ترک اسلام پسندوں کی یہود نوازیاں!

اردوگان نے تل ابیب کے سربراہ کو فلسطین پر قبضے کی “برسی” پر مبارکباد دی

اردوگان نے تل ابیب کے سربراہ کو فلسطین پر قبضے کی “برسی” پر مبارکباد دی

تعلقات کی بحالی کے بعد عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ انقرہ نے تل ابیب کے کہنے پر فلسطینی تنظیم المقاومہ الاسلامیہ "حماس" کے درجنوں اراکین کو ترکی میں داخلے سے روک لیا ہے!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ترک صدر نے ٹیلی فونک رابطہ کرکے تل ابیب کی غاصب یہودی ریاست کے سربراہ کو فلسطین پر قبضے کی “برسی” کے موقع پر مبارک باد دی۔ اس روز کو غاصب صہیونی ریاست “اسرائیل کی تاسیس کا دن” اور فلسطینی باشندے “یوم النکبہ” (مصیبت کا دن) قرار دیتے ہیں۔

غاصب صہیونی دشمن کے ٹیلی ویژن چینل (I-24) سوموار (2 مئی 2022ع‍) کو رپورٹ دی کہ ترک صدر نے غاصب ریاست کے سربراہ اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کرکے فلسطین پر قبضے کی “برسی” کے موقع پر اس کو مبارک دی اور غاصب ریاست کے سربراہ نے بھی انہیں عید فطر کے موقع پر، مبارک باد دی ہے۔
غاصب ریاست کے صدارتی دفتر کے سرکاری بیان کے مطابق، اس بات چیت کے دوران اردوگان نے امید ظاہر کی کہ یہ عید “خطے میں خوشی، امن اور دلوں کی قربت” کو ساتھ لائے گی۔
فریقین نے مبینہ طور پر “خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے” کی غرض سے اعلانیہ مذاکرات اور اس کے تسلسل کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ تل ابیب کے سربراہ اسحاق ہرزوگ نے اردوگان کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی البتہ بیان کیا کہ “انقرہ-تل ابیب تعاون کو فریقین کے مفاد میں جاری رہنا چاہئے”۔
اسرائیل ہیوم نامی عبرانی اخبار نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ انقرہ نے تل ابیب کے کہنے پر فلسطینی تنظیم المقاومہ الاسلامیہ “حماس” کے درجنوں اراکین کو ترکی میں داخلے سے روک لیا ہے!
یاد رہے کہ مئی 2018ع‍ میں ترک صدر رجب طیب اردوگان غزہ پر صہیونیوں کے حملوں میں شدت آنے اور امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی پر [جذبات میں آ کر یا پھر امت مسلمہ کو فریب دینے کے لئے] احتجاج کرتے ہوئے انقرہ میں صہیونی [سفارت کو بند کئے بغیر] غاصب ریاست کے سفیر کو نکال باہر کیا اور اپنا سفیر واپس بلا لیا، لیکن کچھ مہینوں سے تعلقات بحال ہوچکے ہیں اور انقرہ اور تل ابیب تمام شعبوں میں تعلقات و تعاون کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں۔
ترک اخبار “حریت” نے حال ہی میں اسحاق ہرزوگ کے دورہ ترکی سے قبل لکھا تھا کہ اردوگان حکومت عرصہ ڈیڑھ سال سے خطے کے بعض ممالک کے ساتھ خفیہ مذاکرات کرتی رہی ہے جس کا مقصد ظاہرا یہ ہے کہ “ترکی میں مقیم حماس کے اراکین کے لئے کسی دوسرے ملک میں قیام کرنے کے لئے کوئی جگہ تلاش کی جائے!”۔ اخبار کے مطابق، ترکی کی اخوانی حکومت نے حماس کے راہنماؤں کو مطلع کیا ہے کہ “حماس کے عسکری شعبے کے ارکان ترکی میں نہیں رہ سکیں گے، اگرچہ حماس کی سیاسی سرگرمیاں اس ملک میں جاری رکھی جا سکتی ہیں”۔
تعلقات کی بحالی کے بعد عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ انقرہ نے تل ابیب کے کہنے پر فلسطینی تنظیم المقاومہ الاسلامیہ “حماس” کے درجنوں اراکین کو ترکی میں داخلے سے روک لیا ہے!
اسرائیل ہیوم نے ایک فلسطینی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ “یہ مسئلہ ترکی میں حماس کے اراکین کے بے قاعدہ یا اتفاقی داخلوں پر ممانعت ہی تک محدود نہیں ہے، بلکہ ترک حکومت نے حماس کے درجنوں اراکین سے کہا ہے کہ ترکی سے چلے جائیں۔ یہ صورت حال حالیہ دو مہینوں سے جاری ہے اور حماس کے بعض عسکری راہنما ترکی سے نکال باہر کئے گئے ہیں”۔
ہیوم کے فلسطینی ذریعے نے – جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا – بیان کیا تھا کہ “ترک حکومت کے اس اقدام کے پیچھے اسرائیلی ریاست ہے جس نے مختلف قسم کی کاروائیوں میں حصہ لینے والے سینکڑوں افراد کے ناموں پر مشتمل ایک فہرست تیار کرکے ترک حکومت کو بھجوائی ہے اور تقاضا کیا ہے کہ ان افراد کو ترکی میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ اسی بنا پر ترک حکومت نے حماس سے کہا ہے کہ “تم نے وعدہ کیا تھا کہ ہماری سرزمین میں اس طرح کے اقدامات سے گریز کرو گے، اب تمہیں ترکی چھوڑ کر کہیں اور جانا پڑے گا”۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب غاصب ریاست کے چینل 13 نے اس سے قبل کئی سینیئر صہیونی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ انقرہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے تل ابیب کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ ترکی میں فلسطینی اسلامی مقاومتی تحریک (حماس) کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔ چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست کے داخلی سلامتی کے ادارے ترکی کے بارے میں اندرون ریاست مذاکرات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ “تعلقات کو معمول پر لانے کے کسی بھی عمل میں ترکی میں حماس کی سرگرمیوں پر پابندی کا شامل ہونا لازمی ہے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*