امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی

امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی

امریکہ میں کورونا وائرس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کورونا ویکسین کی قلت کے پیش نظر واشنگٹن نے روس اور دیگر ملکوں سے ویکسین فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کورونا کے اعداد و شمار جاری کرنے والی ویب سائٹ ورلڈو میٹر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دو کروڑ پچاسی لاکھ سے زائد ہوگئی ہے جبکہ پانچ لاکھ پانچ ہزار تین سو نو افراد موت سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ہر ایک منٹ میں کم سے کم دو مریض کورونا کی وجہ سے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔
 وبائی امراض کے امریکی ادارے نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ کورونا کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کے باعث عمر کے تناسب میں کمی واقع ہوئی ہے، اس مرکز کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں اوسط عمر میں ایک سال کی کمی ہوگئی ہے۔
یہ امریکہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد شہریوں کی اوسط عمرمیں کمی کی بدترین مثال ہے اور  اس سے امریکہ میں کورونا کی خراب صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے۔ کورونا کے مریضوں کی تعداد اور اموات کے لحاظ سے اس وقت امریکہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
 دوسری جانب روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے خبردی ہے کہ کورونا ویکسین کی شدید قلت نے امریکی وزارت خارجہ کو دیگر ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی سفارت کاروں نے روس سمیت دنیا کے بعض دوسرے ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا ویکسین کی فراہمی میں امریکہ کی مدد کریں۔
اُدھر برطانوی اخبار گارڈین نے امریکہ میں ویکسینیشن کے عمل میں نسل پرستانہ رویوں کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ میں سرکاری سطح پر جاری ہونے والے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا ویکسینشن میں لاطینی نژاد اور سیاہ فام امریکیوں کا تناسب پانچ آعشاریہ تین اور پانچ اعشاریہ چار فی صد ہے۔
اگرچہ دو امریکی کمپنیوں فائزر اور موڈرنا نے اپنی تیار کردہ کورونا ویکسین کی توثیق کے بعد امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے بعض دیگر ملکوں میں اس کی لاکھوں ڈوز تقسیم کی ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ مذکورہ ویکسین کے ڈوز حاصل کرنے والے کم سے کم ساٹھ امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں کو شدید قسم کے دوسرے عارضوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حتی ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*