امام صادق علیہ السلام بزرگ علمائے اہل سنت کی نگاہ میں

امام صادق علیہ السلام بزرگ علمائے اہل سنت کی نگاہ میں

مالکی فرقے کے بانی امام صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں: کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی کے ذہن میں یہ نہیں گزرا کہ کوئی شخص جعفر بن محمد سے افضل اور برتر ہو سکتا ہے، چاہے وہ فضائل و کمالات کے اعتبار سے ہو، چاہے وہ علم و دانش اور عبادت و پارسائی کے اعتبار سے ہو۔

تحریر: علی رضا خاتم
ترجمہ: افتخار علی جعفری

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ۲۷ ربیع الاول سن ۸۳ ہجری بروز جمعہ بوقت سحر ایک ایسی شخصیت نے اس دنیا میں قدم رکھا جس کے فضائل و کمالات کا ادراک عقل بشری کے احاطہ قدرت میں نہیں ہے۔ وہ امام جس کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب میرا فرزند جعفر بن محمد پیدا ہو تو اسے "صادق" پکارنا(۱)۔ وہ رہنما جس کے بحر علم سے چار ہزار علماء نے اپنے علم کی پیاس بجھائی یہاں تک کہ اہل سنت کے چاروں امام (ابوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل) سب کے سب بلاواسطہ یا بالواسطہ آپ (ع) کے شاگرد تھے (۲)۔ آپ کے بعض نامدار شاگردوں کے نام یہ ہیں: ہشام بن حکم، مومن طاق، محمد بن مسلم، زرارۃ بن اعین، مفضل۔۔۔ جو آپ کے مکتب میں تربیت حاصل کرنے والوں میں نمایاں تھے۔ آپ کے دریائے علم سے اس قدر نہریں جاری ہوئیں کہ تمام اسلامی مناطق تک تشنگان علم کو سیراب کر گئیں۔ ہر شہر، ہر دیار، ہر قبیلے اور ہر محلے میں آپ کے علم و دانش کا چرچہ تھا۔ آخر کار وقت کے ظالم اور ستمگر بادشاہ منصور دوانیقی نے اسی خوف وہراس کی وجہ سے جو اسے امام علیہ السلام کے کمالات و فضائل کی وجہ سے پیدا ہو چکا تھا، ۲۵ شوال سن ۱۴۸ ہجری کو ۶۵ سال کی عمر میں زہر دے کر شہید کر دیا۔

امام صادق علیہ السلام کی فضیلت میں اہل سنت کے بزرگ علماء کے سنہرے جملے
امام صادق علیہ السلام کہ جو انبیاء کے علم و دانش کے وارث اور آسمانی کتابوں کے مفسر تھے، فضائل و کمالات کی اس منزل پر فائز تھے کہ کوئی دانشور وہاں تک پہنچنے سے عاجز تھا۔ ایسی شخصیت کہ تمام دانشوران عالم حتیٰ مخالفین بھی ان کے فضائل بیان کرنے پر مجبور تھے اور آپ کی شان میں ایسے جملات و سنہرے کلمات بیان کئے کہ تاریخ انہیں ثبت کرنے پر مجبور ہوئی۔

حنفی مذہب کے امام ابو حنیفہ
ابوحنیفہ کہ جنہوں نے دو سال امام صادق علیہ السلام کی شاگردی کا شرف حاصل کیا ہمیشہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے تھے: اگر میں وہ دو سال شاگردی نہ کرتا تو ہلاک ہو جاتا، (۳) میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ اور دانا کوئی نہیں دیکھا، وہ اس امت کے عالم ترین فرد تھے۔ (۴)

مالکی مذہب کے بانی مالک
انہوں نے امام صادق علیہ السلام کی فضیلت میں بیان کیا: کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، اور کسی کے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ جعفر بن محمد سے زیادہ افضل اور برتر کوئی ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ فضائل و کمالات کے اعتبار سے ہو، چاہے وہ علم و دانش اور عبادت و پارسائی کے اعتبار سے ہو، وہ بہت حدیثیں بیان کرتے تھے، اچھی گفتگو کرتے تھے اور اپنے علم سے سب کو سیراب کرتے تھے، خدا کی قسم وہ جو بھی کہتے تھے سچ کہتے تھے۔ (۵)

محمد بن طلحہ شافعی
اہل سنت کے بزرگ عالم دین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: وہ صادق آل محمد ہیں جو عظیم علم کے مالک، سب سے زیادہ عبادت گزار، دائم ذکر و فکر میں مصروف، قرآن کریم کی بہت زیادہ تلاوت کرنے والے، قرآن کے معانی پر غور و فکر کرنے والے، قرآن کے بے کراں معانی و مفہوم کی گھتیاں کھولنے والے۔ آپ نے اپنے اوقات کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا اس طریقے سے کہ وہ اپنا محاسبہ و مراقبہ کر سکیں۔ ان کی زیارت سے آخرت کی یاد آتی تھی، اور ان کی دلربا گفتگو سے دل دنیا سے بے زار ہو جاتا تھا۔ ان کی سیرت کی اتباع انسان کو جنت کا راہی کر دیتی تھی، ان کے چہرے کا نور یہ گواہی دیتا تھا کہ وہ فرزند پیغمبر ہیں، ان کے کردار کی پاکیزگی اس بات کی گواہی تھی کہ وہ حضرت زہرا (س) کی نسل سے ہیں۔ ان کی نیک طینت کے بارے میں کیا کہیں کہ جس کا کسی سے موازنہ نہیں، ان کے ادراک سے دنیا قاصر ہے ہر علم کا چشمہ ان کے وجود سے جاری ہوا ہے(۶)۔

