ایک سوپر پاور کا زوال-9

امریکہ کہاں جارہا ہے؟ (3)

امریکہ کہاں جارہا ہے؟ (3)

درست ہے کہ امریکی صدر جو بائڈن نے "معمول پر واپس آنے" کا وعدہ کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیچھے کی طرف پلٹنا اور حالات کو پہلے کے معمول کی طرف واپس نہيں لایا جاسکتا؛ دنیا بنیادی تبدیلی سے گذر رہی ہے اور اگلے چند برسوں میں دنیا بڑے بڑے اقدامات عمل میں لائے گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہم امریکیوں کو اپنے سیاسی نظام کی اصلاح کا اہتمام کرنا چاہئے، حق رائے دہی کی ضمانت فراہم کرنے کے لئے بھی اور جمہوری نمائندگی کو یقینی بنانے کے لئے بھی۔ نیز ہمیں رائے دہی کے حقوق کے بارے میں نئے قانون کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ قانون جنوبی محاذ کو نشانہ بنانے کی غرض سے 1965ء میں منظور ہؤا تھا۔ جس کے تحت اپنے حقوق سے محروم افریقی-امریکیوں نے، خانہ جنگی کے بعد کی تعمیر نو کے دور کے آخر تک، سفیدفام اشرافیہ کو برسراقتدار رہنے کا کا موقع فراہم کیا۔ لیکن آج غیر جمہوری رویے پورے ملک پر مسلط ہوچکے ہیں۔
ہمیں اپنی سیاست میں پیسے کے اثر و رسوخ کو کم کرنا پڑے گا: امریکہ جیسے معاشرے میں - جہاں اس طرح کی شدید عدم مساوات کی حکمرانی ہے - کسی بھی قسم کا کوئی دیکھ بھال کا نظام (مانیٹرنگ سسٹم) مؤثر نہیں ہے؛ اور جس نظام میں "ایک ڈالر ایک ووٹر" کا قاعدہ کارفرما ہو اور "ایک شخص ایک رائے" کا قاعدہ نظر انداز کیا جائے، وہ نظام ہیجان انگیزی، سیاست بازی اور عوام فریبی جیسے رجحانات کے پروان چڑھنے کے لئے ماحول فراہم کرتا ہے؛ تو ایسا نظام کیونکر ملکی مفادات کی ضمانت دے سکتا ہے؟
ہمیں عدم مساوات کے مختلف پہلؤوں کے توجہ دینا پڑے گی: ہم نے دیکھا کہ جو لوگ " Black Lives Matter" کے عنوان سے پرامن احتجاج کرنے والے زخمیوں کو علاج معالجے کی وہ سہولیات کبھی بھی میسر نہیں آئیں جو کانگریس کی عمارت (Capitol hill) پر حملہ کرنے والے سفید فام باغیوں کو فراہم کی گئیں اور پوری اقوام عالم نے دیکھا کہ امریکہ میں نسلی عدم مساوات کی جڑیں ملک کے تمام گوشوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
علاوہ ازیں کورونا کی وبا نے بھی ملک میں جاری معالجاتی عدم مساوات کو نمایاں کردیا ہے اور جس طرح کہ میں کہتا رہا ہوں، ملک میں جڑ پکڑنے والی عظیم عدم مساوات کا علاج کرنے کے لئے، چھوٹے چھوٹے اقدامات کافی نہیں ہیں۔
کانگریس [امریکی طاقت کی علامت ہے] پر حملہ ہوچکا ہے امریکی حکومت کی طرف سے اس واقعے سے نمٹنے کے لئے ہونے والے اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکے گا کہ ملک کس طرف جارہا ہے؟ لیکن اگر ہم ٹرمپ کو جوابدہی پر مجبور نہ کریں اور ان بنیادی مشکلات کے لئے معاشی اور سیاسی اصلاحات کی راہ پر گامزن نہ ہوں، جنہوں نے ہمیں ٹرمپ جیسے زہریلے صدر تک پہنچایا تھا، تو روشن مستقبل تک پہنچنے تک پہنچنے کی امید بےجا ہوگی۔ بائڈن اگر صحیح راستے پر گامزن بھی ہوجائے، کم از کم چار سال کے عرصے میں امریکہ کو درپیش عشروں پر محیط مشکلات کا حل ممکن نہيں ہوگا۔
درست ہے کہ امریکی صدر جو بائڈن نے "معمول پر واپس آنے" کا وعدہ کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیچھے کی طرف پلٹنا اور حالات کو پہلے کے معمول کی طرف واپس نہيں لایا جاسکتا؛ دنیا بنیادی تبدیلی سے گذر رہی ہے اور اگلے چند برسوں میں دنیا بڑے بڑے اقدامات عمل میں لائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*