امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت اور ہماری ذمہ داری

امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت اور ہماری ذمہ داری

آج جن عادتوں کو ہم عیسائیوں کی بہترین عادتیں اور انکے بہترین اخلاق کے طور پر بیان کرتے ہیں جیسے رواداری و ایک دوسرے کے سلسلہ سے رعایت کرنا وغیرہ یہ وہ چیزیں ہیں جو مشرق میں مغرب سے زیادہ مستحسن سمجھی جاتی ہیں اور ان پر عمل مشرق میں مغرب سے زیادہ ہوا ہے خاص کر جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوئی تو ان لوگوں کے ساتھ بھی مسلمانوں نے اچھا سلوک کیا جو کافر مانے جاتے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ابھی کچھ دنوں قبل ۱۵ شوال کی تاریخ گزری ہے جو امام صادق علیہ السلام کی شہادت سے منسوب تھی یہ وہ تاریخ ہے جس میں بر صغیر میں بہت سے مقامات پر امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کا غم مناتے ہوئے مومنین مجالس عزا و عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں ۱۵ شوال کے ساتھ ساتھ ۲۵ شوال کو بھی بعض جگہوں پر امام علیہ السلام کی شہادت کا غم منایا جاتا ہے اسی مناسبت سے امام علیہ السلام کی ایک حدیث کی روشنی میں ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے

امام علیہ السلام کا ہم سے مطالبہ

امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :

ہم اسے پسند کرتے ہیں جو عاقل ہو، سمجھدار ہو دینی مسائل میں عمیق ہو حلیم و بردبار ہو صابر ہو سچا ہو ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا سلوک کرنے والا اور باوفا ہو اس لئے کہ خدا وند متعال نے پیغمبروں کو مکارم اخلاق و اخلاقی بلندیوں سے مخصوص کیا ہے لہذا جس کے پاس اچھا اخلاق ہو بلند اخلاق جو بھی رکھنے والا ہو اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور جس کے پاس یہ سب نہ ہو اسے خدا کے سامنے تضرع و زاری کرتے ہوئے اسکا مطالبہ کرنا چاہیے راوی کہتا ہے میں نے امام کی خدمت میں عرض کی یہ بلند صفات کون سے ہیں جنکی طرف آ پ نے اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا: پرہیز گاری ، قناعت ، صبر و شکر حلم و حیاء سخاوت اور شجاعت غیرت و نیکی صداقت و امانت کی ادائگی [1]

