?>

آیت مکارم شیرازی کا پیغام اور غلط فہمیاں

آیت مکارم شیرازی کا پیغام اور غلط فہمیاں

ہمارے ہاں بعض حلقوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ مراجع عظام پاکستان کے معاملے میں بات نہیں کرتے۔ حالانکہ بعض تو پاکستان تو کجا کسی بھی معاملے پر بات نہیں کرتے، یا شاذ و نادر ہی کرتے ہیں۔ لیکن آیت اللہ مکارم شیرازی ہر معاملے پر ببانگ دہل آواز اٹھاتے ہیں۔

بقلم سید جواد رضوی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمی شیخ ناصر مکارم شیرازی وہ مرجع تقلید ہیں جو دنیا کے تمام اہم امور پر بات کرتے ہیں، خصوصا امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر سب سے پہلے انہی کی طرف سے آواز اٹھتی ہے، چاہے وہ روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ ہو یا چین میں اویغور مسلمانوں کا، فلسطین اور کشمیر کے مسائل ہوں یا شام و عراق کے، پاکستان کے ہوں یا افغانستان کے، ہندوستان کے متنازعہ شہریت کے قانون کا معاملہ ہو یا پھر نائیجیریا کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو۔ غرض ہر مسئلے پر ان کی پرزور آواز اٹھتی ہے۔

ہمارے ہاں بعض حلقوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ مراجع عظام پاکستان کے معاملے میں بات نہیں کرتے۔ حالانکہ بعض تو پاکستان تو کجا کسی بھی معاملے پر بات نہیں کرتے، یا شاذ و نادر ہی کرتے ہیں۔ لیکن آیت اللہ مکارم شیرازی ہر معاملے پر ببانگ دہل آواز اٹھاتے ہیں۔

دیگر مراجع کی ویب سائٹس پر فقط فقہی معاملات پر معلومات ہوتی ہیں، جبکہ آقائے مکارم شیرازی کی ویب سائٹ پر تاریخ سے لے کر فقہ، علم کلام سے لے کر تفسیر و علوم حدیث، غرض ہر موضوع پر مواد ملے گا۔

علاوہ ازیں ان کی ویب سائٹ پر آپ کسی بھی موضوع کے متعلق سوال کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر مراجع کے دفاتر سے فقط فقہی مسائل کا ہی جواب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی شخص رائج تقلید سے بڑھ کر کچھ سیکھنا چاہے تو وہ آقائے مکارم شیرازی کو فالو کر سکتا ہے۔

یہ وہ خوبیاں ہیں جو آنجناب کی ہیں۔ پچھلے دنوں سانحۂ مچھ کے حوالے سے بھی ان کا بیان سامنے آیا جس کو میڈیا میں کافی پذیرائی ملی، حالانکہ یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کے مسائل پر آپ نے لب کشائی کی ہو۔ اس سے قبل پاکستان میں زلزلہ اور سیلاب کے مواقع پر ایرانی قوم سے پاکستانی بھائیوں کی مدد کے لئے پرزور اپیل کی، نیز آپ نے سہم امام کا ایک حصّہ سیلاب زدگان کو دینے کی مطلق اجازت دے دی، تاکہ آپ مرجع یا اس کے وکیل سے رجوع کئے بغیر سہم سادات کی مد میں سیلاب زدگان پر خرچ کر سکتے تھے۔

جب سانحۂ مچھ پر ان کا بیان آیا تو اتفاق سے لواحقین نے اپنے شہداء کو دفنانے کا فیصلہ کیا۔ میں بعید نہیں سمجھتا ہوں کہ ان کے بیان کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گيا ہو، کیونکہ اس سے قبل پاکستان کے ظاہری حکمران نے کوئٹہ آنے سے صاف انکار کرتے ہوئے مظاہرین کو بلیک میلر قرار دیا تھا۔ یہاں سے ان کی تمام امیدیں ٹوٹ گئیں اور قوم کے متعدد درد رکھنے والے افراد لواحقین سے شہداء کو دفنانے کی گزارش کر رہے تھے۔ مزید لاشوں کو رکھنے کا فائدہ نہیں تھا۔ جو عمران خان صاحب کو جانتے ہیں، ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ ضد پکڑ لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو ادھر سے ادھر نہیں کر سکتی۔ انہوں نے ٹھان لی تھی کہ لاشوں کو دفنانے کے بعد ہی کوئٹہ جائیں گے، لہذا مزید کوئی پوائنٹ نہیں تھا کہ لاشوں کو دفنائے بغیر رکھا جاتا۔

اس کے باوجود، آيت اللہ مکارم شیرازی کا امّت مسلمہ کے مسائل پر بات کرنا قابل قدر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی