امام علی رضا علیہ السلام اور مہدوی اقدار

امام علی رضا علیہ السلام اور مہدوی اقدار

امام مہدی عج کے ظہور کا انتظار کرنے کو انتظار فرج کہا جاتا ہے۔ چونکہ ایسا انتظار معاشرے کو متحرک اور سرگرم بنا دیتا ہے اور جمود اور تحجر کو زائل کر دیتا ہے لہذا اخلاقی ترقی کا اہم ترین سبب سمجھا جاتا ہے۔

بقلم؛ نجم الدین طبسی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مہدوی معاشرے میں اخلاقی اقدار بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام نے مختلف مقامات پر امام مہدی عج اور مہدوی معاشرے کی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ یہ اخلاقی اقدار اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ امام مہدی عج کے ظہور پر عقیدہ رکھنے والے منتظرین ظہور ان کی روشنی میں اپنے عمل اور کردار کی اصلاح کر سکیں۔ امام علی رضا علیہ السلام سمیت تمام ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے عمل اور سیرت کے ذریعے بھی ان اخلاقی اقدار کو واضح کیا ہے۔ پیغمبر اکرم ص کی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام نے بھی اسی الہی اخلاق کے ذریعے انسانوں کو ہدایت کا راستہ دکھایا ہے۔ ہم نے تحریر حاضر میں امام علی رضا علیہ السلام کی احادیث کی روشنی میں مہدوی معاشرے پر حکمفرما اخلاقی اقدار پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

1)۔ عدل و انصاف
مہدوی معاشرے میں اہم ترین اخلاقی قدر عدالت اور انصاف ہے۔ متعدد احادیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امام مہدی عج عالمی سطح پر حکومت تشکیل دینے کے بعد دنیا کو اسی طرح عدل و انصاف سے پر کر دیں گے جیسے اس سے پہلے ظلم کے اندھیروں میں گھری ہوئی تھی۔ امام علی رضا علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: "جب امام کا ظہور ہو گا تو خدا کی زمین نورانی ہو جائے گی اور عوام میں انصاف برقرار ہو جائے گا۔ پس کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔" (بحارالانوار، جلد 52، صفحہ 321)۔ یعنی امام مہدی عج کی حکومت میں عدل و انصاف صحیح اور حقیقی معنوں میں جلوہ گر ہو جائے گا اور تمام انسان اس کا مشاہدہ کریں گے۔

2)۔ انتظار فرج
امام مہدی عج کے ظہور کا انتظار کرنے کو انتظار فرج کہا جاتا ہے۔ چونکہ ایسا انتظار معاشرے کو متحرک اور سرگرم بنا دیتا ہے اور جمود اور تحجر کو زائل کر دیتا ہے لہذا اخلاقی ترقی کا اہم ترین سبب سمجھا جاتا ہے۔ تمام معصومین ع نے اس پر تاکید فرمائی ہے۔ رسول خدا ص اور امام علی علیہ السلام نے انتظار فرج کو بہترین اور برترین عمل قرار دیا ہے۔ انتظار فرج کے اثرات میں سے ایک صبر و تحمل ہے جو اعلی اخلاقی فضائل میں شمار ہوتا ہے۔ انتظار فرج درحقیقت مصیبت پر بھی صبر ہے اور عبادت کے دوران بھی صبر ہے۔ امام علی رضا علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: "انتظار فرج بہترین صبر ہے، پس صبر کرو کیونکہ اس سے مایوسی دور ہوتی ہے۔"

تاریخ میں بیان ہوا ہے کہ جب بھی امام علی رضا علیہ السلام قائم آل محمد عج کا نام سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور سر پر ہاتھ رکھ کر فرماتے: "خدایا، ان کے ظہور میں تعجیل فرما اور ان کے قیام میں آسانی پیدا کر۔" لہذا انتظار فرج، امام مہدی عج سے عقیدت اور محبت رکھنے والے افراد کی اہم ترین اور خوبصورت ترین خصوصیت ہے۔ جب ایک مومن امام مہدی عج کے ظہور کا انتظار کرتا ہے تو خود کو ان خصوصیات سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جو امام عج کی نظر میں مطلوب اور پسندیدہ ہیں۔ بزرگ علمائے دین نے بھی ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے اور اسے حقیقی شیعہ کی نشانی قرار دیا ہے۔ شہید مرتضی مطہری نے انتظار کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک تعمیری انتظار اور دوسرا تخریبی انتظار۔ تعمیری انتظار یہ ہے کہ فردی اور اجتماعی سطح پر اسلامی اقدار نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔

3)۔ سادہ طرز زندگی
سادہ انداز میں زندگی بسر کرنا انبیاء علیہم السلام کی اہم خصوصیت رہا ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام نے بھی اپنی سیرت اور احادیث میں اس پر خاص تاکید کی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے اپنی حکمرانی کے زمانے میں سادہ ترین زندگی بسر کر کے تمام مسلمان حکمرانوں کیلئے اعلی مثال قائم کر دی ہے۔ ایک بار جب امام علی ع کو خبر ملی کہ بصرہ میں ان کے والی عثمان بن حنیف انصاری نے ایسی محفل میں شرکت کی ہے جہاں سب امیر اور بڑے لوگ تھے تو اسے خط لکھ کر شدید تنبیہ کی اور فرمایا: "میں ہر گز گمان نہیں کرتا تھا کہ تم ایسی دعوت میں شرکت کرو گے۔" امام علی رضا علیہ السلام بھی عام سطح کے فرد کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ جب آپ مامون کے ولیعہد تھے تب بھی بہت ہی سادہ انداز اختیار کر رکھا تھا اور اپنا دروازہ ہمیشہ عام لوگوں کیلئے کھلا رکھتے تھے۔

4)۔ عجز و انکساری
عجز و انکساری کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود کو دیگر انسانوں سے برتر نہ سمجھے۔ امام علی رضا علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: "وہ (امام مہدی عج) خدا کی خاطر عجز و انکساری کرنے میں سب انسانوں سے آگے ہیں۔" (بحارالانوار، جلد 25، صفحہ 116)۔ عجز و انکساری ایسی اخلاقی فضیلت ہے جو دیگر اخلاقی فضائل پیدا ہونے کا باعث بنتی ہے۔ لہذا امام علی علیہ السلام نے عجز و انکساری کو بہترین اخلاقی فضیلت قرار دیا ہے۔ متعدد آیات میں بھی خداوند متعال نے عجز و انکساری کو اپنے حقیقی بندوں کی خصوصیت قرار دیا ہے۔ یہ خصوصیت اس وقت زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہے جب معاشرے میں اعلی مقام رکھنے والا شخص جیسے حکمران اس کا حامل ہوتا ہے۔ لہذا مسلمان حکمرانوں میں اسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*