اشھد ان علیا ولی اللہ

اشھد ان علیا ولی اللہ

اہل سنت کا ایک عظیم طبقہ ہے جو ولایت و امامت امیر المومنین علی ولی اللہ کا بھی اعتقاد رکھتا ہے ان کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ"جناب علی المرتضی کے ولی اللہ ہونے بلکہ سر چشمہ ولایت ہونے سے تو ہمیں انکار نہیں مگر سوال تو اس جملے کا کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت میں شمولیت کا ہے ؟اس بات کا جواب کلام الہی اور کتب اہلسنت سے تفصیلاً پیش کیا جاسکتا ہے۔

تحریر؛ سویرا بتول

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شیعہ مسلمان جو کہ اپنے آپ کو "مومن" بھی کہتے ہیں اور تعلیمات کتاب اللہ و عترت اہلبیت رسول اللہ کو ماننے کے بادلیل دعویدار ہیں ابتداء ہی سے کلمہ طیبہ *لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ* پڑھتے ہیں۔ ان کی تمام مساجد کی پیشانیوں پر یہی کلمہ شریف درج ہے۔ان کی کتابوں میں، ان کی چھپی ہوئی تفصیلات نماز میں یہی کلمہ لکھا ہے۔ان کی اذان میں *اشھد ان علی ولی اللہ* کی آواز بھی بلند ہے۔یہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے بلکہ ابتداء ہی سے ایسا ہے۔آج جبکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور عوامی حکومت کو استحکام حاصل ہے اور مخالف جماعتوں کو اقتدار حاصل کرنے میں اپنی تمام تر کوششوں میں بین ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے بعض شر پسند عناصر کلمہ طیبہ کے مسئلہ کو چھیڑ کر فرقہ وارانہ فضا کو ہوا دینا چاہتے ہیں اور ملک کے امن و امان کو مکدر کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ مملکت خدادا پاکستان تمام مسلمانان پاکستان بالخصوص اہلسنت والجماعت، متبعیں صوفیائے کرام اور شیعان محمد و آل محمد کی مشترکہ جدو جہد کا نتیجہ ہے کہ جو قدرت نے ان کے اتحادو اتفاق کے انعام میں مرحمت فرمایا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح محمد وآل محمد ہی کے ماننے والوں میں سے تھے۔راجہ صاحب محمودآباد، راجہ غضنفر علی،مرزا ابو الحسن اصفہانی،سید مراتب علی شاہ، سید حسین امام، شیخ کرامت علی یہ سب کون تھے؟کیا یہ سب پاکستان بنانے والوں کے ہر اول دستے میں شامل نہ تھے؟ان کے بالمقابل کیا مودودی جماعت، عبد الغفار اینڈ پارٹی اور مولوی احمد دین کھیم کرنی المعروف ابوالکلام آزاد اور دیوبند کی جمعیت العلماء وغیرہ اینٹی پاکستان اور ہندو کانگریس کے پروردہ اور زیر اثر نہ تھے؟ شیعہ مسلم ہمیشہ پاکستان کا دایاں بازو اور بازوئے شمشیر زن رہے ہیں لہذا انکو چھیڑنا اور ان کی مذہبیات میں دخل اندازی کرنا درست نہیں یہ حقیقیتا بہت بڑی احسان فراموشی ہوگی۔ حکیم مشرق ڈاکٹر اقبال کون تھے؟ جن کی صد سالہ یادگار حکومتی و عوامی سطح پر منائی جاتی ہے۔وہ نہ بریلوی تھے، نہ دیوبند، نہ وہابی، نہ صوفی، نہ ملا۔بلکہ وہ ایک محب وطن و محب اسلام مسلمان تھے جو اپنے آپ کو قلندر کہتے رہے بقول خود:
تھا اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا سا
تفصیل علی علیہ سلام ہم نے سنی اس کی زبانی۔ (بانگ درا)

اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔قرآن حکیم میں بہ یک جا مکمل کلمہ موجود نہیں البتہ اس کا ذکر اور اس کے اجزاء قرآن پاک میں مختلف مقامات پر موجود ہیں جنکا اقرار کرنا ہر صاحب ایمان مسلمان پر فرض ہے۔قرآن کی متعدد آیات کی روشنی میں انسان مسلمان تو صرف لاالہ الااللہ کہنے سے بھی ہوجاتا ہے کیونکہ یہی کلمہ طیبہ کااصل ہے۔مگر توجہ طلب تو یہ ہے کہ خوداہلسنت والجماعت نے چھ کلمے بنائے ہوئے ہیں جو کہ ان کی کتب اور بالخصوص اب مروجہ کتب نماز جو تمام اہلسنت و اہلحدیث میں ان کے جید علماء کی بنائی ہوئی پڑھائی جاتی ہے اس میں بھی درج ہیں اور سنی وہابی طلباء و عوام سب پڑھتے ہیں۔ان کا اول کلمہ طیب، دوم کلمہ شہادت، سوم کلمہ تمجید،چہارم کلمہ توحید، پنجم کلمہ استغفار اور ششم کلمہ رد کفریہ اتنے سارے کلموں پر تو اعتراض نہیں مگر شیعہ کلمہ پر اعتراض ہے۔شیعہ مسلم نہ صرف لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کہنے والوں کو مسلمان مانتے ہیں بلکہ حضور صلی علیہ و آلہ وسلم کے فرمانے پر صرف لاالہ الا اللہ کا اقرار کرنے والوں کو بھی دائرہ اسلام میں شامل سمجھتے ہیں۔البتہ جو رسول خدا کو آخری نبی نہ سمجھے تو اسے دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔لہذا اعتراض لا یعنی ہوگیا۔ *علی ولی اللہ* تکمیل دین و ایمان اور اقرار ختم نبوت کے لیے لازمی ہے اور یہ بات آئندہ اہلسنت کتب سے ثابت ہوگی کہ دین کامل ہی نہیں ہوا اور نبوت ختم ہی نہیں ہوئی جب تک کہ ولایت امیر المومنین علی ابن ابی طالب کا اعلان نہیں ہوا۔

اہل سنت کا ایک عظیم طبقہ ہے جو ولایت و امامت امیر المومنین علی ولی اللہ کا بھی اعتقاد رکھتا ہے ان کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ"جناب علی المرتضی کے ولی اللہ ہونے بلکہ سر چشمہ ولایت ہونے سے تو ہمیں انکار نہیں مگر سوال تو اس جملے کا کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت میں شمولیت کا ہے ؟اس بات کا جواب کلام الہی اور کتب اہلسنت سے تفصیلاً پیش کیا جاسکتا ہے۔
ارشاد الہی ہے:
*انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو الذین یقیمون الصلوة و یوتون الزکوة وھم راکعون۔ومن یتول اللہ و رسولہ والذین امنو فان حزب اللہ ھم الغلبون* سورة ماٸدہ
سواٸےاس کے نہیں ہے(یعنی بالتحقیق)کہ تمہارا ولی اللہ ہے,اسکا رسول اور وہ ایمان والےجو نماز قاٸم کرتے ہیں، زکوة دیتے ہیں حالت رکوع میں۔اور جو کوٸی اللہ اور اس کےرسول اور اُن ایمان والوں کو ولی بنائے گاپس تحقيق یہ ہے کہ اللہ کا گروہ یہ ہی غالب رہنے والے ہیں۔

اس کلام ربانی کی رو سےاللہ تعالی کےعلاوہ منجانب اللہ دو ولی اور بھی ثابت ہوتے ہیں،ہر صاحب ایمان یعنی کامل انسان کے لیےتینوں کا اقرارکرنا ضروری ہے۔اب تفاسیر اٹھاکر دیکھیےکہ سواٸے نفس رسول علی ابن ابی طالب کےوہ کونسی ہستی ہیں جس نے حالت رکوع میں زکوة دی؟ مفسرین اہلسنت کا اس بات اتفاق ہے کہ یہ آیہ مجیدہ خاص طور پر علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوٸی ہے۔

مشہور و معروف آیہ قرآن ہے
*یاایھا الذین امنو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم* سورة نسإ
اے وہ لوگو!جو ایمان لاٸے ہو اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرو رسول (ص) کی اور تم میں سے اولی الامر کی۔
غور طلب امر یہ ہے کہ وہ مسلمان جو کلمہ طیبہ میں لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کے بعد علی ولی اللہ نہیں کہتےیا کہنےکی مخالفت کرتے ہیں اگر وہ حضرت مولاٸےکاٸنات علی المرتضی اخی رسول کو ولی اللہ نہیں سمجھتے تو منقولہ بالاآٸیہ مجیدہ کی روسے ان کے لیے بھی بعد از خدا اور رسول(ص) کسی تیسری شخصیت واجب الاطاعت کا اقرار ناگزیر ہے۔بغیر اسکے اقرار کے شرط ایمان پوری نہیں ہوتی۔
اہلسنت والجماعت نے اپنے سلسلہ طریقت کامنبع و سرچشمہ بعد از رسول ذات اقدس علی المرتضی ہی کو تسلیم کیاہوا ہے۔اِن کےنزدیک ولایت شروع ہی جناب امیر المومنین علی ابن ابی طالب سے ہوتی ہے۔اب اگر وہ کلمہ میں خداو رسول(ص) کے بعد اسکا اقرار نہ کریں تو وہ الگ بات ہے۔

یہ آل محمد کا عظیم معجزہ ہے کہ باوجود انتہائی سختیوں اور بے پایاں مخالفتوں اور ظلم وستم کے پروردگار عالم کا رسول اللہ سے کثرت اولاد کا وعدہ پورا ہوکر رہا اور اہلبیت کی تعلیمات اور انکا مرتبہ و مقام صفحہ تاریخ سے محو نہ ہوسکا اور ایک مخصوص طبقہ مسلمین نے مکمل کلمہ طیبہ کو اپنا حرز جان بنائے رکھا اور آج بھی دنیا کے کونے کونے میں اس طبقے میں یہی کلمہ جاری ہے اور *علی ولی اللہ* کی صدا گونج رہی ہے۔ زمانے کی نزاکت اور حالات کی مخالفت کے آج بھی اگر کتب گزشتہ کی ورق گردانی کی جائے تو شیعہ کے علاؤہ غیر شیعہ کتب معتبر میں بھی مکمل کلمہ طیبہ اپنی پوری تابانی سے جلوہ گر ہے۔ہم ذیل میں چند بیانات درج کرتے ہیں اور انکے گواہ اہل اسلام کے ایک بہت بڑے اور مسلمہ *غیر شیعہ جید عالم و عارف سید علی ہمدانی* اہلسنت شافعیہ کو پیش کرتے ہیں۔آپ اپنی مشہورو معروف کتاب مودتہ القربیٰ میں صحابہ رسول سے چند احادیث بیان فرماتے ہیں؛
1)حضرت عتبہ بن عامر صحابہ رسول سے مروی ہے کہ ہم نے اس قول پر رسول خدا سے بیعت کی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔وہ واحد ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی علیہ و آلہ وسلم اس کے نبی ہیں اور علی علیہ السلام اس کے وصی ہیں
پس ان تین شرطوں میں سے کسی ایک کو اگر ہم ترک کردیں تو کافر ہو جائیں گے۔اسر آنحضرت نے ہم سے فرمایا تم اس کو یعنی علی ابن ابی طالب کو دوست رکھو خدا بھی اس کو دوست رکھتا ہے۔(مودتہ القربی ترجمہ المودتہ رابعہ زیر٨)
2) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا دیکھا *لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ و علی ولی اللہ اخو رسول اللہ*( حوالہ ایضاالمودتہ سادستہ زیر١)
اس کی تاٸید جناب سید محمد صالح کشفی حنفی ترمذی نے عہد شاجہانی کی اپنی مشہور تصنیف کوکب دری میں کی۔ حضرت سید علی ہمدانی اہلسنت شافعیہ کے بیانات آپ نے پڑھے انکےعلاوہ اگرتلاش کیا جاٸے تو کلمہ طیبہ میں *علی ولی اللہ* کی شمولیت دیگر اہلسنت کتب سے پتہ چلتا ہےمثلا مشہورو معروف محدث اہلسنت علامہ دیلمی اپنی مستند کتاب فردوس الاخبار مین تحریر فرماتےہیں کہ جناب رسول اللہ (ص) نے معراج پر تشریف لےگٸے تو دروازہ جنت پر سونےکےحروف سےلکھا ہوا دیکھا *لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ(ص) علی ولی اللہ* .
یہ حدیث زمانہ حاضرہ کے بلند پایہ و مسلمہ عالم اہلسنت و الجماعت مولانا محمد شفیع اوکاڑی نے بھی اپنی کتاب سفینہ نوح کے حصہ اول میں نقل فرماٸی ہے اور تاٸید کی ہے کہ رسول نےیہی فرمایا ہے۔پس پاکستان کے سب سے بڑے عالم اہلسنت و الجماعت نے بھی اس کی توثیق فرمادی کہ *لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ* کا کہنا تمام مسلمانوں کے نزدیک سنت رسول ثابت ہوا۔اگر مزید روایات تلاش کی جاٸے تو بہت سی ملیں گی مگر بوجہ طوالت و محنت تجسس نظرانداز کررہے ہیں اور طالبان حق کےلیے اسی پراکتفإ کرتےہیں۔

جیسا کہ ابتدا بیان میں بھی ہم اس حقیقت کو نمایاں کرچکے ہیں اب دوبارہ استدلاً پیش کرتے ہیں کہ شروع ہی سے شیعہ مسلمانوں کا یہی عمل رہا ہے کہ مکمل کلمہ طیبہ *لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ* پڑھتے ہیں بلکہ جذبہ ایمانی کی تکمیل کےلیے اسکے ساتھ ہی وخلیفہ بلافصل بھی کہتےہیں جو حقیقت ہے کیونکہ جناب امیر المومنین کو خلیفہ رسول تو اہلسنت و اہلحدیث بھی مانتے ہیں اور کہتے ہیں مگر بلافصل تسلیم نہیں کرتے۔شیعہ خلافت محمدیہ کو صحیح معنوں میں (یعنی بعد از رسول منبر سید المرسلین پر متمکن وارث خلافت الہیہ) تسلیم کرتے ہوٸے,معاً (یعنی فورا ہی بعدرسول جناب امیر المومنین علی المرتضی) کا اس پر سرفراز ہونایقین کرتےہیں۔بلکہ عہد رسالت مآب میں بھی آپ ہی وصی رسول و خلیفہ رسول تھے جیسا کہ بوقت دعوت ذواالعشیرہ و ہجرت و تبلیغ سورہ برإت و غزوہ تبوک و خم غدیر کے واضح اعلانات رسول سے واضح ہے اور آپ ہی کی پیروری کا قرآن پاک میں پیروری رسول کے ساتھ ہی ساتھ بہ یک جا *یعنی بلافصل* حکم موجود ہے.


