انتظار دوسرے زاویئے سے؛

امام زمانہ(عج) منتظر ہیں کہ ہم پلٹ آئیں

امام زمانہ(عج) منتظر ہیں کہ ہم پلٹ آئیں

"ہم اس وقت بہت حساس مرحلے سے گذر رہے ہیں، جو میرے خیال میں تاریخ کا حساس ترین نقطہ ہے ۔۔۔ گویا دنیا مکہ معظمہ اور محرومین کی امیدوں کے کعبے سے آفتاب ولایت کے طلوع اور مستضعفین کی حکمرانی کے لئے تیار ہو رہی ہے"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "وہ منتظر ہیں کہ ہم پلٹ آئیں"، اے ہمارے مولا! اے "ہر قافلے کی قبلہ گاہ"، "اے شب رؤوں کے لئے مشعل" کیا پھر بھی آپ دنیا کو منتظر چھوڑیں گے؟ ہم جانتے ہیں کہ "آپ بھی ہمارے پلٹ آنے کے منتظر ہیں"۔
1۔ امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے اس کلام پر ذرا غور کیجئے:
"ہم اس وقت بہت حساس مرحلے سے گذر رہے ہیں، جو میرے خیال میں تاریخ کا حساس ترین نقطہ ہے ۔۔۔ گویا دنیا مکہ معظمہ اور محرومین کی امیدوں کے کعبے سے آفتاب ولایت کے طلوع اور مستضعفین کی حکمرانی کے لئے تیار ہو رہی ہے"۔
2۔ اور اب رہبر انقلاب امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کا یہ کلام پڑھئے:
"آج دنیا کی تاریخ، بنی انسان کی تاریخ، ایک تاریخ کے موڑ پر کھڑی ہے۔ پورے عالم میں ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ اس زمانے کی بڑی اور واضح نشانی یہ ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف توجہ کی جائے اور لازوال الٰہی قدرت سے مدد حاصل کی جائے اور وحی کا سہارا لیا جائے۔ انسانیت مادیت پسند مکاتب فکر اور مادی نظریات کو پیچھے چھوڑ گئی ہے"۔
3۔ معاصر دور کے مشہور صحافی اور مصر کے اخبار الاہرام کے چیف ایڈیٹر محمد حسنین ہیکل امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے بارے میں کہتے ہیں: "میں سمجھتا ہوں کہ خمینی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اصحاب خاص میں سے ایک ہیں، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بصیرت اور سیرت کو ہوبہو موجوہ صدی میں لے کر آئے ہیں۔ گویا وہ علی (علیہ السلام) کی کمان ہاتھ میں لینے میں آئے ہیں جو آپ کی شہادت کے بعد اپنا سپہ سالار کھو چکا ہے اور حیران و پریشان ہے"۔
4۔ 1970ع‍ کے عشرے میں صدر امریکہ کے سلامتی کے مشیر ہنری کیسنگر کہتے ہیں: "آیت اللہ خمینی نے مغرب کو ایک منصوبہ بندی کے انتہائی سنجیدہ بحران سے دوچار کیا؛ ۔۔۔ کوئی بھی ان کے کسی فیصلے کا پیشگی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ وہ آج کی دنیا کی رائج معیارات کے بغیر، دوسرے معیاروں کے مطابق بات کرتے تھے اور عمل کرتے تھے۔ گویا ان کو کہیں اور سے الہام ہوتا تھا۔ مغرب کے ساتھ آیت اللہ خمینی دشمنی، ان کی الہی تعلیمات سے جنم لیتی تھی۔ وہ اپنی دشمنی میں بھی مخلص تھے۔"
5۔ بی بی سی عالمی سروس (B‪.‬B.‬C‪.‬ WORLD) کے چینل 1 نے "دوسری صدی" نامی دستاویزی مجموعے میں اکیسویں صدی کے ممکن واقعات کا جائزہ لیا ہے اور مغرب کے سیاسی راہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ جو کچھ [سامراج دشمن اسلامی انقلاب] فروری 1979ع‍ کو ایران میں رونما ہؤا وہ صرف ایرانیوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے لئے ایک تاریخ موڑ ہے اور یہ انقلاب دنیا بھر کے انسانوں کو ان کے مذہبی اصولوں کی طرف واپسی کا نقطۂ آغاز ہوگا ۔۔۔ پوری دنیا میں عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور ہندومت جیسے مذاہب کے پیروکار مذہبی اصول پرستی [یا بنیاد پرستی] کی طرف پلٹ آئے ہیں، حتی کہ ترکی میں بھی - جو سات عشروں تک دین اور خدا کے خلا لڑتا رہا تھا - آج مذہبی رجحانات کی طرف واپسی کی رفتار میں اضافہ ہؤا ہے۔ ‬‬
6۔ مورخہ 26 مئی 2011ع‍ کو غاصب صہیونی ریاست کے سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا: "آج وہ زمانہ نہیں رہا، عین ممکن ہے کہ تاریخ کا قبضہ (Hinge) اچانک گھوم جائے۔ سعودی عرب میں درہ "خیبر" سے لے کر مراکش میں آبنائے جبل الطارق تک، مشرق وسطیٰ میں بہت عظیم تبدیلی آ رہی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے خوابوں کی شمعیں گل ہو سکتی ہیں، جیسا کہ سنہ 1979ع‍ میں ایران ایسا ہی ہؤا تھا"۔
