افغانستان میں ہمارا مشن کبھی بھی قوم کی تعمیر کرنا نہیں تھا: جوبائیڈن

افغانستان میں ہمارا مشن کبھی بھی قوم کی تعمیر کرنا نہیں تھا: جوبائیڈن

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں مزید امریکی نسلیں نہیں جھونک سکتے، افغان عوام کی حمایت جاری رکھیں گے، امریکی فورسز اپنے اتحادیوں اور حمایتی افغانیوں کو نکال رہی ہیں، چین اور روس نے افغانستان کے لیے کچھ نہیں کیا، چین اور روس کی خواہش ہوگی کہ امریکا افغانستان میں مزید ڈالر خرچ کرتا رہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کابل میں افراتفری کی صورتحال کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے پیچھے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق کئی دنوں سے ٹیلیویژنز پر چھائی ہڑبونگ کے مناظر کے بعد امریکی فوج کے انخلاء پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے طالبان کے افغانستان پر قبضے کا الزام افغان سیاسی رہنماؤں پر، جو کہ ملک سے فرار ہوگئے اور امریکی تربیت یافتہ افغان فوج کے عسکری گروہ سے نہ لڑنے کو قرار دیا۔ ساتھ ہی وہ کابل میں ختم کی گئی مغربی حمایت یافتہ حکومت پر تنقید کرنے سے نہیں ہچکچائے اور کہا کہ امریکی فوج ایسی قوم کا دفاع نہیں کرسکتی جس کے رہنماء ہار مان کر فرار ہوگئے۔ جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم نے انہیں اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا ہر موقع دیا، ہم انہیں ان کے مستقبل کے لیے لڑنے کا حوصلہ نہیں دے سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارا مشن کبھی بھی قوم کی تعمیر کرنا نہیں تھا۔ ساتھ ہی طالبان رہنماؤں کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکی انخلاء میں مداخلت کرتے ہیں تو انہیں تباہ کن قوت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ جو بائیڈن امریکی سفارتکاروں اور شہریوں کے ساتھ ساتھ امریکا کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہری جنہیں انتقام کا سامنا ہوسکتا ہے، کے محفوظ انخلاء کے لیے امریکی فوجیوں کی کمک دوبارہ کابل بھیجنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ جو بائیڈن کی طالبان کے قبضے سے متعلق پیش گوئی کے بعد افغانستان سے افراتفری میں انخلاء ناگزیر نہیں تھا، جس سے عالمی منظر نامے پر امریکا کے تشخص کو ٹھیس پہنچی، کیونکہ امریکی صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دینے کی کوشش کی ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 4 سال کی ہنگامہ آرائی کے بعد امریکا واپس آگیا ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے ناکامی کی تمام تر ذمہ داری افغان فوج پر ڈالتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ درست تھا، جس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کی صورتحال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی مشن دہشت گردی کی روک تھام تھا، افغانستان سے واپسی کا فیصلہ درست تھا، ہم نے افغان ملٹری فورسز کو تربیت دی، ہم نے افغان فوج کو ہر طرح کے ہتھیار مہیا کیے، افغان فورسز اگر لڑنا نہیں چاہتیں تو اس میں امریکا کچھ نہیں کرسکتا، افغان فورسز کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے تھے، اشرف غنی کو مشورہ دیا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں مزید امریکی نسلیں نہیں جھونک سکتے، افغان عوام کی حمایت جاری رکھیں گے، امریکی فورسز اپنے اتحادیوں اور حمایتی افغانیوں کو نکال رہی ہیں، چین اور روس نے افغانستان کے لیے کچھ نہیں کیا، چین اور روس کی خواہش ہوگی کہ امریکا افغانستان میں مزید ڈالر خرچ کرتا رہے، افغان حکومت کا جس تیزی سے خاتمہ ہوا، حیرت کی بات ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ افغان فوج کو سب کچھ دیا لیکن لڑنے کا جذبہ نہیں دے سکتے، ہم نے انہیں اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا ہر موقع دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا سفارتخانہ بند کر دیا اور عملے کو واپس بلا لیا، امریکی اور اتحادیوں کے انخلاء کے لیے 6 ہزار فوجی بھیجے ہیں، اگر انخلا روکنے کی کوشش کی تو سخت جواب دیں گے، انخلاء مکمل ہونے پر امریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*