ایک سوپر پاور کا زوال-11

امریکی افواج کے کمانڈر ماتحت افواج کی بغاوت سے خوفزدہ (1)

بائڈن، امریکہ کا چھالیسواں صدر

امریکی افواج کے کمانڈر ماتحت افواج کی بغاوت سے خوفزدہ (1)

مبصرین کے مطابق، یہ بیان اور فوجیوں کو آئین کے دفاع کی یاددہانی، موجودہ حالات سے اعلی فوجی کمانڈروں کی شدید فکرمندی کا اظہار ہے اور یہ کہ وہ "فوج میں انتہاپسندی کے فروغ" کا سدّ باب کرنا چاہتے ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سینئر امریکی کمانڈروں نے مشترکہ بیان جاری کرکے چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو درپیش نادرالظہور سیکورٹی چیلنجوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور ماتحت افواج سے تقاضا کیا ہے کہ "آئین کی حمایت و دفاع اور ہر قسم کی انتہاپسندی کی مخالفت کے سلسلے میں اپنے عہد و حلف کے پابند رہیں!"۔ (1)
امریکی چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی (Mark Milley) اور تمام کمانڈروں کے دستخطوں سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے: امریکی عوام اڑھائی صدیوں سے ریاست ہائے متحدہ کی افواج پر اعتماد کیا ہے تاکہ وہ ہمارے آئین کی حفاظت کریں؛ "ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی افواج، بدستور، غیر فوجی قیادت کے قانونی احکامات کی اطاعت کریں گی؛ عوام کی جان و مال کے تحفظ کی خاطر، غیر فوجی اہلکاروں کی حفاظت کریں گی؛ عمومی سلامتی کو قانون کے مطابق، یقینی بنائیں گی؛ اور مکمل طور پر بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے مد مقابل، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی حفاظت و دفاع کے سلسلے میں اپنے عہد کے پابند ہونگی"۔ (2)
کیپیٹل ہل کے مقتولین کے غم میں سوگوار ہیں!
سینئر امریکی کمانڈروں نے واشنگٹن ڈی سی میں 5 افراد کی ہلاکت پر منتج ہونے والے کانگریس کی عمارت پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: "چھ جنوری 2021ء کی تشدد آمیز بغاوت، در حقیقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور آئینی عمل پر براہ راست یلغار تھی۔ ہم اس بے مثل حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد کی ہلاکت پر سوگوار ہیں ۔۔۔ جو کچھ کیپیٹل ہل کی عمارت کے اندر دکھائی دیا وہ قانون کی حکمران کے منافی تھا۔ اظہار کی آزادی اور اجتماعات کے انعقاد جیسے حقوق، تشدد، فتنہ انگیزی اور بغاوت کی اجازت نہيں دیتے"۔ (3)
فوج میں انتہاپسندی سے کمانڈروں کی تشویش:
مبصرین کے مطابق، یہ بیان اور فوجیوں کو آئین کے دفاع کی یاددہانی، موجودہ حالات سے اعلی فوجی کمانڈروں کی شدید فکرمندی کا اظہار ہے اور یہ کہ وہ "فوج میں انتہاپسندی کے فروغ" کا سدّ باب کرنا چاہتے ہیں؛ اور ممکن ہے کہ وہ ایسا موقف پھیلا رہے ہیں جو شاید ہن کا رنگ بھی اور بو بھی، سیاسی ہو۔ چنانچہ کمانڈروں کے بیان میں بیان کیا گیا ہے: "ہمیں فوج کے اراکین کی حیثیت سے قومی اقدار اور آرزؤوں کا مجسم نمونہ ہونا چاہئے، آئین کی حمایت اور اس کا دفاع کرتے ہیں۔ قانون اساسی کے عمل کو درہم برہم کرنے والا کوئی بھی اقدام، نہ صرف ہماری روایتوں، اقدار اور ہمارے حلف سے مغایرت رکھتا ہے بلکہ قوانین سے بھی متصادم ہے!"۔ (4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*