امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف:

امریکہ مزید ایک غیر متنازعہ طاقت نہیں رہا، اگلے 25 برس بالکل مختلف ہونگے

امریکہ مزید ایک غیر متنازعہ طاقت نہیں رہا، اگلے 25 برس بالکل مختلف ہونگے

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا ہے کہ امریکہ مزید ایک غیر متنازعہ طاقت نہیں رہا ہے چنانچہ امریکی افواج کو اگلی جنگوں کے لئے تیار ہوجائیں جو ان کے بقول موجودہ جنگوں سے بالکل مختلف ہونگی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سنہ 2030 کے سلسلے میں مستقبلیاتی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اُس سال بالادست ملک نہیں ہوگا اور ایشیا میں نئی ابھرتی ہوئی طاقتیں طاقت کی تقسیم کی چوٹی پر اس ملک کی جگہ لینے کی کوشش کریں گی۔ دوسری طرف سے تخمینوں اور اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے برسوں میں سیادی حربیات (یا Cyber warfare) اور مصنوعی ذہانت کا استعمال روایتی جنگوں کی جگہ لے لے گا چنانچہ بہت دنیا کے بہت سے ممالک نے اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکی امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے (Mark Milley) نے ویسٹ پوائنٹ میں ملٹری اکیڈیمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آنے والے دنوں کی زیادہ ہنگامہ خیز دنیا کی نہایت تاریک تصویرکشی کی، ایسی ہنگامہ خیز دنیا جس میں بڑی طاقتیں دنیا کے حالات کو تبدیل کرنا چاہتیں ہیں۔ انھوں نے حاضرین سے کہا: تماری ذمہ داری اس بات سے مطمئن ہونا ہے کہ امریکہ تیار ہے!
ملے نے فارغ التحصیل کیڈٹس سے کہا: "دنیا کی بالادست طاقتوں کے درمیان لڑ پڑنے کے امکان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم نے گذشتہ 70 سالوں کے دوران جو بھی ترقی کی تھی وہ اب رک رہی ہے اور ریاست ہائے متحدہ کو جنگ، خلا، انٹرنیٹ، بحریہ، فضائیہ اور بری افواج کے شعبوں میں بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے"۔
مارک ملے نے کہا: امریکہ مزید ایک غیر متنازعہ اور مُسَلّمہ طاقت نہیں رہی ہے۔ آج امریکہ کو یورپ میں، یوکرین کے اندر روسی فوجی کاروائی، ایشیا میں چین کے عظیم معاشی اور فوجی نمو اور ترقی اور شمالی کوریا کے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے خطرے جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں دہشت گردی اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہمیں ہر جگہ آزمایا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں اگلی جنگیں بہت پیچیدہ ہونگی اور ان جنگوں میں کے لئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور درست نشانے پر لگنے والے ہتھیاروں اور جدید تر ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو نئے ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیار اوکراین بھجوانے کی جلدی ہے جبکہ ان میں سے بعض وسائل ابھی پیدوار کے ابتدائی مراحل میں تھے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی بعض مواقع پر کندھے سے فائر کئے جانے والے ڈرونز استعمال کئے گئے ہیں۔
ملے نے کہا: اگلے 25 سے 30 سال کے عرصے میں جنگ اور ہتھیاروں کی کیفیت بدل جائے گی اور امریکہ پرانے اور منسوخ شدہ ہتھیاروں سے چپک کر نہیں رہ سکے گا بلکہ فوری طور پر افواج اور ہتھیاروں اور دیگر آلات اور وسائل کو جدید بنانے اور ترقی دینے کی ضرورت ہوگی۔ تاکہ اگلی جنگوں میں انہیں تسدیدی صلاحیت (Deterrent capacity) کے طور پر استعمال کرنا پڑے اور اگر ضرورت پڑے تو ان کے ذریعے فتح و کامیابی حاصل کی جاسکے۔
انھوں نے کہا: فارغ التحصیل افسروں کو چاہئے کہ وہ امریکی افواج کے طرز فکر، تربیت اور جنگی روشوں کو بدل دیں۔ نئے افسران کل کی فوج کے راہنماؤں کے طور پر روبوٹک ٹینکوں اور بحری اور ہوائی جہازوں کے ذریعے لڑیں گے اور مصنوعی ذہانت، مصنوعی ایندھن، سہ جہتی (3D) مصنوعات اور انسانی انجنئیرنگ (Ergonomics) کا سہارا لیں گے۔
ایک خبر امریکی سماجی انحطاط کی، 75 فیصد سیاہ فام خوف زدہ
ان دنوں امریکہ میں ہر روز فائرنگ کا کم از کم ایک واقعہ ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہا ہے اور ہر جگہ کئی لوگ مارے جا رہے ہیں، ہفتہ پہلے نیویارک کے ایک شاپنگ مرکز میں ایک سفیدفام نسل پرست نے فائرنگ کرکے 12 سیاہ فاموں کو قتل کر ڈالا، جس کے بعد ہونے والے سروے کے مطابق تین چوتھائی سیاہ فاموں نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ ان کے عزیزوں میں سے کوئی فرد نسلی تعصب کی بنیاد پر کہیں حملے کا شکار نہ بنے۔
واشنگٹن پوسٹ ایپسس (Washington Post-Ipsos) کی سروے رپورٹ کے مطابق، سروے می شرکت کرنے والے 75٪ سیاہ فاموں نے کہا کہ انہیں یا ان کے لئے اہمیت رکھنے والے افراد کو کہیں - سیاہ فام ہونے کی وجہ سے جسمانی نقصان نہ پہنچے۔ یہ بفیلو نیویارک میں سیاہ فاموں کے قتل عام کے ایک ہفتہ بعد شائع ہونے والی سروے رپورٹ ہے۔ ہل نیوز ویب سائٹ کے مطابق، سروے میں شرکت کرنے والے 70 فیصد لوگوں کو یقین ہے کہ امریکہ کے 50 فیصد یا اس سے بھی زیادہ سفید فام باشندے اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ و افضل سمجھتے ہیں اور نسل پرست ہیں؛ جبکہ 19 فیصد کا خیال تھا کہ نصف سے کم سفید فام باشندے نسل پرست ہیں۔ سروے میں شرکت کرنے والے دو تہائی لوگوں کا خیال تھا کہ سفید رنگت کی بالادستی کے قائل سفید فام، گذشتہ 5 سال پہلے کی نسبت، زیادہ بڑی مشکل بنے ہوئے ہیں اور 28 فیصد کا کہنا تھا کہ یہ مشکل پہلے کی طرح ہی ہے جبکہ پانچ فیصد کا کہنا تھا کہ آج یہ مشکل پہلے کی نسبت چھوٹی مشکل ہے۔
دو روز پہلے بھی دو رائفلوں سے لیس نوجوان نے ٹیکساس کے ایک پرائمری اسکول میں گھس کر 19 بچوں اور تین اساتذہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ گویا یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک کہ زوال کہ یہ عمل مکمل نہ ہو۔ جس کے بعد البتہ بڑے پیمانے پر بڑے واقعات کا رونما ہونا ایک منطقی توقع کے عین مطابق ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*