آج اگر ہم اس حدیث کے مطابق اپنی زندگی کے اصول معین کر لیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں امام علیہ السلام نے ہم سے پہلا مطالبہ عقل و خرد و دانشمندی کے ساتھ جینے کا کیا ہے امام علیہ السلام کو اگر عاقل پسند ہیں آپ کو اگر سمجھدار لوگ اچھے لگتے ہیں آ پ کو اگر با حیا و حلیم و بردبار لوگ پسند ہیں تو ہمیں اپنی زندگی کو ویسا ہی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارا امام ہم سے خوش ہو جائے اب سوچیں ہم کتنا عقل کو خرد کے ساتھ مسائل زندگی کو دیکھتے ہیں اور کتنی جگہ پر عقل و شعور کے بجائے محض شور و شور شور کے سامنے اپنے آپ کو چھوڑ دیتے ہیں فیصلہ وہ کرتے ہیں جسکا شور ہوتا ہے وہ فیصلہ نہیں کرتے جو ہمارا شعور کہتا ہے امام عاقل کو دوست رکھتے ہیں جبکہ ہم غافل کی طرح زندگی گزار رہے ہیں اور مسلسل غفلت کی بنیاد پر مار کھا رہے ہیں ، ایک تو ہم غفلت کی وجہ سے بروقت فیصلہ نہیں لے پاتے کہ ہمیں کب کیا کرنا ہے دوسری مشکل یہ ہے کہ غفلت کے ساتھ جہالت بھی ہے اور کریلا وہ بھی نیم چڑھا والی کہاوت ہم پر صدق آتی ہے ،اگر یہ غفلت و جہالت کی غلیظ گندگی ہم اپنے وجود سے کھرچنے میں کامیاب ہو جائیں تو شک نہیں ہے ہمارا وجود الگ ہی نظر آئے اور لوگ دور سے دیکھ کر پہچان جائیں کہ یہ جعفری طرز حیات کا حامل شخص ہے یہ صاحب عقل و شعور بھی ہے اور سچا و اچھا انسان بھی ہے یہ کبھی کسی کے ساتھ خیانت نہیں کر سکتا ہے یہ کبھی کسی کو دغا نہیں دے سکتا ہے اس لئے کہ یہ جس مکتب کا یہ ماننے والا ہے وہ مکتب سچائی کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیتا ہے یہ جس مذہب کا ماننے والا ہے اس مذہب کا رئیس انہیں لوگوں کو اپنا سمجھتا ہے جو سچے ہوں جو امین ہوں ۔ امام علیہ السلام کی حدیث کی روشنی میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں کتنا ہم نے صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیا اور کہاں کہاں ہمارے قدم لرز گئے جس کی بنیاد پر ہم ادھر چلے گئے جہاں ہرگز ہمیں نہیں دکھنا چاہیے صبر جہاں مشکلات میں اس لئے ضروری ہے کہ صبر و ضبط ہی کے ذریعہ ترقی کے زینوں کو طے کیا جا سکتا ہے وہیں صبر اطاعت پروردگار میں بھی ضروری ہے گناہوں سے بچنے میں بھی ضرور ی ہے دین کو محفوظ رکھنے میں بھی ضروری ہے اب ہم دیکھیں دین کے معاملہ میں سختیوں اور پریشانیوں میں ہم نے کتنا صبر کیا تھوڑی سی مشکل میں کہیں ایسا تو نہیں ہو ہم نے اپنے دین کی بولی لگا دی ہو ؟ کہیں ایسا تو نہیں ذرا سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو دیکھ کر ہم دینی فروشی پر اتر آئے ہوں ہم نے ضمیر کو سودا کر لیا ہو اگر ایسا کچھ ہے تو یاد رکھیں ہم جن کے مذہب سے وابستہ ہیں اور اپنے لئے اس وابستگی کو باعث فخر سمجھتے ہیں ہم انہیں جواب دینے کے لائق نہ رہیں گے اس لئے کہ ہم ان کی بدنامی کا سبب بنیں گے لہذا اپنے عمل و کردار کو بہتر سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے وہ بھی اس طرح کے ملک میں ہر قوم و مذہب کا ماننے والا بے ساختہ ہمارے کردار کو دیکھ کر بول اٹھے کہ یہ جعفری ہے ۔

[1] ۔ إِنَّا لَنُحِبُّ مَنْ كَانَ عَاقِلاً فَهِماً فَقِيهاً حَلِيماً مُدَارِياً صَبُوراً صَدُوقاً وَفِيّاً إِنَّ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَصَّ اَلْأَنْبِيَاءَ بِمَكَارِمِ اَلْأَخْلاَقِ فَمَنْ كَانَتْ فِيهِ فَلْيَحْمَدِ اَللَّهَ عَلَى ذَلِكَ وَ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ فَلْيَتَضَرَّعْ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لْيَسْأَلْهُ إِيَّاهَا قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَ مَا هُنَّ قَالَ هُنَّ اَلْوَرَعُ وَ اَلْقَنَاعَةُ وَ اَلصَّبْرُ وَ اَلشُّكْرُ وَ اَلْحِلْمُ وَ اَلْحَيَاءُ وَ اَلسَّخَاءُ وَ اَلشَّجَاعَةُ وَ اَلْغَيْرَةُ وَ اَلْبِرُّ وَ صِدْقُ اَلْحَدِيثِ وَ أَدَاءُ اَلْأَمَانَةِ . الکافي ج۲ ص۵۶ ، الأمالي (للمفید) ج۱ ص۱۹۲

مشکاة الأنوار ج۱ ص۲۳۸ ، وسائل الشیعة ج۱۵ ص۱۹۸ ، بحار الأنوار ج۶۶ ص۳۹۷ ، بحار الأنوار ج۶۷ ص۳۷۴

............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*