?>

آیت اللہ مکارم شیرازی کے پیغام کے حوالے سے مغالطے

آیت اللہ مکارم شیرازی کے پیغام کے حوالے سے مغالطے

جن دوستوں کا یہ خیال ہے کہ حالیہ سانحے میں مرجع تقلید سے یہ پیغام دلوایا گیا ہے تو انہیں مرجعیت کا مقام اور حیثیت کو سمجھنا چاہیے کہ مرجع جیسی دینی اتھارٹی انفرادی خواہشات کے برعکس اجتماعی مصالح اور مفاسد کے پیش نظر دینی اصولوں اور قواعد کی بنیاد پر اظہار نظر کرتے ہیں اور اس اظہارِ نظر کے لیے معلومات حاصل کرنے اور پیغام کی اطلاع رسانی کے لیے مراجع کے دفاتر میں ان کا اپنا میکانزم موجود ہوتا ہے۔

بقلم ابنِ حسن

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سانحہ مچھ (کوئٹہ) کے بعد ملک بھر میں شہدائے مچھ کے لواحقین کی حمایت میں احتجاجی دھرنے ہوئے۔ ملکی و غیر ملکی متعدد شخصیات اور اداروں نے اس سانحے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس درمیان ایران میں مقیم مرجع تقلید حضرت آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کے پیغام کو پاکستانی ذرائع ابلاغ میں خاصی توجہ ملی۔ مرجع تقلید کے پیغام پر بعض نے اظہار ناراحتی کیا اور بعض نے اسے کسی سازش کا حصہ قرار دیا۔ بعض نے اسے حکومت کے لیے سہولت کاری قرار دیا تو بعض نے نزدیک یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ایک غیر ملکی شخصیت کی مداخلت تھی۔ بعض کے نزدیک مرجع تقلید کے کہنے پر احتجاجی دھرنہ ختم کرنا غیروں کی غلامی کی علامت ہے۔ البتہ اکثریت نے اسے مثبت انداز میں دیکھا ہے۔

 بات سمجھنے کی خاطر تشیع میں مرجعیت کا مقام اور اس کی اہمیت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مرجعیت تشیع میں ایک اہم ادارہ ہے۔ شیعہ فروعات دین میں کسی بھی زندہ مجتہد کی تقلید کو واجب سمجھتے ہیں۔ مگر یہ کہ انسان خود مجتہد ہو اور شرعی مواخذ سے خود استنباط کی صلاحیت رکھتا ہو یا احتیاط پر عمل کرتا ہو۔ احتیاط یہ ہے کہ کسی بھی امر میں شرعی حکم کے تمام ممکنہ احتمالات پر عمل کرتا ہو۔ اس کے علاوہ تقلید ہر شیعہ انسان پر واجب ہے۔ شیعہ جملہ شرعی مسائل میں جس دینی اتھارٹی کی جانب دیکھتے ہیں وہ جامع الشرائط مجتہد ہے۔ ہر شیعہ کے گھر کسی ایک زندہ جامع الشرائط مجتہد کی توضیح المسائل ہوتی ہے جس میں طہارت کے احکام سے لیکر عبادات و معاملات تک کے تمام فروعات دین کے مسائل بیان کیے گئے ہوتے ہیں۔ علم فقہ کی زبان میں اسے رسالہ عمیلہ بھی کہتے ہیں۔ دنیا میں رسالہ عملیہ کے حامل جامع الشرائط شیعہ مجتہدین کی تعداد اگر دسیوں میں نہیں تو چند سو سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ یعنی تشیع میں ہر مسجد یا امامبارگاہ یا منبر پر بیٹھنے والا مجتہد نہیں ہوتا اور شرعی فتویٰ کی صلاحیت اور اختیار نہیں رکھتا۔ یاد رہے تشیع کے پاس موجود چند زندہ مسلمہ اور متفقہ مراجع عظام میں سے شاید ہی کسی کا تعلق ہندو پاک سے ہو۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی مسلمہ و متفقہ مرجع تقلید ہیں لیکن وہ زمانہ طالب علمی سے عراق کے شہر نجف اشرف میں مقیم ہیں۔ لہذا پاکستان ہو یا ہندوستان اس حوالے سے تشیع کے مراجع تقلید یہاں نہیں ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں پاک و ہند تشیع کا علمی مرکز نہیں ہے۔ تشیع کا علمی مرکز اس دور میں ایران کا شہر قم اور عراق کا شہر نجف ہیں لہذا اگر کوئی پاکستانی اجتہاد کی سطح پر فائز بھی ہے تو عملا اس کا تعلق انہی دو مہد ہائے علمی سے ہے۔

