?>

آیت کا پیغام (11) : پھل

آیت کا پیغام (11) : پھل

مَنْ تَقَرَّبَ إلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبتُ مِنْہُ ذِرَاعًا وَ مَنْ أتَانِی یَمْشِی أَتَیتُہ ھَرْوَلۃً (میزان الحکمۃ، ج3 ص 2541-2542)

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خدا سے بندوں کا رابطہ پھل کی طرح نہیں ہے جو ایک بار پیڑ سے جدا ہو جانے کے بعد پھر کسی قیمت پر اسے دوبارہ پیڑ سے نہیں جوڑا جا سکتا اور ایک طرح سے پیڑ اسکی دوبارہ واپسی اور بازگشت کو قبول نہیں کرتا۔

خدا سے ہم انسانوں کا رابطہ ویسا ہے جو آلودہ پانی کا سمندر سے ہوا کرتا ہے۔ سمندر سے جدا ہوئے پانی کو جتنا زمانہ بیت چکا ہو اور جس قدر بھی وہ آلودہ ہو چکا ہو،مگر جس وقت وہ سمندر کا رخ کر کے اسکی آغوش میں پناہ لینا چاہتا ہے تو سمندر اسکا صرف استقبال ہی نہیں کرتا بلکہ اسکی تمام آلودگیوں کو بھی ختم کر دیتا ہے اور وہ پانی بالکل صاف شفاف اور پاک و پاکیزہ ہو جاتا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے:

إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (سورہ بقرہ ۔ آیت 37)

وہ بڑا معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

خدا دریائے رحمت ہے،توّاب ہے، یعنی بندے کی توبہ کو خوب سنتا ہے ،بندے کی بازگشت اور واپسی کا استقبال کرتا ہے۔

حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے:

مَنْ تَقَرَّبَ إلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبتُ مِنْہُ ذِرَاعًا وَ مَنْ أتَانِی یَمْشِی أَتَیتُہ ھَرْوَلۃً (میزان الحکمۃ، ج3 ص 2541-2542)

جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں اس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جو میری جانب آہستہ آہستہ آتا ہے میں اسکی جانب دوڑتا ہوا آتا ہوں۔

 

تحریر:استاد محمد رضا رنجبر


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی