آیت اللہ رمضانی: طرز زندگی اسلامی تہذیب کی تشکیل کا سافٹ ویئر ہے/ اسلام کو جامع، درست اور گہرائی سے متعارف کروائیں

آیت اللہ رمضانی: طرز زندگی اسلامی تہذیب کی تشکیل کا سافٹ ویئر ہے/ اسلام کو جامع، درست اور گہرائی سے متعارف کروائیں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے کہا: ہمیں بین الاقوامی زبان، ادب اور گفتگو سے آشنا ہونا چاہیے اور اپنے سامعین اور ماحول کو جاننا چاہیے۔ کیونکہ مختلف علاقوں اور خطوں میں اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو پھیلانا اس ماحول سے آشنائی پر منحصر ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق، "بین الاقوامی تنظیموں کی اسمبلی" کے اراکین نے قم اسمبلی کے ہال میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔

آیت اللہ "رضا رمضانی" نے اس ملاقات میں حاضرین کو خوش آمدید کہنے کے بعد کہا: عالمی نظام کے سنگین ماحول اور تاریخ کے نشیب و فراز میں ایک نئی اسلامی تہذیب کی سمت حرکت کرنا بہت اہم ہے اور اس مسئلے پر غور و فکر اور مطالعہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: "آج نوجوان نسل کے لیے بین الاقوامی میدان میں حصہ لینے کے لیے حالات پہلے سے بہتر ہیں۔"

* اہل بیت(ع)عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں کی تفصیل
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: جب سے میں اسمبلی میں آیا ہوں تب سے میں نے تبدیلی کی گفتگو کو سب سے زیادہ ضروری سمجھا اور بیان کیا ہے۔ ہمیں ترقی پر قناعت نہیں کرنا چاہیے اور اس راہ میں بین الاقوامی اداروں کی پہچان باہمی افہام و تفہیم کا باعث بنتی ہے اور مشترکہ افہام و تفہیم کا ثمرہ باہمی تعامل اور ہم آہنگی ہے اور ہم آہنگی ترقی اور تبدیلی کا باعث بنے گی۔
انہوں نے مزید کہا: ویکی شیعہ ورچوئل انسائیکلوپیڈیا 10 زبانوں پر مشتمل ہے اور اس سال ہم مزید 6 زبانیں شامل کر رہے ہیں۔ ابنا نیوز ایجنسی اطلاع رسانی اور نیٹ ورکنگ میں ایک ناقابل تلافی کردار ادا کر سکتی ہے اور مراجع اور پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان زنجیر اتصال ہے۔ ثقلین سیٹلائٹ نیٹ ورک ایک زبان پر مشتمل ہے اور ہم اس میں کئی دوسری زبانیں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 3200 غیر ملکی مبلغ ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اہل بیت(ع) بین الاقوامی یونیورسٹی کے طلباء کی اکثریت کا تعلق بیرونی ممالک سے ہے اور طلباء کی تربیت اس انداز میں ہونی چاہیے کہ وہ مستقبل میں اپنے ہی ملک میں ذمہ دار اور کامیاب ثقافتی ڈائریکٹر بن سکیں۔

آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: "اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نئے ڈھانچے میں اقتصادی، ثقافتی، علمی اور دیگر شعبوں میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ہم نے نئے ڈھانچے اور چارٹ کو ڈیزائن اور منظور کیا ہے۔"

انہوں نے بین الاقوامی میدان میں سرگرمیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں بین الاقوامی زبان، ادب اور گفتگو سے واقف ہونا چاہیے اور اپنے سامعین اور ماحول کو جاننا چاہیے۔ کیونکہ مختلف علاقوں اور خطوں میں اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو متعارف کروانے کے لیے وہاں کے ماحول کو جاننے کی ضرورت ہے ۔
مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے مزید کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک مضبوط سپریم کونسل پر مشتمل ہے اور اس اسمبلی کی سپریم کونسل کے اراکین سید حسن نصر اللہ اور شیخ زکزاکی جیسی اہم اور بااثر حقیقی اور قانونی شخصیات ہیں۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی شیعوں کے امور کی نگرانی کی ذمہ دار ہے، مزید کہا: اس اسمبلی کو اپنی سرگرمیوں کے اس مرحلے تک پہنچنا چاہیے کہ وہ دنیا میں علمی اور روحانی اتھارٹی حاصل کرے اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو اس طرح سے پیش کریں کہ سب ان سے لطف اندوز ہو سکیں۔

