امریکی جرنیل: ایران خطے کا نظام اپنے مفاد میں بدلنا چاہتا ہے

امریکی جرنیل: ایران خطے کا نظام اپنے مفاد میں بدلنا چاہتا ہے

امریکی افواج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف نے سینٹ کے اجلاس میں کہا کہ ایران خطے کا نظام اپنے مفاد میں بدلنا چاہتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی افواج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف مارک ملی (Mark Alexander Milley) نے جمعرات کے روز امریکی سینٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ایران امریکہ کو درپیش بنیادی خطرہ ہے اور وہ علاقے کے نظآم کو اپنے مفاد میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
مارک ملی نے کہا: امکان یہی ہے کہ ایران – امریکہ اور اس کے شرکاء اور اتحادیوں کے لئے ایک بڑا علاقائی خطرہ – باقی رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران مشرق وسطی کے علاقائی نظام اور طاقت کے توازن کو اپنے مفاد میں تبدیل کرنے کے درپے ہے اور اسی مقصد سے اس نے اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دی ہے۔
مارک ملی نے ایک سینیٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: امریکی فوج دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو [نام نہاد] کے حذف کرنے کے منصوبے کی حمایت نہیں کرتی؛ میں سپاہ پاسداران کی قدس فورس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہو اور اس کو مذکورہ فہرست سے نکالنے کا حامی نہیں ہوں! گوکہ دوسری طرف سے امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے بدھ کے دن رات گئے، این بی سی چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سپاہ پاسداران کے مبینہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کے مسئلے کی طرف براہ راست اشارہ کرنے سے گریز کیا۔
عالمی دہشت گرد، شیطان بزرگ اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے بانی امریکہ نے اپریل 2019ع‍ میں سپاہ پاسداران کو نام نہاد بیرونی دہشت گرد تنظیموں (FTO) کی فہرست میں درج کیا تھا۔ اور یوں عالمی دہشت گردی کے بانی امریکہ نے پہلی بار کسی ملک کی ایک باضابطہ مسلح فوج کو مذکورہ فہرست میں شامل کیا۔ اس امریکی فیصلے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے خطے میں تعینات امریکی افواج کی سینٹرل کمانڈ (The US Central Command [Centcom]) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس جنون آمیز اقدام سے قبل امریکہ کے اندر بھی متعدد ماہرین نے اس اقدام کے خطرناک نتائج کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے سب سے پہلے اس خبر کو شائع کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ منصوبہ پیش کیا گیا تو امریکی وزارت دفاع اور سی آئی نے اس کی مخالفت کی تھی اور ان دونوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے امریکی فوجیوں اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
مغربی ماہرین قانون کے مطابق، اگر جنیوا کنونشنوں کے رکن ممالک ایک نئی بدعت کی رو سے ایک دوسرے کی مسلح افواج کو “دہشت گرد تنظیمیں” قرار دینا چاہیں تو امریکی مسلح افواج کے ارکان بھی دوسرے ممالک میں گرفتار ہونے کی صورت میں دہشت گرد قرار دیئے جا سکتے ہیں اور ان پر اسی الزام میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سپاہ پاسداران کے خلاف امریکی اقدام بھی در حقیقت ان ممالک اور تنظیموں کے خلاف اقدامات کے زمرے میں آتا ہے جنہوں نے خطے میں امریکہ کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام بنایا ہے اور یہ وہ ممالک اور تنظیمیں ہیں جو صہیونی ریاست کے ساتھ ساتھ عراق اور شام میں داعش کے خلاف برسرپیکار رہی ہیں جبکہ امریکہ نے داعش کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے قائم کیا تھا! چنانچہ امریکہ نے یوں ان ممالک اور تنظیموں سے داعش کی شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کی ہے۔
ناقابل انکار دستاویزات سے ثابت ہے کہ مارچ 2011ع‍ میں شام ميں اٹھنے والے بلؤوں اور 2014ع‍ میں عراق پر داعش کے حملے کے بعد، امریکہ نے اپنے پالے ہوئے دہشت گرد ٹولے “داعش” سے بلاواسطہ اور بالواسطہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، جس نے اس خطے میں 30 سالہ مذہبی جنگ کے لئے منصوبہ بندی کی تھی اور دہشت گرد تنظیمیں اسی حوالے سے امریکہ کا ہاتھ بٹا رہی تھیں مگر سپاہ پاسداران نے اس جنگ کو تین سالہ مختصر عرصے میں ختم کرکے خطے کے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی خطرناک امریکی سازش کو ناکام بنایا۔
امریکہ اور غاصب اسرائیلی ریاست نے شام اور عراق میں کئی بار داعش کی نجات کے لئے شامی اور عراقی افواج کے ٹھکانوں پر متعدد بار بمباریاں بھی کیں اور ان کی پیشقدمی کے لئے ماحول بھی فراہم کیا اور انہیں ہر قسم کی امداد بھی فراہم کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*