اسرائیل متحدہ امارات کی نقاب پہن کر یمن میں، صنعا کس سے بر سرپیکار؟

اسرائیل متحدہ امارات کی نقاب پہن کر یمن میں، صنعا کس سے بر سرپیکار؟

امارات بالکل انہیں طریقوں اور حربوں کو آزما رہا ہے جسے صہیونی رجیم نے فلسطین پر قبضے کے لئے استعمال کیا تھا اور اماراتی حکومت وہیں پیر رکھ رہی ہے جہاں اسرائیل نے رکھتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کیا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن کی جنگ کے دورانیہ کو تقریبا سات سال کا عرصہ ہو گیا ہے، اس جنگ کی مدت میں بارہا ایسی رپورٹیں آئیں جن سے واضح ہو رہا تھا کہ صہیونی رجیم امارات کی آڑ میں چھپ کر یمن کے اسٹراٹیجک حصوں میں مصروف عمل ہے اور اس نے اپنے آپ کو امارات کے پیچھے چھپایا ہوا ہے ،اس سلسلہ سے خاص کر امارت کے پیچھے رہ کر اپنے عزاَئم کو عملی کرنے کے مسئلہ کو لیکر بارہا انتباہ دیا گیا اور بارہا اس بات کو بیان کیا گیا کہ امارات بالکل انہیں طریقوں اور حربوں کو آزما رہا ہے جسے صہیونی رجیم نے فلسطین پر قبضے کے لئے استعمال کیا تھا اور اماراتی حکومت وہیں پیر رکھ رہی ہے جہاں اسرائیل نے رکھتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کیا تھا۔
انصار اللہ نیوز ایجنسی نے عبد الرحمن مراد کے مذکورہ بالا مفہوم کے حامل تبصرہ کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امارات اور صہیونی رجیم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں کا ہدف ایک ہی ہے دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ایک ہی رجیم ہے اور ایک ہی اکائی کے طور پر دونوں کام کر رہے ہیں حقیقت میں دیکھا جائے تو تل ابیب ایک عربی ملک کی نقاب اوڑھ کر یہ کوشش کر رہا ہے کہ علاقے کے امور کا کنٹرول اپنے قبضے میں لے لے ۔
اس تبصرہ کی تمہید میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے ” اب امارات اور اسرائیل کے درمیان کسی فرق کا قائل ہونا بہت ہی احمقانہ کام ہے اس لئے کہ یہ دونوں ہی ملک درحقیقت ایک رجیم ہیں اور یکساں وظائف کو انجام دے رے ہیں ، جو کام اسرائیل نہیں کر سکتا وہ کام امارات انجام دے رہا ہے ، جو کام امارات کے بس میں نہیں ہے وہ اسرائیل کر رہا ہے ، اسرائیل نے اپنے اس پروجیکٹ کے بعد جس میں اپنی کمپنیوں کے ذریعہ دبئی کو مشرق وسطی کے اقتصادی مرکز کے طور پر ڈھال دینے کی منصوبہ بندی کی تھی اب اس پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کر دیا ہے جس میں سعودی عرب کے جزیرے نما صحرا کو مکمل مغربی رنگ میں رنگ دیا جائے گا تاکہ دونوں ہی مقامات ایک رجیم اور ایک وجود کی صورت ڈھل جائیں ،اور اسرائیل ایک ایسی رجیم کی صورت پورے علاقے پر قبضہ جما لے گا جو اقتصادی حالات اور معیشت کے اتار چڑھاو پر اپنا کنٹرول رکھے اسی لئے یہ رجیم چھوٹے چھوٹے مسائل میں دخالت کر رہی ہے اور بری طرح اس بات میں کوشاں ہے کہ عربی علاقے میں ترقی کے تمام منصوبوں کو اپنے حساب سے لے کر چلے اور جہاں اسے کچھ نہ ملے اس میں ایسے روڑے اٹکا دے کہ سارا کام ٹھپ ہو کر رہ جائے۔
اس تبصرہ میں مبصر نے آگے بیان کیا ہے ” شاید ابھی یہ بات بھلاِئی نہ جا سکے کہ عدن کے فری علاقے میں دبی کی ہولڈینگ کمپنی کہ جسکا مقصد اقتصادی رشد کو آگے بڑھانا تھا وہ اب کیا کر رہی ہے ؟ جو کہ ممکن تھا سوق الجیشی اہمیت و اسٹراٹیجکل پوزیشن کی بنا پر ایک طاقت ور حریف کی صورت کام کرتی ، اور یہ بھی امکان تھا کہ دبی کے لئے صحرائے عرب مِیں بکھرے ہوئے خاک کے ذروں کو انباشتہ کرنے کا سبب ہوتی ؟ یہ سارے مفروضے اپنی جگہ پر ہیں اور بہت سارے سوالات بھی کہ اب یہ کمپنی کیا کر رہی ہے اور کہاں ہے ؟
