ایک سوپر پاور کا زوال-14

امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے! (2)

امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے! (2)

ٹرمپ لبرل ڈیموکریسی کے تسلط کے خاتمے کی بنیادی وجہ نہیں، لیکن انہوں نے گراوٹ کا عمل تیز ضرور کردیا۔ ٹرمپ نے نیٹو اور مشرقی ایشیا جیسے اہم اتحادیوں کے ساتھ محاذآرائی کا راستہ اختیار کرکے بہت تیزی کے ساتھ امریکہ کو نقصان پہنچایا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

سبینا لی: امریکہ کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بنیادی خدشات کیا ہیں؟
الیگزنڈر کولے: چین اور روس نے امریکہ کی بالادستی کو کئی طریقوں سے کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے نئی علاقائی اور عالمی تنظیمیں قائم کیں، جن میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور یوریشین اکنامک یونین جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے 5G ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکہ اور مغرب کی شرکت داری کو کمزور کیا، روس پر یوکرین میں مداخلت کی وجہ سے پابندیاں لگانی پڑیں۔ دونوں ممالک نے انفرادی اقدامات کیے۔ شام میں روسی مداخلت سے یہ تاثر گہرا ہوگیا کہ ماسکو سابق سویت یونین کے علاوہ بھی دیگر ریاستوں کا دفاع کرے گا۔ جبکہ چین ایک کھرب ڈالر کے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ذریعے 70 سے زیادہ ممالک میں سرمایہ کاری کررہاہے، تاکہ دیگر ممالک میں چین کا اثرو رسوخ بڑھایا جاسکے، اس منصوبے کے ذریعے چین اپنے لیے جیو پولیٹیکل اثرات کے نئے راستے کھولنے کے ساتھ موجود عالمی نظام میں مزید طاقتور ہوجائے گا۔ مثال کے طور پر جون 2017ء میں چین کے بی آر آئی میں اہم شریک یونان نے انسانی حقوق کے حوالے سے چین پر تنقید کے یورپی مسودے پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔
سبینا لی: آپ اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت اور علاقائی تنظیموں سمیت عالمی رہنماؤں کا مستقبل کس طرح دیکھتے ہیں؟
الیگزنڈر کولے: ٹرمپ انتظامیہ نے عوامی غصے کو اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیموں سے بہتر سودے بازی کے لیے استعمال کیا۔ عالمی معاہدے اور فنڈ روکنے کی دھمکیوں کے ذریعے ان تنظیموں پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن یہ طریقہ کار زبردست نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیوں کہ دوسرے ممالک زیادہ فنڈ دے کر اور حمایت کرکے ان تنظیموں میں امریکہ کی جگہ لے سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کے نتیجے میں عالمی وبا کے دوران چین کو بہتر مواقع میسر آئے، کورونا کی وبا کے دوران تمام خرابیوں کے باوجود، صحت کے حوالے سے عالمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کے لیے عالمی ادارہ صحت کا کردار ناگزیر ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف تنظیمیں جیو پولیٹیکل مقابلے کا میدان ہیں، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے رواں سال کے شروع میں اقوام متحدہ میں چینی اثرو رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی نمائندے کا تقرر کیا تھا۔ لیکن واشنگٹن فنڈ کی فراہمی روک کر اور عالمی معاہدے سے علیحدہ ہوکر ان تنظیموں پر اپنے اثرات کو خود ہی کم کررہا ہے۔
سبینا لی: لبرل ڈیموکریسی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے عالمی اور علاقائی سطح پر کیا اثرات ہیں؟
الیگزنڈر کولے: ٹرمپ لبرل ڈیموکریسی کے تسلط کے خاتمے کی بنیادی وجہ نہیں، لیکن انہوں نے گراوٹ کا عمل تیز ضرور کردیا۔ ٹرمپ نے نیٹو اور مشرقی ایشیا جیسے اہم اتحادیوں کے ساتھ محاذآرائی کا راستہ اختیار کرکے بہت تیزی کے ساتھ امریکہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کی شعلہ بیانی اورآمرحکمرانوں کی حمایت نے عالمی سطح پر لبرل ڈیموکریسی کے اصولوں کی نفی کردی ہے۔ عالمی اداروں اور دیگر ممالک کے لیے لبرل ڈیمو کریسی قابل تقلید نہیں رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
کولے کے خیالات میں تضادات کی ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ زوال کے نفسیاتی اثرات امریکی دانشوروں کے خیالات پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ (م)

Harriman fall 2020 (columbia.edu)  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*