شیعت میں مرجعیت کا تصور سرحدوں سے ماوراء ہے کیونکہ مرجع شریعت کے مواخذ سے شریعت کا حکم معلوم کرنے کی اتھارٹی ہے اور چونکہ شرعی حکم سرحدوں کے اندر محدود نہیں اور شریعت کی روح چونکہ سرحدوں کے اندر پابند نہیں اور شریعت کا پیغام چونکہ سرحدوں کا محتاج نہیں لہذا مرجع تقلید کا تصور بھی سرحدوں کے اندر کا نہیں بلکہ اس کی حدود وہی ہیں جو دین کی حدود ہیں۔ البتہ شیعت میں مرجعیت کا ایک افتخار رہا ہے کہ شیعہ مراجع نے سرحدوں کے اس حد تک احترام کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جس حد تک دین مبین نے سرحدوں کے تصور کی گنجائش رکھی ہے۔ مثلاً انتظامی معاملات میں جہاں دیں سرحدی تصور کے لیے گنجائش نکالتا ہے وہیں مراجع تقلید بھی دین روح کے مطابق ان معاملات میں سرحدوں کے احترام کے قائل ہیں۔ مثال سے سمھجیے عراق اور ایران کے درمیان واقع سرحد جب چند ایک بار چہلم امام حسین ع کے موقع پر بغیر ویزہ و پاسپورٹ کے کھولی گئی اور بعد ازاں جب انتظامی مسائل کے پیش نظر ویزہ و پاسپورٹ کی شرط لازم قرار دی گئی تو تقریباً تمام شیعہ مراجع نے اپنے مقلدین کو تاکید کی کہ وہ ویزہ و پاسپورٹ کے ملکی قوانین کو ملحوظ رکھیں درغیر اینصورت ان کا زیارت کا سفر سفر معصیت قرار پائے گا۔

مرجعیت کو بطور ایک دینی اتھارٹی اور ادارہ جان لینے کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ مرجعیت بطور ادارہ انسانی، اخلاقی اور اسلامی اصولوں کے تحت دنیا میں ہونے والے اکثر واقعات پر اظہار خیال کرتا آیا ہے۔ مرجعیت کا اظہارِ نظر بعض اوقات پیغام کی صورت میں ہوتا ہے اور بعض اوقات شرعی فتویٰ کی صورت میں بعض اوقات شرعی حکم کی صورت میں۔ ان تینوں میں فرق یہ ہے کہ پیغام پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں ومل نہ کرنے والا گناہ گار نہیں ہوتا جبکہ فتویٰ یا حکم پر مقلد کے لیے عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً جب آدھے سے زیادہ عراق پر داعش نے قبضے کرلیا تو عام شہریوں کی جان مال کے تحفظ کی غرض سے جہاد کا فتوی اسی ادارہ مرجعیت سے ہی جاری ہوا جس کے بعد لاکھوں عراقی و غیر عراقی رضاکار داعش کے خلاف جنگ کے لیے سرکاری و نیم سرکاری فوجی دستوں کا حصہ بنے۔

دنیا کے حالات و واقعات سے باخبر رہنے کے لیے مرجعیت کا اپنا میکانزم ہوتا ہے۔ مختلف ممالک کے ذرائع ابلاغ خصوصاً ایرانی ذرائع ابلاغ سرکاری سطح پر مراجع تقلید کو روزانہ کی بنیادوں پر خبروں کا بریف بھیجتے ہیں۔ مراجع تقلید کے دفاتر میں ذرائع ابلاغ کے اپنے ڈیسک ہوتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ کہنا کہ کسی نے مرجع تقلید کو مثلاََ فلاں واقعہ کی اطلاع دی ہوگی یہ بے خبری ہے۔ مراجع تقلید کے ہر ملک میں اپنے نمائندہ علما و زعما بھی ہوتے ہیں۔ مراجع تقلید کے فتاویٰ یا پیغامات کی بنیاد اجتماعی مصالح و مفاسد ہوتے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں بلکہ مقام مرجعیت کی توہین ہے کہ مراجع تقلید کسی کی خواہش پر کوئی پیغام یا فتویٰ جاری کردیتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ مرجع تقلید کو مختلف ذرائع سے اپروچ کرکے ان سے کسی مسئلے میں شرعی حکم پوچھا جاسکتا ہے اور یہ کوئی عام شخص بھی کرسکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ مرجع کسی کے کہنے پر اس کی مرضی کے مطابق رائے دے دیتا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی عالمی حالات و واقعات پر نسبتاً دیگر مراجع سے زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جن چند سالوں میں روہنگیا مسلمانوں اور ایغوری مسلمانوں کا مسئلہ درپیش تھا اس وقت سب سے زیادہ پیغامات اور مذمتی بیانات اور ایرانی حکومت سمیت دیگر حکومتوں کو ان کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرنے والے بیانات اسی مرجع تقلید کے تھے۔ اسی طرح جب داعش کا فتنہ مشرق وسطی میں ہر آئے دن ظلم و بربریت کا ایک نیا باب رقم کررہا تھا تو عالمی سطح پر تمام مکاتب فکر کے علما کی ایک بڑی کانفرنس انہی مرجع تقلید نے منعقد کی اور اس فتنے کے مقابلے میں علماء دین کے سنجیدہ اور موثر کردار کا مطالبہ کیا تھا۔