تبصرہ نگار کا ماننا ہے کہ آج امارات کا سیاسی اقتصادی معیار سب پر عیاں و واضح ہو چکا ہے بدلتے ہوئے حالات نے وہ پردہ جو لوگوں کی آنکھوں پر اب تک پڑا تھا ہٹا دیا ہے اور عرب کے اس بدو مزاج کو یکسر بدل دیا ہے جس میں صحراوں کی زندگی کو شہری زندگی پر فوقیت حاصل تھی اتنا ہی نہیں بادیہ نشیں عرب لوگوں کوانکے تخریبی اور الٹ پلٹ کر رکھ دینے والے مزاج کے برخلاف اقتصادی ترقی اور ایک نئے تمدن کی داغ بیل ڈالنے والے مرکزی کردار کے حامل خطے کی صورت تبدیل کر دیا ہے وہ لوگ جو بنیادی طور پر شہر میں رہنے کے مخالف تھے آج وہ بڑے بڑے شہروں کا رخ کر رہے ہیں یہی وہ چیز ہے جو یمن میں بھی بہت ہی مہارت کے ساتھ انجام پاتی دکھ رہی ہے اور صہیونی رجیم کی خفیہ انٹلی جنس سرویسز کے ذریعہ یمن میں امارات کی عسکری سرگرمیوں کی آڑ میں منصوبہ بند طریقے سے اس پر عمل ہو رہا ہے اور جب سے یمن پر یلغار کرنے والوں کا متحدہ محاذ بنا ہے تب سے لیکر اب تک بہت ہی دقیق انداز میں اور مکمل احتیاط کے ساتھ وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو یمن میں اسرائیل کی منشا ہے ۔
چنانچہ امارات کو جب بھی ایسا لگتا ہے کہ اسکے مفادات پر چوٹ پہنچ سکتی ہے وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ ایک ایسا سیاسی پینترا چلے یا ایسی عسکری حکمت عملی اختیار کرے جس سے کسی حد تک علاقے کے تناو کو کم کیا جا سکے پھر جب اسے لگتا ہے کہ اب عسکری تاخت و تاز کے ذریعہ یا خفیہ ایجنسیز کے ذریعہ کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو پھر دوبارہ مصروف عمل ہو جاتا ہے اور اسی ڈھرے پر پلٹ آتا ہے جو اسکا پہلے سے طے شدہ ڈھرہ ہے اور یہ سب اس لئے ہوتا ہے تاکہ ان اہداف کو حاصل کیا جا سکے جو امارات کے تو اتنے فائدے میں نہیں ہیں لیکن اسرائیل کے نفع میں بہت ہیں۔
تبصرہ نگار نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جزیرہ سقطری میں صہیونیوں کے پروجیکٹس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ” جب جزیرہ سقطری میں امارات نے اپنے جھنڈے کو لہرایا تو سب اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ اسکی پشت پر تو اسرائیل کا پرچم لہرا رہا ہے اور اسرائیل نے بھی مختلف بہانوں کے ذریعہ کبھی ٹوریزم کے ذریعہ کبھی تفریحِی ٹورکے ذریعہ تو کبھی دستاویزی فلمیں بنا کر اور اس جزیرے کے مناظر کو کیمرے میں قید کرنے کے ذریعہ اس بات کا اعلان کر دیا کہ وہ بھی یہاں موجود ہے، اسی طرح وہ کمپنیاں جو علاقے کی ترقی کے نام پر یہاں مصروف عمل ہیں اور سرمایہ کاری کر رہی ہیں انہیں بھی اگر دیکھا جائے تو وہ بھی اسرائیلی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہی ہیں گرچہ امارات کے پرچم تلے یہ کام ہو رہا ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ساری کمپنیاں اسرائیل کی چھتر چھایہ میں وہی کام کر رہی ہیں جو اسرائیل چاہتا ہے ۔
اس تبصرہ میں اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سقطری جزیرے میں خطرناک فرہنگی و ثقافتی اور معاشرتی سرگرمیاں ہو رہی ہیں اور ایک خاص پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے ایسا پروجیکٹ جس کا مقصد اس علاقے کے رہائیشیوں کو مغربی رنگ میں رنگنا اور انہیں ان کے قومی تانے بانے سے جدا کر کے انکے تاریخی پس منظر اور انکے جغرافیائی تعلق کو ختم کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ اس جزیرے کے رہائشی اب دیکھنے اور رہن سہن میں بھی ایک اماراتی شہری نظر آتے ہیں اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں یہ وہ علاقہ ہے جو عبا عقال اور جبے و دشداشےاور خلیج فارس کے ساکنوں کے ساتھ اسرائیل کے قبضے میں آ گیا ہے یہ وہ خباثت ہے جسے بادیہ نشین عرب انجام دے رہے ہیں ، وہ بدو عرب جو عربوں اور مسلمانوں کے تاریخی دشمن کے ہتھوں چڑھ چکے ہیں اور اپنے دشمن کے ایسے مہرے کے طور پر کام کر رہے ہیں جو ذرا سی لالی پاپ دکھاتا ہے تو انکی رال ٹپکنے لگتی ہے اور یہی وجہ ہے جو بھی طے شدہ منصوبہ بندی اسرائیل کی جانب سے انہیں دی جاتی ہے ہر دی جانے والی