مکتب اہل بیت میں یہ کلمہ پیداٸش سے لیکر قبر تک ہر شیعہ مسلم کے لیے ضروری ہے۔بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اُس کے دونوں کانوں میں اذان و اقامت پڑھی یا سناٸی جاتی ہے جس میں علی ولی اللہ وصی رسول اللہ و خلیفہ بلافصل بلند آواز سے پڑھا جاتا ہے اور مردے پر قبر میں بھی تلقین پڑھنا ضروری ہے۔ شیعہ مسلم اس کے اتنی سختی سے پابند ہیں کہ اسکے بغیر قبر کو بند نہیں کرسکتے۔غیر مسلم شیعہ میں اسکا دستور نہیں وہ اپنی میت کو کچھ بھی تلقین نہیں کرتے،جو کلمہ وہ پڑھتےہیں وہ بھی نہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ مسلم کلمہ طیبہ کے جتنی سختی سے پابند ہیں دوسرےاتنے پابند نہیں۔وجہ یہی ہے کہ شیعوں کے نزدیک قبر میں سوال و جواب میں من ربک ، من دینک ،من نبیک کے بعد من امامک بھی پوچھا جاٸےگا۔یعنی شیعہ مسلم کے نزدیک مکلمل کلمہ طیبہ اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیےیہ جوابدہ ہیں اس لیے اتنی پابندی ہے۔یہ کیسے چھوٹ سکتا ہے اور ان سے کیونکر چھڑایاجاسکتاہے سواٸے اسکے کہ دور بنی امیہ و بنی عباس کیطرح دورِجبرو استبداد آجاٸے اور بزدر شمشیران کی زبان سے چھڑیاجاٸے اور وہ بھی اِنکے دل سے نہیں چھڑایا جاسکتا۔جناب رسالت مآب نےفرمایا کہ روز محشر ہمارےشیعہ اپنی قبروں سےیہ کہتے نکلیں گے *لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ علی حجتہ اللہ* (من لا یحضرة الفقیہ ص٥٨٩)

کیا کوئی کسی کو اس کے مذہبی عقائد و اعمال بجالانے سے روک سکتا ہے؟ جبکہ بروئے قرآن لااکرہ فی الدین ہدایت بھی واضح ہے۔شیعہ مسلم جو مملکت پاکستان کے پرامن شہری ہیں اور ابتداء ہی سے یہاں کے باشندے ہیں جن کی اکثریت نے بعد از تحقیق حق اسلام میں مذہب حقہ یعنی تعلیمات محمد و آل محمد کو اختیار کیا اور جن کی موت و حیات پاکستان ہی سے وابستہ ہے کیا ان کے اصول و فروع میں مداخلت کرکے مخالفین پاکستان ملک میں نیا فتنہ پیدا کرنا نہیں چاہتے؟ جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امامت ان کے اصول دین میں ہے۔اسی وجہ سے یہ امامیہ کہلاتے ہیں اور کلمہ طیبہ ابتداء ہی سے *لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ* پڑھتے ہیں، ان کے اعمال کی کتابیں دیکھ لو، فقہ کی کتابیں ملاحظہ کرو، اقوال آئمہ معصومین پڑھ لو۔ولایت امیر المومنین علی ابن ابی طالب وہ روشن حقیقت ہے جس سے اہل سنت والجماعت کی نمایاں اکثریت بھی انکار نہیں کرتی۔صوفیان طریقت اپنے سلسلوں کی ابتداء ہی ولایت علی مرتضیٰ سے کرتے ہیں اور اسی ذریعے سے رسول خدا تک پہنچتے ہیں۔اب محبان اہلبیت کو کیوں ستایا جارہا ہے اور ہدایات الٰہیہ ھل جزاء الاحسان آلا الاحسان پر کیوں عمل نہ کیا جائے؟ جبکہ مملکت خدادا کسی ایک فرقہ کی جاگیر نہیں کہ کوئی فرقہ اس پر اپنا مخصوص دعوئے رکھتا ہو۔مذہبی آزادی پاکستان کے امن کی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اپنے اپنے مذہب پر چلتے ہوئے ایک دوسرے سے رواداری سے پیش آنا ہی ملک میں امن و امان اور ترقی و استحکام کی ضمانت ہے اور یہی مملکت پاکستان کے آئین کا طرہ امتیاز ہے۔
از ولائے دود مانش زندہ ام
در جہاں مثلِ گہر تابندہ ام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*