مقاومتی مسائل کے ماہر:

"اسرائیل" در حقیقت یہودی ایجنسی کا دوسرا نام ہے/ فلسطین پر قبضے کا راستہ اقوام متحدہ نے ہموار کیا

محمد علی صمدی نے کہا ہے کہ جو کچھ آج ہم اسرائیل کے نام سے جانتے ہیں، درحقیقت یہودی ایجنسی ہے۔ اس ایجنسی نے 30 سال کے دوران برطانیہ کی اجازت سے یہودی مہاجرین جمع کرنے کا کام کیا اور فلسطین کی چھ فیصد اراضی کو مختلف حیلوں بہانوں سے خرید لیا اور اسی چھ فیصد اراضی کی ملکیت حاصل کرکے برطانیہ، امریکہ اور اقوام متحدہ کی مدد سے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کے مطابق مقاومتی مسائل کے ماہر اور معاصر تاریخ کے محقق محمد علی صمدی نے آئی آر آئی بی کے چینل 2 کے خصوصی نیوز پروگرام میں اینکر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا: فلسطین پر قبضے کا راستہ اقوام متحدہ نے ہموار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے اپنی تاسیس کے پہلے مشن کے طور پر فلسطینیوں کی سرزمین پر غاصب اور جعلی اسرائیلی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کیا۔
انھوں نے کہا: گذشتہ 7 دہائیوں میں مقبوضہ فلسطین کے واقعات - جن میں اس سرزمین پر قبضے کی کیفیت نیز غاصبوں کے خلاف اس سرزمین کے باشندوں کی مزاحمت کی کیفیت - شامل ہے، جانی پہچانی انسانی تاریخ میں انوکھے اور منفرد ہیں۔
انھوں نے کہا: بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں یہودی سیاسی کارکنوں نے ایک سیاسی-معاشی ایجنسی کی بنیاد رکھی۔ اس ایجنسی کو دو عالمی جنگوں کے درمیانی برسوں کے تاریخی موڑ پر، اس دور کی غالب قوتوں - برطانیہ، فرانس اور امریکہ - کی اجازت اور منظوری حاصل کی اور یہ ایجنسی سرزمین فلسطین میں تعینات ہوئی جو ان ہی برسوں میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد، برطانیہ کی سرپرستی میں چلی گئی تھی۔
صمدی کے مطابق، یہ تنظیم اور کچھ یہودی سرگرم کارکن ایک سرزمین میں تعینات ہوئے جس کی اپنی مقامی آبادی تھی اور اس کے باشندے ہزاروں سال سے اس سرزمین میں سکونت پذیر تھے۔ اور انھوں نے بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی حمایت کے تحت، یہاں ریاست کے قیام کا اعلان کیا، جو ریاست نہیں بلکہ ایک ایجنسی تھی: "یہودی ایجنسی (Jewish Agency for Israel)"۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہم اسرائیل کے نام سے جانتے ہیں درحقیقت یہودی ایجنسی ہے۔ اس ایجنسی نے 30 سال کے عرصے تک برطانیہ سے اجازت لی تھی کہ یہودی مہاجرین کو فلسطین میں اکٹھا کرے اور اس نے مختلف مکاریوں اور حیلوں بہانوں سے سرزمین فلسطین کی 6 فیصد اراضی کو خرید لیا اور ان ہی اراضی میں "ریاست" تشکیل دی اور باقی سرزمین اور اس کے لاکھوں اصلی باشندوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا اور ان کے وجود کا عملی طور پر انکار کیا گیا۔
جناب صمدی کا کہنا تھا کہ برطانیہ مغربی ایشیا میں معاشی اور سیاسی مفادات کے حصول کے درپے تھا، جس کے لئے اس کو ایک وفادار اتحادی کی ضرورت تھی اور یہودی ایجنسی واحد تنظیم تھی جو برطانیہ کی توقعات پر پورا اتر سکتی تھی۔
انھوں نے کہا: ایران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی تاسیس سے فلسطین کا کیس بند ہونے کو تھا، فلسطینی عوام بھی تھک ہوئے تھے اور ناامید ہوچکے تھے اور فلسطین پر امریکہ کے اتحادی اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعہ بیہودہ سمجھا جانے لگا تھا، اور مقاومت کے آغاز اور کامیابی کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
انھوں نے کہا: امریکہ اور اس کے تمام حواریوں کے خلاف کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے ایک کامیاب تجربہ فلسطینوں کے سامنے رکھا اور انہیں باور کرایا کہ اسرائیل کے اتحادی امریکہ اور شاہ ایران جیسے طاقتور امریکی کٹھ پتلی کی حکمرانی کی عمارت کو خالی ہاتھوں زمین بوس کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے تھوڑے سے عرصے کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران، مسلمانان عالم اور شیعیان لبنان کی مدد سے لبنانی مقاومت نے پہلی بار اسرائیل کو جنوبی لبنان سے مار بھگایا اور اس تجربے نے فلسطینیوں کے لئے ایک نمونہ عمل فراہم کیا اور انھوں نے حزب اللہ لبنان کی ابتدائی فتوحات کے تین سال بعد - 1980ع‍ کے عشرے میں ہی - غاصب اسرائیلوں کو سرزمین فلسطین سے نکال باہر کرنے کی غرض سے فلسطینیوں کی پہلی انتفاضہ تحریک کا آغاز ہؤا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*