اسرائیل و امریکہ کے درمیان مشترکہ اقدار

اسرائیل و امریکہ کے درمیان مشترکہ اقدار

امریکہ و اسرائیل دو ایسی سرزمینیں ہیں جو جنہیں یہودیوں ہی نے غصب کیا ہے ایک تو یہودیوں کے خوابوں کی تعبیر اور انکی اساطیری شان رکھنے والی زمین جسے ارض مقدس یا موعود مقدس کہا جاتا ہے خواہ ارض مقدس کی صورت فلسطین پر قبضہ ہو یا امریکہ کا انکشاف دونوں ہی یہودیوں کی کارستانیاں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ دنیا میں اپنے آپ کو آزادی و صلح اور دہشت گردی سے مقابلہ  کر نے والے  ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو تمام ملکوں کی قیادت کر رہا ہے ، جبکہ اگر دیکھا جائے تو بشریت پر جتنے بڑے بڑے حملے اور جنایتیں ہیں سب اسی کے ذریعہ وجود میں آئی ہیں ، چاہے کالوں کا قتل عام ہو ، یا سیاہ فاموں کو غلام بنانا ہو ، دوسری جنگ عظیم کی بات ہو یا ہیروشیما و ناگاساکی پر جاپان میں ایٹم بم کا گرایا جانا ہو ، ویتنام کی جنگ ہو یا عراق و افغانستان کی جنگیں ، داعش کو وجود میں لانا ہو یا ہزاروں چھوٹی بڑی جنایتیں سب کے سب اسی ملک کے ذریعہ انجام پائی ہیں جو دنیا میں آپ کو ایک صلح طلب ملک کے طور پر پیش کرتا ہے [1] فرانس کے سوشلسٹ صدر جمہوریہ فرانسوا اولانڈ [2] نے  ۲۰۱۲ء میں کہا تھا کہ "اسرائیل پر ہونے والی تنقید اگر دقیق طور پر دیکھی جائے تو اس لئے ہے کہ اس ملک میں عالی ترین سطح پر عوام کی حکمرانی ہے"  فرانس کے سابق صدر جمہوریہ کی بات یہ ہے جبکہ  حقیقت تو یہ ہے کہ اس رجیم کی ماہیت ہی یہی ہے کہ اسے فلسطین کی سرزمین پر قائم کیا گیا ہے اسے اس طرح وجود بخشا گیا ہے کہ لاکھوں لوگوں کا قتل عام ہوا ہے اور لاکھوں لوگوں کو گھر سے بے گھر کیا گیا ہے لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کو بے گھر کر کے لاکھوں کا قتل عام کر کے یہ ملک  وجود میں آیا ہے ۔

علاوہ از ایں  اسرائیل کے شہری و مدنی حقوق (ACRI) کے ایک مرکز کی جانب سے کئے گئے سروے کے نتائج کے مطابق اسرائیل کی  75% یہودی آبادی ایسی کالونیوں اور بلڈگوں میں رہنے سے احتراز کرتے ہیں جہاں کوئی ایک عرب بھی رہائش پذیر ہو ۔جبکہ انہیں میں سے50%  کا  یہ ماننا ہے کہ عربوں کے اندر اتنی لیاقت و صلاحیت نہیں ہے کہ اس جیسے دیگر شہریت کے حقوق سے بہرہ مند ہو سکیں ، اسرائیل کے جوانوں کی دو تہائی  تعداد ایسی ہے جو مانتے ہیں کہ یہ عرب لوگ کم عقل ، بے پڑھے لکھے ،پست اور وحشی ہوتے ہیں [3] یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ بات محض مقبوضہ فلسطین میں رہائش پذیر لوگوں ہی کے سلسلہ سے نہیں ہے بلکہ سیاہ فام یہودی و عیسائی بھی اسی بات کو لیکر تکلیف میں مبتلا ہیں ۔

مثال کے طور پر  ۲۰۱۳ء کے اواخر میں اتھوپیائی باشندگی کے حامل یہودیوں کے ایک نمائندہ "ٹامانوشاٹو" نے ستارہ داوود کے ایک دفتر میں خون عطیہ کرنے کے لئے رجوع کیا لیکن اس کی تعجب کی انتہا نہ رہی جب اسے یہ بات معلوم ہوئی کہ حکومت نے ان یہودیوں کا خون لینا ممنوع قرار دے دیا ہے جنہوں فلاش کہا جاتا ہے جو کہ اتھیوپیا میں سکونت پذیر ہیں ،اس خون نہ لینے کی وجہ بھی حکومت نے یہ بیان کی کہ وہ خون دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں [4] البتہ یہودیوں کی سیاہ فاموں کے ساتھ بھید بھاو کرنے اور اونچ نیچ برتنے کا معاملہ انہیں باتوں میں محدود نہیں ، بلکہ تعلیمی سسٹم میں ، کام کاج میں ، گھر و جائے سکونت میں سے لیکر تمام معاشرتی ڈھانچوں میں اس بھید بھاو کو جاری و ساری  دیکھا جا سکتا ہے ۔ لہذا عالی ترین منزل پر  عوامی طرز حکومت کی بات ایک بڑا جھوٹ ہے یہ اتنا بڑا جھوٹ اور اتنی بڑی عوام کو بے وقوف بنانے والی بات ہے کہ بعید ہے خود یہودی بھی اس پر یقین کریں ۔