حالیہ سانحہ سے قبل نیز جب بھی پاکستان میں کوئی انسانی المیہ درپیش آیا اس سمیت اکثر مراجع تقلید نے انسانی و اخلاقی و اسلامی ذمہ داری کے تحت اظہارِ نظر کیا۔ مجھے یاد ہے جب چند سال قبل پاکستان میں اس صدی کا بدترین سیلاب آیا اور اس کی تباہ کاریوں نے کروڑوں پاکستانیوں کو متاثر کیا تو آیت اللہ خامنہ ای اپنی قوم سے پاکستانی بھائیوں کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے تھے۔

سانحہ مچھ کے بعد کم و بیش 10 مراجع کرام نے اظہارِ افسوس اور مذمت کیا اور حکومت کو اس کی آئینی و انسانی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا ہے۔ جن میں پاکستانی نژاد عراقی مرجع تقلید حضرت آیت اللہ بشیر حسین نجفی اور عراقی مرجع آیت اللہ علی سیستانی سمیت بحرینی مجتہد آیت اللہ عیسی قاسم سمیت کئی ایک ایرانی مجتہدین شامل ہیں۔ آیت اللہ مکارم کا پیغام اس لیے زیادہ توجہ حاصل کرگیا کیونکہ اس میں شہداء کے جنازوں کی تدفین کا ذکر تھا۔ شیعت میں مراجع تقلید ایک ایکٹیو دینی اتھارٹی ہیں جو امت مسلمہ کو بالعموم اور تشیع کو بالخصوص اکثر مواقع پر رہنمائی کرتے رہتے ہیں اور شیعہ بھی اس اتھارٹی کے احترام و اطاعت کو دین و شریعت کی اطاعت و احترام سمجھتے ہیں۔

اس سب میں ایک بات قابل توجہ بلکہ تشیع میں موجود اس دینی اتھارٹی کا افتخار ہے کہ ان کے تمام پیغامات یا فتاویٰ میں سے کبھی کسی ریاست کی رٹ چیلنج کرنے یا ریاست کے خلاف جہاد یا اداروں کے خلاف جنگ یا دیگر اقوام کے خلاف قیام یا شدت ص شرپسندی پر نہیں اکسایا گیا بلکہ ہمیشہ دینی و انسانی اصولوں کی روشنی میں اقوام کو مشکلات سے نکلنے کا راہ عمل دیا گیا ہے۔ بے پناہ مقبولیت اور اطاعت کے باوجود مرجعیت جیسی دینی اتھارٹی کا یہ افتخار خود میں ایک انفرادیت ہے۔ دلیل کے طور پر حالیہ سانحہ مچھ میں دس مراجع عظام کے پیغامات اٹھا کردیکھ لیں سب میں اتحاد، بھائی چارے، اخوت، برادری اور ہتھیار کی بجائے مظلومیت کے ذریعے ظالم کا مقابلہ کرنے کی تاکید اور حکومتوں کو ان کی آئینی اور انسانی ذمہ داریوں کی طرف مناسب اور موزوں انداز میں متوجہ کیا گیا ہے۔ اور اگر انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات پر اظہارِ خیال کرسکتے ہیں تو ایک مکتب فکر کی اعلی دینی اتھارٹی کے اظہارِ خیال میں کیا قباحت ہے جبکہ وہ اظہارِ نظر سرحدوں کے تصور کے اس حد تک احترام کو ملحوظ رکھ کر کیا گیا ہو جس حد تک دین مبین اس تصور کی اجازت دیتا ہے۔

جن دوستوں کا یہ خیال ہے کہ حالیہ سانحے میں مرجع تقلید سے یہ پیغام دلوایا گیا ہے تو انہیں مرجعیت کا مقام اور حیثیت کو سمجھنا چاہیے کہ مرجع جیسی دینی اتھارٹی انفرادی خواہشات کے برعکس اجتماعی مصالح اور مفاسد کے پیش نظر دینی اصولوں اور قواعد کی بنیاد پر اظہار نظر کرتے ہیں اور اس اظہارِ نظر کے لیے معلومات حاصل کرنے اور پیغام کی اطلاع رسانی کے لیے مراجع کے دفاتر میں ان کا اپنا میکانزم موجود ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی