ایک سوپر پاور کا زوال-13

امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے! (1)

امریکی تسلط کا خاتمہ ہو چکا ہے! (1)

الیگزنڈر کولے اورڈینیل نیکسن نے ’’تسلط کا خاتمہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں جنگ عظیم دوم کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت تک امریکہ کے بین الاقوامی نظام کے ارتقا کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر لیگزنڈر کولے (Alexander Cooley) کی ’’کولمبیا نیوز‘‘ کی نامہ نگار سبینا لی (Sabina Lee) کے ساتھ گفتگو ۔۔۔ یکم دسمبر 2020ء ۔۔۔
اردو ترجمہ: سید طالوت اختر
الیگزنڈر کولے اورڈینیل نیکسن نے ’’تسلط کا خاتمہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں جنگ عظیم دوم کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت تک امریکہ کے بین الاقوامی نظام کے ارتقا کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے الیگزنڈر کولے سے گفتگو کی گئی، جس کا ترجمہ یہاں شائع کیا جارہا ہے:۔
سبینا لی: آپ کا کتاب میں کہنا ہے کہ امریکی تسلط کا خاتمہ ہورہا ہے، کیا ایسا ہی ہے؟
الیگزنڈر کولے: امریکی تسلط کا خاتمہ ہوچکا ہے، کیوں کہ امریکہ اب 1990ء کے دہائی کی طرح دنیا پر اجارہ دار نہیں رہا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کو سب سے زیادہ بہتر مہارت اور نئے خیالات دینے والا ملک تھا، لیکن اب تمام معاملات میں امریکی کردار کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ دیگر ممالک خاص کر چین اب سرمایہ کاری اور خدمات فراہم کرنے میں سب سے آگے ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم جیسے نئے علاقائی اتحاد اب روس اور چین جیسے حریفوں کے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ حکومتیں مغرب کی مالی اعانت سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو لبرل اقدار کے فروغ سے روک رہی ہیں، کبھی طاقتور رہنے والی ان تنظیموں کومعاشرے کے تنگ نظر عناصر کی جانب سے سخت مشکلات کا سامنا ہے! لبرل ڈیموکریسی اب ملکوں کے لیے ایک قابل تقلید نظام نہیں رہا!! امریکہ کے اندر تقسیم نے عالمی سطح پر لبرل ازم کو فروغ دینے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ امریکہ اب بھی فوجی اور مالی حساب سے دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے۔ لیکن اس کا عالمی تسلط ختم ہوچکا [ہے]، وہ اب ماضی کی طرح یکطرفہ طور پر دنیا کے فیصلے نہیں کرسکتا ہے۔
سبینا لی: کورونا کی وبا نے عالمی طاقت کا توازن کس طرح تبدیل کیا؟
الیگزنڈر کولے: کورونا نے کئی رجحانات کو تیزی کے ساتھ بڑھاوا دیا ہے۔ ایک عالمی رہنما کی حیثیت سے امریکہ کی ساکھ اندرون ملک غیر مؤثر حکمت عملی اور عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری [علیحدگی] کی وجہ سے بُری طرح مجروح ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کورونا کے حوالے سے عالمی ردّعمل کو مربوط کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے برعکس چین، جہاں سے کورونا کی عالمی وبا شروع ہوئی اور جو ملک وائرس کے پھیلاؤ کی تفصیل چھپاتا رہا ہے! وہ دنیا بھر میں ہنگامی طور پر صحت کے سامان کی فراہمی کی حوالے سے سب سے آگے نظر آیا، اس کے ساتھ ہی چین عوامی سطح پر کوورنا کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور بھی دے رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*