آیت اللہ رمضانی: پاکستان میں مسلم علماء یونین تشکیل پانا چاہیے/ راجہ ناصر: ایم ڈبلیو ایم پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے

آیت اللہ رمضانی: پاکستان میں مسلم علماء یونین تشکیل پانا چاہیے/ راجہ ناصر: ایم ڈبلیو ایم پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے

آیت اللہ رمضانی نے ملاقات کے دوران پاکستان میں شیعوں کی موجودگی کو ایک عظیم سرمایہ قرار دیا اور معاشرے کے مختلف طبقات منجملہ علماء، بزرگان، نوجوان اور عام لوگوں کے لیے تعلیمی پروگرام ڈیزائن کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تہران میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات اور گفتگو کی۔
آیت اللہ رمضانی نے ملاقات کے دوران پاکستان میں شیعوں کی موجودگی کو ایک عظیم سرمایہ قرار دیا اور معاشرے کے مختلف طبقات منجملہ علماء، بزرگان، نوجوان اور عام لوگوں کے لیے تعلیمی پروگرام ڈیزائن کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے تحقیقی سرگرمیوں کو انتہائی اہم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ سامعین اور مخاطبین کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب اور پروگرام تیار کیا جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مجلس وحدت مسلمین کی اتحاد اور ہمدلی کے راستے پر جاری تحریک کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان میں مسلم علماء یونین کی تشکیل کی ضرورت کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا: شیعہ فکر یہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں مظلوم کا دفاع کیا جائے، لہذا اسلام میں مزاحمت کے موضوع کو اچھی طرح واضح کیا جائے اور اسلام میں مزاحمت کی بحث کو انتہاپسندی کے افکار و طرز عمل سے الگ کیا جائے۔
انہوں نے اسلامی میں جہاد اور مزاحمت کی اہمیت کے بارے میں کہا: قرآن کریم میں 400 آیتیں جہاد سے متعلق ہیں اور یہ چیز اسلام میں جہاد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اسلامی مزاحمت در حقیقت وہی اسلامی رحمت ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے اربعین پیدل مارچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس بات کی ضرورت ہے کہ اربعین کے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزاحمت کے مسئلے کو واضح کیا جائے اور سامراجیت کے خلاف مقابلے کی ضرورت سے آگاہ کیا جائے۔
مجلس وحدت مسلمین پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے
حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس ملاقات میں کہا: شہید عارف حسینی کے دور حیات میں پاکستان میں شیعہ تحریک اپنے عروج پر تھی، لیکن آپ کی شہادت کے بعد حالات بدل گئے اور علماء حاشیے میں چلے گئے، اسی وجہ سے ہم نے مجلس وحدت مسلمین کو تاسیس کیا تاکہ علماء دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکیں۔
انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے اصولوں اور سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان پر حاکم فکر امام خمینی (رہ) اور رہبر انقلاب اسلامی کی فکر ہے ہمارے اہداف میں سے ایک تمام مستضعفین چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی یہاں تک کہ غیر مسلمان جیسے سیکھ اور عیسائی، سب کی مدد کرنا ہے۔
علامہ راجہ ناصر نے مزید کہا: اہل سنت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اس لیے کہ ہمارا ایک اہم نظریہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*