احمدی تبار: دشوار حالات میں میراث اہل بیت(ع) کا احیاء صرف علامہ خرسان کا خاصہ تھا

احمدی تبار: دشوار حالات میں میراث اہل بیت(ع) کا احیاء صرف علامہ خرسان کا خاصہ تھا

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے کہا: خدا کے نیک بندوں کا تذکرہ کرنا آثار و برکات کا حامل ہوتا ہے۔ لہذا علامہ الخرسان جیسی شخصیتوں کی یاد میں سیمینار کا انعقاد ذکر کی مجالس کا مصداق ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔"میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں آیت اللہ سید محمد مہدی الخرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسملبی کے شعبہ علمی و ثقافتی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے اس نشست میں کہا: علامہ الخرسان سیمینار جو مذہب اہل بیت(ع) کی راہ میں انجام پانے والی خدمات کو متعارف کروانے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے حوزہ علمیہ قم اور نجف میں اس کا خاصا استقبال ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ خراساں کی کاوشوں میں سے ایک پہلو اہل بیت (ع) کے علمی ورثے کا احیاء ہے۔ یہ کام اگر ایک تحقیقی کام نہیں ہے تو کسی تحقیق سے کم بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: "جو بھی شخص تاریخ کو جاننا اور اس کے طول و عرض کو واضح کرنا چاہتا ہے، اس کے پاس اس بنیاد پر کام کرنے کے لیے اچھے مبانی کا ہونا ضروری ہے"۔
حجت الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے کہا: علامہ خورسان نے یقینی امور کے علاوہ ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے پیش کیا ہے اور بہت سی جگہوں پر حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور کچھ معاملات میں دوسروں سے اختلاف بھی کیا ہے جو اس بزرگ عالم دین کی عظیم کاوشوں کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: آج ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے چالیس سال بعد شیعہ منابع کے حوالے سے جب گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کافی کام انجام پایا ہے لیکن علامہ الخرسان کے زمانے میں اہل تشیع کے لیے فضا ہموار نہیں تھی اور محدود شرائط اور مختصر سہولیات تھیں اس کے باوجود جو کارنامے انہوں نے انجام دیے وہ انتہائی دشوار حالات میں انجام دئیے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے کہا: خدا کے نیک بندوں کا تذکرہ کرنا آثار و برکات کا حامل ہوتا ہے۔ لہذا علامہ الخرسان جیسی شخصیتوں کی یاد میں سیمینار کا انعقاد ذکر کی مجالس کا مصداق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*