اسرائیلی ہدایت پر بالکل خام انداز میں عمل درآمد ہوتا ہے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کے سامنے ڈھٹائی کے ساتھ یہ ان باتوں پر عمل کرتے نظر آتے ہیں جن میں بظاہر انکی ترقی کے سپنے انہیں دکھائے گئے ہیں لیکن در پردہ انکی تباہی کی داستان رقم کرنے کی تیاری ہے اسرائیل سے آ نے والی ہدایات کے بارے میں نہ یہ دنیا کے آزاد مسلمانوں کی فریادوں کو سنتے ہیں جو انہیں اسرائیل کی چالبازیوں سے برحذر رہنے کی طرف متوجہ کرتی ہیں نہ ہی مزاحمتی محاذ کی جانب سے دئے جانے والے انتباہ پر ہی کان دھرتے ہیں جبکہ ذرا غور کریں تو سب کچھ واضح ہو جائے آپ خود سوچیں وہ امارات جس کے پاس اپنی فوج نہیں ہے وہ کیسے یمن میں اپنی فوج اتار کر عسکری سرگرمیوں میں مشغول ہے؟ لیکن کوئی اپنے آپ سے نہیں پوچھتا کہ امارات اس فوج کے ساتھ کیسے یمن پہنچا؟ کیسے اس نے یمن کی فضائیہ پر بم برسائے ؟ کیا یہ بم برسانے والی فضائیہ اماراتی ہے ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹی سی حکومت جو ایک شہزادے کے رحم و کرم پر ہے عسکری تاخت و تاز کرتی نظر آتی ہے اور بین الاقوامی برادری ان باتوں پر آنکھ موندے بیٹھی رہے.
یہ بات وہ ہے جو ہر اس شخص کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہے جس کے پاس دل روشن ہے جس کے پاس عقل ہے جو سوچ سکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک جو کہ اپنے علاقے میں ایک محوری کردار ادا کرنے سے عاجز ہے اور اپنے مملکت کے امور کی انجام دہی کے لِئے صہیونی حکومت کی خفیہ ایجنسیز اور صہیونی فوج کے مشوروں اور انکی امداد کا محتاج ہے جو اپنے ملک کے تحفظ اپنے اہلکاروں اپنی کمپنیوں کی حفاظت سے لیکر اپنے شہر کے نظم و نسق اور تحفظ کے لئے اسرائیلی خدمات حاصل کرتا ہے وہ کیسے یمن میں ایک اتنا بڑا کردار ادا کر رہا ہے ۔
اس تحریر میں قلم کار نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ اگر ہم امارات کے بارے میں صحیح کہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ کسی ملک پر یلغار کی بات جب آتی ہے جو اتنا ہی ہے کہ امارات” یمن پر یلغار جیسے الفاظ “میں جہاں بھی آئے حقیقت میں اسرائیل ہی ہے جو کہ تمام تر عسکری تنصیبات اور اسلحوں کے ذخائر کے ساتھ یمن کی نابودی کے درپے ہے ظاہر میں یہ امارات ہے لیکن حقیقت میں اسرائیل لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ امارات اسرائیل ہی کا ایک عربی ورژن ہے ، اسرائیل کا ایک ایسا چہرہ ہے جو عربی مکھوٹے میں اسرائیل سے معاملات اور تعلقات کو بہتر کرنے کے سلسلہ سے مصروف عمل ہے اور اس کے ذریعہ پورے علاقے میں اپنے مفادات کو حاصل کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ محمد بن زائد نہیں ہے جو ادھر یا ادھر کسی جگہ جاتا ہو بلکہ یہ اسرائیل کی جانب سے دیا گیا پروگرام ہے جس پر محمد بن زائد کو عمل کرنا ہوتا ہے ، اور یہ وہ شخص ہے جس نے حقیقی حاکم کو ناپید کر دیا اور اپنے بھائی پر اپنے حکم کو چلاتے ہوئے معاملات کو یہاں تک پہنچایا.
آخر میں قلمکار نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ہم حقیقت میں یمن میں اسرائیل سے جنگ کر رہے ہیں لیکن اسرائیل امارات کی دیواروں کے پیچھے سے ہم سے لڑ رہا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقیت ہے جسے آنے والا وقت واضح کرے گا یہی وجہ ہے کہ یمن کے لوگ جو نعرہ لگا رہے ہیں وہ انکی آگہی انکے شعور اور یمن میں ہونے والی لڑائی کی حقیقت کو بیان کرتا ہے ایک دن آئے گا جب یہ حقیقت واضح ہو جائے گی ، یہ اور بات ہے کہ کچھ چیزیں کتنی ہی گویا اور واضح کیوں نہ ہوں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ حقیقت سے فرار کرتے ہیں اور کبھی حقیقتوں سے روبرو نہیں ہونا چاہتے۔

منبع: http://fna.ir/62mmc

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*