کیا امریکہ کو عقل آگئی ہے؟

افغانستان سے انخلاء بیرون ملک بڑی فوجی مہم جوئیوں کے خاتمے کا اعلان ہے ۔۔۔ جو بائیڈن

افغانستان سے انخلاء بیرون ملک بڑی فوجی مہم جوئیوں کے خاتمے کا اعلان ہے ۔۔۔ جو بائیڈن

افغان جنگ کی وجہ سے ہمیں روزانہ 30 کروڑ ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے تھے / ہزاروں فوجی تعینات کرکے امریکہ کی سلامتی کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا / ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا / میں صدر بنا تو طالبان آدھے افغانستان پر قابض ہوچکے تھے / افغانستان سے ذلت آمیز فرار کے بعد امریکی صدر نے اپنی نشری تقریر میں افغانستان سے شرمناک پسپائی کو "غیر معمولی مشن" قرار دیا!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنے آخری سپاہی کے انخلاء کے ایک دن بعد اپنے خطاب میں کہا: میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اس ابدی جنگ کو مزید جاری رکھوں، اور میں نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ کو ہمیشہ کے لئے افغانستان سے نکال باہر کیا جائے! میرے امریکی ہم وطنو! افغانستان میں ہماری جنگ اختتام پذیر ہوچکی ہے!
عقل و دانش عرصے سے پکار رہی تھی امریکیوں کو کہ زور زبردستی سے اپنے افکار و عقائد اور شکست خورد لبرل جمہوریت کو دوسروں پر تھونپنا ممکن نہیں ہے لیکن دیر آید درست آید کے قاعدے کے تحت بائیڈن کا نیا موقف بھی غنیمت ہے؛ اور امید ہے کہ بائیڈن کا موقف امریکی استکبار و استعمار کا بنیادی موقف ہی ہو اور عالمی دہشت گرد اور کروڑوں انسان کے قاتل امریکہ کی متکبرانہ پالیسیوں میں عملی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
بائیڈن نے کہا:
- افغانستان میں ہم نے اپنا مقصد ایک عشرہ قبل حاصل کرلیا تھا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا تھا لیکن ایک عشرہ اور بھی وہاں ٹہرے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے لیکن یہ کام میدان میں لڑ کر نہیں کریں گے۔
- امریکہ کو اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے جب یہ کسی جنگ میں اترتا ہے اور اپنی قومی تعمیر کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے اپنے مقاصد کا تعین کرنا چاہئے۔
- افغانستان کے بارے میں فیصلہ صرف افغانستان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بڑی فوجی کاروائیوں اور دوسرے ممالک کی دوبارہ!! کے دور کے خاتمے کا فیصلہ ہے۔
- جن طالبان کو ہم 11 ستمبر 2001ء کے کچھ ہی عرصہ بعد اقتدار سے اتار دیا تھا وہ اب تقریبا پورے افغانستان پر قابض ہیں۔
- میرے ہم وطن امریکیو افغانستان کی جنگ اختتام پذیر ہوچکی ہے۔
- میں ایسا چوتھا صدر ہوں جس کو اس مسئلے کا سامنا تھا اور مجھے اس سوال کا سامنا تھا کہ کب اور کیسے اس جنگ کو ختم کر دوں۔
- میں جب صدارتی انتخابی مہم چلا رہا تھا تو میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اس جنگ کو خاتم کروں گا اور آج مجھے فخر ہے کہ اس وعدے پر عمل کرچکا ہوں۔ یہ امریکی عوام کے ساتھ دیانتداری سے پیش آنے کا وقت ہے، ہمارے پس ایسا کوئی بھی مقصد نہیں ہے جس کے لئے ہم ایک لامتناہی جنگ کو جاری رکھ سکیں۔
- میرا خیال ہے کہ ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی اور اربوں ڈالر خرچ کرنے سے امریکہ کے امن و سلامتی کو تقویت پہنچانا ممکن نہیں ہے۔
- سابقہ [ٹرمپ] حکومت نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرلیا تھا اور یہ اسی کا قصور ہے کہ طالبان اتنے طاقتور ہوگئے ہیں، جس کی مثال گذشتہ 20 سالوں میں نہیں ملتی۔ طالبان کے ساتھ ٹرمپ کے معاہدے کی وجہ سے جنوری میں میری صدارت کے آغاز تک، اس جماعت نے افغانستان کے نصف حصے کو تسخیر کرلیا تھا۔ ٹرمپ کے معاہدے کی وجہ سے، میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا سوا اس کے کہ ان کے معاہدے پر عملدرآمد کروں۔ مجھے یا تو ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے کا پابند ہونا چاہئے تھا یہ پھر مجھے مزید فوجی دستے افغانستان بھیجنا پڑتے؛ لیکن میں نے معاہدے کی پابندی کو اختیار کیا۔
اس کے باوجود جو بائیڈن حکومت کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ منظم انداز سے فوجی انخلاء کا اہتمام کرسکتے تھے۔
بائیڈن نے کہا:
- بائیڈن نے البتہ مخالفین کی تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ باتیں ناقابل قبول ہیں۔ کیونکہ سب کچھ بدل چکا تھا، سابق صدر نے معاہدہ کرلیا تھا، طالبان کی یلغار عنقریب تھی۔
- کابل کے ہوائی اڈے سے لوگوں کے انخلاء کا عمل قابل تعریف ہے اور اتنی بڑی کاروائی تاریخ میں کبھی انجام نہیں پائی ہے۔
- امریکہ نے ایک لاکھ افغانوں کو بیرون ملک منتقل کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہم طالبان کے زبانی کلامی وعدوں پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ بقیہ افراد کے انخلاء کے حوالے سے ان کا رویہ ان کے ساتھ ہمارے تعلق کا معیار ہوگا۔
- چین اور روس کی خواہش تھی کہ امریکہ مزید ایک عشرہ افغانستان میں تعینات رہے۔
- دہشت گردی کے خطرے کی شکل بدل چکی ہے لیکن داعش کے ساتھ ہمارا کام اختتام کو نہیں پہنچا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*