سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو:

امریکہ اپنی تاریخ کے ذلت آمیزترین دور سے گذر رہا ہے / ہم نے مشرق وسطی میں کھربوں ڈالر خرچ کئے اور ملینوں انسانوں کو قتل کیا

امریکہ اپنی تاریخ کے ذلت آمیزترین دور سے گذر رہا ہے / ہم نے مشرق وسطی میں کھربوں ڈالر خرچ کئے اور ملینوں انسانوں کو قتل کیا

ٹرمپ نے جارج بش جونیئر کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس نے امریکہ کو افغانستان اور عراق کی جنگ میں جھونک دیا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس نے قبل ازیں افغانستان کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن سے استعفا دینے کا مطالبہ کیا تھا، فاکس نیوز کے مشہور میزبان شان ہینٹی (Sean Patrick Hannity) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "کبھی بھی ہمارے ملک کی اتنی تذلیل نہیں ہوئی ہے"۔
شان ہینٹی نے ابتداء میں ٹرمپ سے کہا: بعض ذرائع اور افراد نے مجھ سے کہ آپ نے بذات خود مذاکرات میں طالبان کو (مذاکرات میں) کچھ انتباہات دیئے تھے، اب جو بائیڈن آپ (افغانستان کی موجودہ صورت حال اور اس ملک پر طالبان کے تسلط) کے سلسلے میں قصور وار ٹہرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں پہلے آپ کو جواب کا موقع دیتا ہوں، افغانستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے، نیز ہمیں طالبان کے سرکردہ افراد کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے میں بتایئے۔
ٹرمپ: شان (ہینٹی) مجھے خوشی ہے کہ آپ کے ساتھ ہوں۔ لیکن اس وقت ہمارا ملک ایک ہولناک دور سے گذر رہا ہے۔ میرے خیال میں طویل عرصے سے ہمارے ملک کی اس قدر تذلیل نہیں ہوئی تھی، میں یہ نہیں جانتا کہ اس کو عسکری شکست کا نام دیں یا نفسیاتی شگست کا۔ لیکن آج تک ہمیں اس طرح کے واقعے کا سامنا نہیں ہؤا ہے۔ ہمیں جمی کارٹر کے زمانے میں ایران میں ہمارے یرغمالیوں کے مسئلے سے بھی بری طرح کی خفت کا سامنا ہے۔ ہم اس کو شرمساری کا سبب سمجھتے تھے لیکن رونلڈ ریگن نے ہمیں اس مسئلے سے خارج کردیا۔ لیکن افغانستان کا مسئلہ کئی گنا زیادہ ہولناک ہے۔ ہزاروں امریکی اور دوسرے ممالک کے باشندے افغانستان میں پھنس گئے ہیں۔ صورت حال ایسی ہے کہ مجھے یقین نہيں آرہا تھا کہ اس طرح کا واقعہ رونما ہورہا ہے۔ جب آپ نے ایک بڑے فوجی طیارے کو دیکھا جس کے دو پہلؤوں سے لوگ سوار ہوکر افغانستان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے یہ سب ان حالات کا نتیجہ تھا جس سے یہ لوگ خائف تھے۔ ان میں سے کچھ افراد 2000 میٹر کی بلندی سے طیارے سے نیچے گر گئے۔ کسی نے بھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال ویت نام میں ہیلی کاپٹر کے واقعے کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہے؛ اور ہم امریکہ کو درپیش خفت آمیز ترین دور سے گذر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے بعدازاں طالبان کے ساتھ اپنی حکومت کی مفاہمت کی طرف اشارہ کیا اور اپنی کارکردگی کی تعریف کی۔
انھوں نے کہا: جی ہاں ہم نے طالبان کے ساتھ مفاہمت پر کافی کام کیا اور مائک پامپیو اور کئی دوسرے افراد نے شب و روز اس مسئلے پر کام کیا اور طالبان سے ملاقاتیں کی؛ بےشک طالبان سے ملاقات کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ آپ کو بات چیت کرنا پڑتی ہے۔ میں نے طالبان کے مذاکرات کاروں کے سربراہ سے کئی مرتبہ ملاقات کی۔ ہماری گفتگو کافی مضبوط تھی۔ میں نے گفتگو کے آغاز پر ہی اس سے کہہ دیا کہ "اگر امریکیوں کو کوئی حادثہ پیش آیا، اور اگر تم ہماری سرزمین کی طرف آئے، تو تمہیں ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی بھی ملک کے خلاف آج تک استعمال نہیں ہوئی ہے؛ نقصان اٹھاؤ گے، اتنی بڑی قوت تمہارے خلاف استعمال ہوگی جس کا تمہیں یقین تک نہیں آتا۔ میں نے اس شخص کے گاؤں کا نام لیا اور کہا کہ سب سے پہلا بم تمہارے گاؤں پر گرا دیا جائے گا"۔
