اختر عباس جون: جناب ابوطالب حکم پروردگار کے سامنے تسلیم تھے

اختر عباس جون: جناب ابوطالب حکم پروردگار کے سامنے تسلیم تھے

ہندوستان کے عالم دین نے کہا: آج تمام سامراجی اور استعماری طاقتیں حقیقی اسلام کے مقابلے میں محاذ آرا ہو چکی ہیں یہ پابندیوں اور مشکلات کا دور ہے۔ لیکن ہم جناب ابوطالب کو مثال بنا کر ان مشکلات سے نمٹ سکتے ہیں، حق کو سربلندی اور باطل کو نابودی سوائے مزاحمت کے حاصل نہیں ہو سکتی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے تیسرے روز ۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو "ابوطالب بین الاقوامی مفکرین کی نگاہ میں" کے عنوان سے ایک نشست کا انعقاد کیا گیا۔
ہندوستان میں طہٰ فاؤنڈویشن کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین اختر عباس جون نے اس نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اگر انسان کا مقصد بڑا ہو تو انسان شکست سے دوچار نہیں ہوتا، سستی ، کاہلی اور ضعف اس میں پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا: موجودہ دور میں طلاب اور علماء قم میں مزاحمت کو قریب سے محسوس کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ انقلاب مزاحمت کے بغیر کامیاب نہیں ہوا، اور انقلاب کی بقا بھی مزاحمت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ انقلاب کی کامیابی ایک مرحلہ ہے اور اس انقلاب کو باقی رکھنا دوسرا اور سخت تر مرحلہ ہے خود مزاحمت قیام انقلاب سے کم نہیں ہے۔
اختر عباس جون نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کا اسلامی انقلاب اپنے اصولوں کا پابند رہا ہے کہا: اسلامی انقلاب نے سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے لہذا یہ سختیاں اور مشکلات اس مزاحمت کا لازمہ ہیں ان کے بغیر انقلاب آگے نہیں بڑھ سکتا۔
ہندوستان کے عالم دین نے کہا: وہ مشکلات جن کا ابوطالب نے سامنا کیا اور اس عمر میں اقتصادی اور سماجی پابندیوں کا مقابلہ کیا صرف پیغمبر اکرم کی جان کو بچانے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے شعب ابی طالب میں تین سال تک تمام سختیوں اور مصیبوں کے ساتھ گزار دئیے۔ اللہ کے نبی کی حفاظت میں سب سے زیادہ اگر کسی نے کردار پیش کیا ہے تو وہ صرف ابوطالب کی ذات نے پیش کیا ہے۔
طہٰ فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: اپنی ذمہ داری کو نبھانے اور رسول اکرم کی جان بچانے کے لیے جناب ابوطالب کے اقدامات اپنی جگہ بالکل درست تھے جب انہوں نے یہ جان لیا کہ حضرت محمد (ص) اللہ کے نبی ہیں ان میں نبوت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں تو جناب ابوطالب نے اپنی تجارت کا سلسلہ چھوڑ دیا اور اپنے منصب سے کنارہ کشی کر لی جس کے نتیجے میں انہیں سخت مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ اپنی اولاد کی ضروریات کو پورا کرنا بھی دشوار ہو گیا۔ جناب ابوطالب نے مزاحمت کے لیے بہت قربانی دی ہے۔
اختر عباس جون نے کہا: جناب ابوطالب مکمل طور پر تسلیم پروردگار اور مطیع رہبر الہی تھے اور یہ اہم ترین مسئلہ ہے کہ انسان اللہ کے نمائندے کے آگے تسلیم ہو جائے۔ موجودہ دور میں اس عنصر کا پایا جانا بہت ضروری ہے ایسے وقت میں جب حالات معمول پر ہوں اور کوئی مشکل و پریشانی نہ ہو تو لوگوں کے مطیع ہونے کو پرکھا نہیں جا سکتا لیکن دشوار حالات میں لوگوں کو پرکھا جاتا ہے۔ جناب ابوطالب کہ جو عمر کے اعتبار سے خاندان بنی ہاشم کے سب سے بڑے تھے اور بچپن سے ہی رسول خدا کی انہوں نے پرورش کی لہذا الہی نمائندے کے سامنے وہ تسلیم تھے اور ان کی راہ میں فداکاری کی۔ تین سال تک انہوں نے ہر شب اپنے بچوں کو پیغمبر اکرم کی جگہ پر سلایا اور نہ صرف سلایا بلکہ بار بار پیغمبر کی جگہ بدلتے رہے تاکہ خطرات سے انہیں بچا سکیں۔ یہ جناب ابوطالب کی استقامت کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
ہندوستان کے عالم دین نے کہا: آج تمام سامراجی اور استعماری طاقتیں حقیقی اسلام کے مقابلے میں محاذ آرا ہو چکی ہیں یہ پابندیوں اور مشکلات کا دور ہے۔ لیکن ہم جناب ابوطالب کو مثال بنا کر ان مشکلات سے نمٹ سکتے ہیں، حق کو سربلندی اور باطل کو نابودی سوائے مزاحمت کے حاصل نہیں ہو سکتی۔
حجۃ الاسلام و المسلمین اختر عباس نے کہا: اگر مزاحمت اللہ کے لیے ہو خلوص کے ساتھ ہو اور ذاتی مقاصد اس میں شامل نہ ہوں تو باطل کو شکست اور ناکامی سے ہمکنار کر دے گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کی مدد کرتا ہے اور حق کو کامیاب کرتا ہے۔ مزاحمت کا ثمرہ اور نتیجہ ہم نے لبنان، شام، یمن اور ایران میں دیکھ لیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*