7۔ امریکی تزویرکار (Strategist) اور مشہور صحافی ایلون ٹافلر (Alvin Toffler) - جو وائٹ ہاؤس کے قریبیوں میں سے تھے - اعتراف کرتے ہیں؛ "اگلے عشروں میں ہمیں عالمی طاقت کا کھیل درپیش ہے، جس کا ادراک، اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو نظر رکھے بغیر، ممکن نہیں ہے"۔
8۔ مشہور زمانہ امریکی ماہر عمرانیات ایمانوئل والرسٹین (Emmanuel Wallerstein) تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں؛ "عالمی نظام (آپ پڑھئے: امریکی چودھراہٹ) کے قیام میں ہماری پیش قدمی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امام خمینی کا نظریۂ "ولایت فقیہ" ہے ... تمام نظریات وقت کے ساتھ ساتھ معدوم اور متروک ہوتے جاتے ہیں اور تاریخ میں محو ہو جاتے ہیں، لیکن [امام خمینی کا] نظریۂ ولایت فقیہ نمایاں تر اور جاندار تر ہو رہا ہے، بہت سے مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے"۔
9۔ برطانوی ماہر سماجیات انتھونی گیڈنز (Anthony Giddens) موجودہ صدی کی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ماضی میں تین فکری سماجیاتی دانشور کارل مارکس (Karl Marx)، ایمیل ڈرکھیم (Emile Durkheim)، اور میکس ویبر (Max Weber) معمولی اختلاف رائے کے ساتھ، یہی سمجھتے تھے کہ دنیا کا عمومی عمل سیکولرزم کی طرف ہے اور دین کو ایک طرف پھینکنے کی جانب بڑھ رہی ہے لیکن 1979ع‍ میں ایران کے اسلامی انقلاب کی ولادت کے بعد ہم اس مفروضے سے مختلف اور اس کا الٹا رجحان دیکھ رہے ہیں۔ یعنی دنیا کا عمومی عمل تیزی سے مذہبیت کی طرف بڑھ رہا ہے"۔
10۔ امریکی ایوان نمائندگان (United States House of Representatives) کے پچاسویں اسپیکر نیوٹ گنگرچ (Newt Gingrich) نے چند امریکی سینیٹروں کے اس دعوے کے جواب میں - کہ امریکہ دنیا کا قائد و زعیم ہے - ایران میں اسلامی انقلاب اور امام خمینی اور امام خامنہ ای کی عالمانہ اور زیرکانہ قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تمسخر آمیز لہجے میں کہا: "ریاستہائے متحدہ امریکہ کیونکر دنیا کی زعامت کا دعویٰ کرسکتا ہے جبکہ یہاں 12 سالہ بچیاں حاملہ ہو جاتی ہیں، 15 سالہ بچے ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں، 17 سالہ بچے بچیاں ایڈز میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور 18 سالہ لڑکے لڑکیاں ایسے حال میں ایف اے یا ایف ایس سی کا سرٹیفیکیٹ وصول کرتی ہیں کہ وہ پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں"۔
11۔ اے ہمارے مولا! آپ کو سب نے غائب کہا ہے کیونکہ آپ "ظاہر" نہیں ہیں، جس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ حاضر بھی نہیں ہیں، غائب ہونے کا مطلب ظاہر نہ ہونا ہے اور جو غیبت سے غیر حاضری کا مطلب لیتے ہیں انھوں نے آپ پر ناجائز الزام لگایا ہے اور وہ "ظہور" اور "حضور" کا فرق سمجھنے سے قاصر ہیں؛ بےشک آپ کی آمد، جس کے ہم منتظر ہیں، "ظہور" ہی ہے، نہ کہ "حضور"، اور آپ کے شیدائی جو صبح و شام آپ کو پکارتے ہیں وہ اللہ سے آپ کا "حضور" نہیں بلکہ "ظہور" مانگتے ہیں، کیونکہ وہ آپ کے حاضر ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب آپ ظہور فرمائیں گے تو سب انگشت بدندان رہ جائیں گے اور حیرت زدگی کی انتہاؤں پر کہیں گے کہ "ہم نے تو آپ کو دیکھا تھا"۔ اور وہ سچ کہتے ہیں کیونکہ آپ حاضر ہیں اور آپ ہمارے درمیان ہی ہیں؛ اس لئے کہ آپ ہمارے امام ہیں اور کوئی بھی امام ایسا نہیں ہے جو اپنی امت کے درمیان نہ ہو اور ان کے امور کی انجام دہی میں مصروف نہ ہو۔
14۔ اے ہمارے مولا، اے امام حاضر و امام غائب!
اے ہمارے مولا! اے "ہر قافلے کی قبلہ گاہ"، "اے شب رؤوں کے لئے مشعل" کیا پھر بھی آپ دنیا کو منتظر چھوڑیں گے؟ ہم جانتے ہیں کہ "آپ بھی ہمارے پلٹ آنے کے منتظر ہیں"؛ اور اسی وجہ سے ہم ہر وقت کَفِ حَسْرَت مَلْتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں کے باعث ندامت زدگی میں عرض کرتے ہیں:
ایک عمر ہے کہ ہم ان کی موجودگی سے پیچھے رہ گئے ہیں
اپنی سرد بےخانمانی میں تنہا رہ گئے
وہ منتظر ہیں تاکہ ہم پلٹ آئیں
ہم ہی جو غیبت کبریٰ میں رہ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حسین شریعتمداری چیف ایڈیٹر روزنامہ کیہان
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*