شان ہینٹی: آپ نے یہ باتیں کس شخص سے کہہ دیں؟
ٹرمپ: ملا (عبدالغنی) برادر سے؛ جو غالبان طالبان کے اعلی قائدین میں سے ایک ہے۔ البتہ کوئی نہیں جانتا کہ طالبان کا اصلی قائد کون ہے۔ ہماری بات چیت بہت مضبوط تھی، گوکہ اس کے بعد بھی ہمارے درمیان بات چیت ہوئی جو کافی اچھی تھی۔ ۔۔۔ میں نے ان سے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ مفاہمت کریں، لیکن میرا افغان صدر اشرف غنی پر کبھی بھی اعتماد نہیں تھا۔ میں نے یہ بات خفیہ طور پر بھی اور اعلانیہ بھی کہہ دی تھی۔ میرے خیال میں وہ ایک بدعنوان شخص تھا۔
ٹرمپ نے دعوی کیا کہ امریکی سینٹروں کے درمیان اشرف غنی کی اپنی لابی تھی جبکہ میں اسے کبھی بھی نہیں چاہتا تھا۔ اب خبر آرہی ہے کہ وہ بڑی رقوم لے کر ملک سے فرار ہوگیا ہے اور میرے خیال میں یہ خبر درست ہے۔ اشرف غنی افغانستان میں ہمارے لئے ایک مشکل مسئلہ تھا۔
میرے خیال میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے کیونکہ افغانستان کا اصل مسئلہ طالبان تھے اور وہ عرصۂ دراز سے وہاں تھے اور اچھے جنگجو ہیں جو جم کر لڑتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت سارے ریپلکن اور ڈیموکریٹ راہنما افغانستان میں امریکی کی موجودگی جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے۔
ٹرمپ نے کہا: میں نے آپ کے اس پروگرام اور دوسرے پروگراموں میں لوگوں کی باتیں سنی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں افغانستان میں رہنا چاہئے۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ہم ہر سال 42 ارب ڈالر افغانستان میں خرچ کئے ہیں۔ ہر سال 42 ارب ڈالر سالانہ۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں روس اپنی پوری فوج کے لئے سالانہ 40 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔ لیکن ہم صرف افغانستان میں 42 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ سب مہمل ہے۔ ہم برسوں سے سالانہ 42 ارب ڈالر اس ملک کے دفاع کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ 20 سال سے نہیں بلکہ 21 سال چھ مہینوں سے، ہم وہاں موجود ہیں اور وہاں سے ہمیں کچھ بھی نہ ملا۔
سابق امریکی صدر نے جارج بش جونیئر کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس نے امریکہ کو افغانستان اور عراق کی جنگ میں جھونک دیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا: ہم دنیا کی سب سے بڑی فوج کے مالک ہیں لیکن جو واقعات رونما ہوئے ہیں، ہم اس فوج کو بدنام کررہے ہیں۔ ہم نے اس خوفناک علاقے (افغانستان) پر (2001ء) میں قابض ہوئے، ایسے ملک میں جہاں ہمیں مداخلت کرنا ہی نہیں چاہئے تھی، اور یہ ایک ہولناک فیصلہ تھا کہ ہم مشرق وسطی میں داخل ہوئے۔ میں جانتا ہوں کہ بش خاندان کو میری ان باتوں سے خوشی نہيں ہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ جب ہم نے مشرق وسطی میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ یہ ہمارے ملک کی تاریخ کا بدترین فیصلہ تھا اور "واضح ہؤا کہ وہاں ایک دلدل ہے" اور ہمارے اس فیصلے نے مشرق وسطی کو نیست و نابود کیا۔ مشرق وسطی کی صورت حال 20 21 سال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہوچکی ہے۔ یہ بہت برا فیصلہ تھا جس کی وجہ سے ہمیں کئی ٹریلین ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ جب میں دونوں فریقوں پر نظر ڈالتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ہمارا یہ فیصلہ کئی ملین انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا ہے اور مشرق وسطی کی حالت پہلے سے بہتر نہیں بلکہ بدتر ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے محاصرے اور اس اڈے میں موجود کثیر تعداد میں امریکیوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طالبان اچھے جنگجو ہیں جو برسوں سے لڑے ہیں اور آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ وہ اچھے جنگجو ہیں وہ ایک ہزار برسوں سے لڑ رہے ہیں اور اب طالبان نے کابل کے ہوائی اڈے کو گھیر لیا ہے۔ تو اب کون پیش گوئی کرسکتا ہے کہ وہ محصور ہوائی اڈے میں (امریکیوں اور دیگر) محصورین کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے؟ میں پوری سچائی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بڑے زیرک ہیں اور انہیں چاہئے کہ امریکیوں کو نکلنے کی اجازت دیں۔ ہماری حالت کچھ ایسی ہے کہ شاید اس وقت 40 ہزار امریکی اور امریکیوں کے مقامی معاونین افغانستان میں موجود ہیں، اور ممکن ہے کہ انہیں یرغمال بنایا جائے۔ 40 ہزار ممکنہ یرغمالی!۔
ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے سلسلے میں سابقہ امریکی انتظامیہ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا: منصوبہ یہ تھا کہ ابتداء میں غیر فوجیوں کو نکالا جائے اور سب سے آخر میں فوجیوں کو۔ گوکہ میرا یہ بھی منصوبہ تھا کہ اپنے تمام فوجی وسائل اور ہتھیاروں کو بھی افغانستان سے نکال دوں۔ افغانستان میں ہمارا اربوں ڈالر کا اسلحہ موجود ہے جن میں بلیک ہاک (Sikorsky UH-60 Black Hawk) ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں، اور اب روسی ماہرین ان کا جائزہ لیں گے نیز چین اور دوسرے! بھی۔ افغانستان میں ہمارے جدید ماڈل کے ٹینک اور گولہ بارود بشمول مختلف میزائل، بھی ہیں۔ میں ان سب کو بھی افغانستان سے نکال لاؤں، کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ (ہماری بنائی ہوئی افغان فوج) کبھی بھی نہیں لڑے گی۔
ٹرمپ نے کہا: میں نے یہ سوال اٹھایا کہ افغانی (یعنی افغان فوجی) طالبان کے خلاف کیوں لڑ رہے ہیں۔ لیکن بہت سارے افراد نے مجھے غلط معلومات فراہم کیں اور آخرکار ہم نے افغانستان کو ترک کردیا اور انھوں نے طالبان کے خلاف لڑنا، ترک کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں سے بڑی تنخواہیں لینے والے سپاہی تھے اور وہ تنخواہ کی خاطر طالبان کے خلاف لڑ رہے تھے اور ہم نے انہیں تنخواہ دینے کا سلسلہ بند کیا اور وہاں سے باہر نکل آئے اور انہوں لڑنے کا سلسلہ بند کردیا۔ ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم افغان فوجیوں کو بڑی بڑی رقوم دے رہے تھے، اور حالت کچھ یوں تھی کہ گویا ہم انہيں رشوت دے رہے تھے کہ وہ لڑیں۔ ۔۔۔ یہ جو اب ہم افغانستان کو چھوڑ رہے ہیں، یہ بہت اچھی بات ہے لیکن (اس سے پہلے) کسی نے بھی جو بائیڈن کی طرح ایک المناک فوجی پسپائی کا انتظام نہیں کیا تھا اور "یہ ہمارے ملک کی تاریخ میں ہماری شرمساری کا سب سے بڑا واقعہ ہے"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*