ابن صباغ مالکی
اہل سنت کے نامی گرامی عالم دین اپنی کتاب میں امام صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں: جعفر صادق اپنے تمام بھائیوں میں اپنے باپ کے جانشین تھے وہ باپ کے وصی اور ان کے بعد امام تھے۔ فضائل میں دوسروں پر برتری رکھتے تھے، اور اپنے مقام میں سب پر فضیلت رکھتے تھے، لوگ ہر علم کو آپ سے نقل کرتے اور ہر دانش کا آپ کو سرچشمہ سمجھتے تھے، آپ ہر عام و خاص کا ورد زباں تھے، اور اس قدر آپ کا نام دوسروں کی زبانوں پر جاری تھا کہ دنیا کے دانشوروں نے آپ سے زیادہ کسی سے حدیثیں نقل نہیں کیں۔ اگر آپ تاریخ کی کتابوں کو جستجو کریں تو دیکھیں گے کہ سب آپ کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں اور آپ کو عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ (۷)

ابن حبان
اہل سنت کے یہ معروف عالم دین امام علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں: جعفر بن محمد سے زیادہ کوئی فقیہ نہیں تھا، آپ سادات اہل بیت(ع) میں سے تھے آپ فقیہ، علیم اور فاضل تھے، اور ہم ان کی گفتگو کے محتاج تھے، اور ایک روایت میں آیا ہے کہ وہ تنہا وہ شخص تھے جن کی گفتگو کے تمام فقہا، علما اور فضلا محتاج تھے۔ (۸)

محمد ابو زہرہ
عالم اسلام اور اہل سنت کے نامور دانشور صادق آل محمد(ع) کے بارے میں لکھتے ہیں: امام صادق علیہ السلام اپنی پوری زندگی حق کی راہ پر گامزن تھے، اور کبھی بھی شک و تردید نے ان کے دل میں خطور نہیں کیا، وقت کے سیاستدانوں کی کج فکری نے ان کے عمل میں لغزش پیدا نہیں کی، لہذا جب آپ کی شہادت واقع ہوئی، تو عالم اسلام نے ان کی کمی کو واضح محسوس کیا، اس لیے کہ ان کی یاد ہر زبان کو معطر کرتی تھی اور تمام علماء و دانشور ان کے فضائل کے معترف تھے۔
انہوں نے مزید لکھا: علمائے اسلام نے جس طرح سے امام صادق اور ان کے علم و دانش پر اجماع کیا کسی دوسرے شخص پر ایسا اجماع نہیں کیا، اور اہل سنت کے بہت سارے علماء ہیں جو آپ کے ہم عصر تھے جبکہ آپ سے کسب فیض کرتے تھے اس وجہ سے آپ اپنے زمانے میں علمی میدان کے پیشوا اور امام تھے، جیسا کہ آپ سے قبل آپ کے والد اور جد بھی اسی فضیلت کے مالک تھے، اور راہ ہدایت کے تمام رہنما آپ کی اقتدا کرتے تھے اور آپ سے حدیثیں نقل کرتے تھے۔ (۹)

میر علی ہندی
اس زمانے میں علم کی وسعت اور فلسفی گفتگو کا رواج تھا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس فکری حرکت کی رہبری اس حوزہ علمیہ کے ہاتھ میں تھی جو مدینہ میں شکوفا ہوا تھا۔ اس حوزہ علمیہ کو امام صادق علیہ السلام نے وجود بخشا تھا۔ وہ عظیم مفکر اور بے نظیر دانشور تھے اپنے زمانے کے تمام علوم کا سرچشمہ تھے اور پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے اسلام میں مدارس کا سلسلہ شروع کیا۔ (۱۰)

ابن خلکان
اہل سنت کے شافعی عالم دین اپنی کتاب "وفیات الاعیان" میں امام صادق علیہ السلام کے بارے میں یوں لکھتے ہیں: ان کی صداقت کی وجہ سے انہیں "صادق" کا لقب دیا گیا۔ امام صادق علیہ السلام کے فضائل اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ انہیں زبان سے بیان کیا جائے۔ (۱۱)

السویدی
انہوں نے امام صادق علیہ السلام کی فضیلت کے بارے میں کہا: وہ اپنے والد کے جانشین اور خلیفہ تھے ان سے وہ علوم نقل ہوئے جو کسی دوسرے شخص سے نقل نہیں ہوئے۔(۱۲)

ابن تیمیہ حرانی
وہابیت کے بانی ابن تیمیہ نے امام صادق علیہ السلام کے علم و دانش کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا: اہل سنت کے تمام ائمہ نے امام جعفر صادق کے حضور میں کسب فیض کیا ہے۔ (۱۳)


حواشی
[۱] بحارالانوار، ج۴۷، ص۸.
[۲] مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۲۴۷.
[۳] مختصر تحفة الاثناعشریه، ص ۸.
[۴] سیر أعلام النبلاء ،ج ۶، ص۲۵۷.
[۵] مناقب ابن شهرآشوب، ج۴، ص۲۷۵.
[۶] مطالب السول، ص۸۱.
[۷] الفصول المهمة فیمعرفة الأئمة، ج۲، ص۹۱۳.
[۸] تهذیب التهذیب، ج۲، ص۱۰۴.
[۹] الامام الصادق حیاته وعصره- آرائه وفقهه، ص ۳.
[۱۰] مختصر تاریخ العرب، ص۱۹۳.
[۱۱] وفیات الاعیان، ج۱، ص ۳۲۷.
[۱۲] سبائک الذهب، ص ۷۲.
[۱۳] منهاج السنه، ج۴، ص۱۲۶.

............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*