اسرائیلی ماہر آثار قدیمہ نے صیہونی دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا/ فلسطین سرزمین موعود نہیں ہے اور یہودیوں کا بیت المقدس سے کوئی تعلق نہیں

اسرائیلی ماہر آثار قدیمہ نے صیہونی دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا/ فلسطین سرزمین موعود نہیں ہے اور یہودیوں کا بیت المقدس سے کوئی تعلق نہیں

اسرائیل کے مشہور ماہر آثار قدیمہ "یسرائیل فینکلسٹین" نے اپنی تحقیقی کتاب میں کہا کہ "فلسطین سرزمین موعود نہیں ہے اور یہودیوں کا بیت المقدس شہر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن سے شائع ہونے والے ٹرانس ریجنل اخبار رائی الیوم کے مطابق، فینکلسٹین نے یہ بھی کہا: “ماہرین آثار قدیمہ کو تورات میں مذکور کہانیوں کی حمایت میں کوئی ثبوت، تاریخی سند یا ایسا کوئی قدیمی اثر نہیں ملا ہے جو ان پر دلالت کرتا ہو۔”
صہیونی تحریک نے حتیٰ اپنے قیام سے قتل دعویٰ کیا کہ فلسطین سرزمین موعود ہے اور یہودی خدا کے برگزیدہ اور چنے ہوئے لوگ ہیں۔ صہیونی تحریک نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ بیت المقدس وعدہ شدہ سرزمین کا مرکز ہے، بیت المقدس یہودی آباؤ اجداد کا شہر اور ان کے باپ داد کا دارالحکومت اور مکمل یہودی شہر ہے، اور مغربی دنیا اس طرح کے دعووں سے دھوکہ کھاتی رہی ہے، اور یہی چیز باعث بنی کہ بالآخر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت القمدس کو یہودیوں کے لیے دائمی دار الحکومت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا حکم دیا۔
تل ابیب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ معروف اسرائیلی ماہر آثار قدیمہ اسرائیل فینکلسٹین نے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیت المقدس سے کسی بھی یہودی تعلق کی تردید کی۔
ماہر آثار قدیمہ نے صہیونی مجلہ یرویشلم رپورٹ میں تاکید کی: یہودی آثار قدیمہ کے ماہرین کو تورات میں مذکور بعض کہانیوں کی تائید کرنے کے لیے کوئی تاریخی یا آثار قدیمہ کا ثبوت نہیں ملا ہے، خاص طور پر یہودیوں کے خروج کی کہانی، صحرائے سینا میں یہودیوں کی گمشدگی اور یوشع بن نون کے ہاتھوں کنعانیوں کی شکست۔
انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: یہودیوں کی طرف سے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک انتہائی قابل احترام شخصیت کے طور پر پیش کرنا صرف دو سرزمین یہودا اور اسرائیل کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کے وہم کی غرض سے ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں پائی جاتی ہے اور یہ بالکل بے بنیاد دعویٰ ہے۔
مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے بیت المقدس کی تعمیر کے قصے کو بھی انہوں نے مشتبہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ پروفیسر فنکلسٹائن نے اپنی کتاب “اسرائیل کی تشکیل کا ابتدائی دور” میں مذکورہ مسائل کو مورد بحث قرار دیا ہے۔ یہ کتاب عبرانی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوئی اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک بن گئی۔
صہیونی اخبار ہارتض (Haaretz) نے اس کتاب پر اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فنکلسٹائن نے تورات میں یہودیوں اور فلسطین سے متعلق مذکور تمام موارد میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور کتاب کے ہر باب کا اختتام اس سوال کے ساتھ کیا تھا: “کیا یہ واقعی سچ ہے یا نہیں؟
ہاآرتض اخبار نے بھی یہ سوال پوچھا کہ کیا بیت المقدس اور دیگر مسائل کے بارے میں صہیونی دعوے ایک باصلاحیت مصنف کی سوچ سے جنم لیتے ہیں تاکہ اپنے سیاسی عزائم اور مطالبات کو پورا کیا جا سکے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*