ایک سوپر پاور کا زوال-12

امریکی افواج کے کمانڈر ماتحت افواج کی بغاوت سے خوفزدہ (2)

امریکی افواج کے کمانڈر ماتحت افواج کی بغاوت سے خوفزدہ (2)

یہ عجیب تقاضا یا اپیل مستقبل میں بہت ہی بھاری خطرات کی طرف اشارہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغاوت افواج کے اندر سے بھی شروع ہوسکتی ہے یا پھر افواج کسی بھی بغاوت کا ساتھ دے سکتی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ سے پیوستہ
تمام افواج چوکس
اس بیان میں - جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک نیا اور غیر متوقعہ اقدام سمجھا جاتا ہے ـ امریکہ پر حکم فرما امن و امان کے فقدان کی فضا کے پیش نظر تمام افواج کو تشدد کے ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے لئے چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے: "چھ جنوری 2021ء کو بائڈن - جن کے انتخاب کو ریاستوں اور عدالت کی تأئید حاصل ہوچکی تھی اور کانگریس نے بھی اس کی تصدیق و توثیق کی تھی، تقریب حلف برداری کے بعد - "20 جنوری 2021ء کے بعد ہم سب کے کمانڈر ہیں"؛ ۔۔۔ چنانچہ ہم اپنے اہلکاروں کو - مرد ہوں یا خواتین، فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوں یا گھر میں بیٹھے ہوں - اعلان کرتے ہیں کہ ملک کی حفاظت کے لئے تیار رہو، افق کی طرف دیکھو اور اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھو۔ ہم ہر امریکی کے دفاع کے سلسلے میں تمہاری خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ یہ عجیب تقاضا یا اپیل مستقبل میں بہت ہی بھاری خطرات کی طرف اشارہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغاوت افواج کے اندر سے بھی شروع ہوسکتی ہے یا پھر افواج کسی بھی بغاوت کا ساتھ دے سکتی ہیں۔
2۔ گویا کہ امریکی حکمرانوں کو اپنی افواج کو عمومی طور پر حلف لیا جا رہا ہے!؛ کمانڈروں نے اس بیان میں عوام کو دلاسا دینا بھی ضروری سمجھا اور جن کو افواج یا پولیس نے ہی قتل کیا اور بائڈن اور پلن کی تکریم بھی ضروری سمجھی جو بجائے خود ایک ان کہے خوف کا نتیجہ ہی ہوسکتا ہے: جو ایک ممکنہ انقلاب عجیب خوف کی علامت ہے۔
3۔ عجب ہے کہ گذشتہ 75 برسوں کے دوران امریکی حکومت پوری دنیا میں تشدد، فتنہ انگیزی اور فوجی بغاوتوں، جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے، ممالک پر قبضے اور بادشاہتوں اور غیر جمہوری حکومت کے قیام کی حمایت کرتے رہے ہیں مگر اپنے ملک کے اندر، یہ سب انہيں پسند نہیں ہے؛ لیکن دنیا بھر میں امریکی شرانگیزیاں گویا امریکہ میں پلٹ آئی ہیں، ساری فتنہ انگیزیاں جو وہ پوری دنیا کے لئے چاہتے تھے اب ان کے اپنے گھر میں پلٹ آئی ہیں۔۔۔ کروڑوں اربوں خرچ کرکے عالم اسلام میں انتہاپسندی کو ہوا دینے والے فوجی کمانڈر آج اپنی فوج میں انتہاپسندی کے فروغ سے فکرمند ہیں۔
4۔ امریکی افواج کے کمانڈر حالات کی نزاکت اور اپنی افواج پر عدم اعتماد! کی رو سے دائیں بائیں اور اوپر نیچے سے اسی بات پر آکر زور دیتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں آئین کا محافظ بن کے رہنا ہے اور ہوشیار رہنا ہے کہ کہیں خود ایک غیر قانونی بغاوت کا حصہ نہ بنیں ورنہ تو ہمیں قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں بازخواست ہونے کی توقع بھی رکھنا پڑے گی!؛ اور پھر انہیں ان ہی افواج کو الرٹ کیا جاتا ہے جن پر انہیں اعتماد نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*