکسی) جنگوں میں ہی نہیں بلکہ اقتصادی جنگوں میں بھی، کامیاب ہوگا اور ایران کا اثر و نفوذ عنقریب وسیع سے وسیع تر ہوگا۔

واضح رہے کہ نیابتی جنگیں استکباری ممالک کی طرف کی جدید جنگوں کے زمرے میں آتی ہے اور دنیا بھر میں کہیں بھی ایران کی طرف سے کوئی نیابتی جنگ نہیں ہورہی ہے۔ ایران جن ملکوں میں تحریک مزاحمت کی حمایت کررہا ہے، وہاں تحریک مزاحمت کی رکن تنظیمیں اپنے ممالک کی آزادی اور خودمختاری کے لئے لڑ رہی ہیں اور ایران ان کی حمایت کررہا ہے چنانچہ یہ مغربی-عبرانی-عربی سازشی محاذ کی تشہیری ایجنڈے کا حصہ ہے کہ ایران کی طرف سے کہیں کوئی نیابتی جنگ لڑی جارہی ہے۔

سورس: تیمورا میڈیا گروپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*