۲۰۰۸ء میں امریکی  صدر جمہوریہ  نے اعلان کیا اسرائیل کا قیام عدل و انصاف کا تقاضہ تھا اور یہ بات خلاف انصاف نہیں تھی کہ  یہودیوں کی بھی ایک حکومت قائم ہو ،نیز امریکہ و اسرائیل  کے  مابین تعلقات کی جڑیں مشترکہ مفادات سے ماوراء دونوں ملکوں کی تاریخ مشترکہ اقدار میں ہیں ۔

اور یہ بات بالکل بجا و صحیح ہے ، اس لئے کہ اسرائیل طاقت وشدت پسندی ہی کے بل پر وجود میں آیا ہے ، اسرائیل کا وجود  ذات پات ، بھید بھاو اور بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام سے ہی  ہے اور امریکہ بھی  دوسروں کی زمین کو ہڑپنے اور یورپ کی جانب سے ناقابل بیان مقامی لوگوں کے قتل عام ہی کے بل پر ہے ،امریکہ و اسرائیل دو ایسی سرزمینیں ہیں جو جنہیں یہودیوں ہی نے غصب کیا ہے  ایک تو یہودیوں کے خوابوں کی تعبیر اور انکی اساطیری شان رکھنے والی زمین جسے ارض مقدس  یا موعود مقدس کہا جاتا ہے  خواہ ارض مقدس کی صورت فلسطین پر قبضہ ہو یا امریکہ کا انکشاف  دونوں ہی یہودیوں کی کارستانیاں ہیں ، امریکہ کوکھوجھنے والے کریستنف  یہودی  افکارکے حامل تھے تو فلسطین پر قبضہ کرنے والی شخصیت  تیوڈر ہرتسل کا تعلق بھی یہودیت سے ہے  ۔

اس دوران وہ لوگ جو یہودیوں اور اسرائیل میں موجود عربوں کے درمیان بھید بھاو کا انکار کرتے ہیں ، یہ سب کے سب وہی ہیں جو حفظان صحت ، تعلیم و تربیت اور امریکہ کی ثروت و دولت کے سلسلہ سے نسلی  امتیاز کے منکر ہیں جب کہ قابل  غور بات یہ ہے کہ امریکہ میں اس بھید بھاو کو اسلاف کی میراث کے طور پر جانا جاتا ہے ۔

ان تمام کوششوں کے بعد جو کہ امریکہ  اپنے ڈیموکراسی پر مبتنی سسٹم میں بھید بھاو اور نسلی امتیاز کو ختم کرنے کے سلسلہ سے کر رہا ہے جسے وہ اپنی جمہوریت میں پیادہ کرنا چاہتا ہے ،نیتن یاہو جیسا  شخص امریکی حکمرانوں کو خطاب کرتے ہوئے  ان تمام کوششوں کے بعد یوں کہتا  نظر آتا ہے " نسلی طور پر حد سے زیادہ میل ملاپ  ریاست ہائے متحدہ کے لئے یک ذاتی خطرہ و بحران ہوگا ۔

لیکن اسرائیل میں امریکہ کے برخلاف  اس رجیم کی جانب سے  نسلی بھید بھاو و منافرت اور طبقاتی اونچ نیچ کو کم کرنے کے کے سلسلہ سے کوئی لائق توجہ کوشش نہیں ہوتی ہے  بلکہ نسل پرستانہ عقائد اور نا انصافیوں کو وسیع پیمانے پر یہودیوں کے عقائد کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے اوراونچ نیچ و بھید بھاو رکھنے والے افکار کی ایک طرح سے حمایت بھی ہوتی ہے اور انہیں درست ٹہرانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے [5]

حواشی

[1]  ۔ https://ariananews.co/?p=59475.

[2]  ۔ Francois Hollande

[3]  ۔ https://www.fardanews.com/fa/news/42180.

[4]  ۔ https://www.afghanistan.shafaqna.com/other-religions/item/55001.html?tmpl=component&print=1

[5]  ۔ فصلنامه سیاحت غرب، روش های نژاد پرستانه مشابه آمریکا و اسرائیل در مهار نظم عمومی، علی ابونعمه، ترجمه: مرتضی بارانی، مهر و آبان 1393، سال دوازدهم، شماره 136 و 135، ص 59-41.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License