* عقلانیت، روحانیت، عدالت اور مزاحمت مکتب اہل بیت (ع) کی تعلیمات ہیں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے مزید کہا: عقلانیت، روحانیت، عدالت اور مزاحمت مکتب اہل بیت(ع) کی تعلیمات میں سے ہیں۔ ہم مطلق امن کے خواہاں نہیں ہیں، اور امن انصاف پر مبنی ہے۔ لفظ امن کے جامع معنی انسانی وقار کو تحقق دینا ہے نہ کہ وہ معنی جو مغرب مراد لیتا ہے۔

انہوں نے مختلف براعظموں میں اہل بیت (ع) کو ان علاقوں کے مخصوص کلچر اور ماحول کے مطابق متعارف کروانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: مرحوم یحییٰ بونو کہتے تھے کہ ہمیں اپنے سامعین کو صحیح طور پر جاننا چاہیے کیونکہ بعثت کے دور میں مکہ کے لوگ مدینہ کے لوگوں سے مختلف تھے۔ مدینہ منورہ میں دین کی حکمرانی تھی اور اس کے اپنے اصول تھے لیکن مکہ کا ماحول مختلف تھا۔

آیت اللہ رمضانی نے ثقافتی انجینئرنگ کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: دوسرے ممالک میں ثقافت کے میدان میں ہمیں سخت محنت کرنی چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم کیفیت اور کمیت دونوں کو پیش نظر رکھ کر حرکت کریں۔

اسلام کا جامع، درست اور گہرائی سے تعارف کروائیں
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں اسلام کا جامع، درست اور گہرائی سے تعارف کرانا چاہیے، مزید کہا: "بدقسمتی سے کچھ دانشور اسلام کا انتہائی کم اور انفرادی انداز میں تعارف کرواتے ہیں۔ آیت اللہ کاشانی سے کسی نے کہا تھا کہ سیاست ہمیں دے دو اور آپ شرعی مسئلہ بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ سیاست جو دھوکہ بازی کے معنی میں وہ آپ سے متعلق ہے لیکن اہل بیت(ع) حقیقی سیاست دان اور سیاست گذار تھے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: انگریزی شیعہ اور امریکی سنی دونوں نقصان دہ ہیں اور ان نظریات نے اسلام کو منحرف انداز میں پہچنوایا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ اسلام کا جامع، درست اور گہرائی سے متعارف کرایا جائے۔

انہوں نے تاکید کی: ماضی میں مغرب اور مشرق کے درمیان تصادم ہوا کرتا تھا لیکن آج ایران کے اسلامی انقلاب کی بدولت اسلام اور استکبار کے درمیان ٹکراؤ ہے۔
مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے اخلاق اور معنویت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مغرب اخلاقیات کو سیاست سے متصادم سمجھتا ہے کیونکہ سیاست میں اخلاقیات میکیویلین نظام اور سیاست سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ دینی فکر میں، اگر اخلاقی نظام نہیں ہے، تو ہم ترقی نہیں کر سکیں گے، اور دوسرے نظاموں سے ہمارا مرکزی فرق اخلاقیات اور روحانیت میں ہے۔ اس وجہ سے اگر ہم چاہتے ہیں کہ عدالت تحقق پائے تو ہمیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی اور اگر طاقت نہ ہو تو عدالت نہیں برپا ہو سکتی۔

طرز زندگی اسلامی تہذیب بنانے کا سافٹ ویئر ہے

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے طرز زندگی کو اسلامی تہذیب کی تشکیل کے سافٹ وئیر کے طور پر متعارف کرایا اور مہدویت کی بحث کے بارے میں کہا: بدقسمتی سے مہدویت کے بارے میں انحرافات و شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ بعض ضعیف روایات کی بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ دو تہائی لوگ زمانہ ظہور میں مارے جائیں گے! ان مسائل کا تجزیہ کرنا چاہیے اور ہمیں عالمی میدان میں مہدویت کو مناسب زبان و ادب کے ساتھ متعارف کرانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: ہالینڈ میں امام علی (ع) کے بارے میں ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس میں کئی تصویروں میں امیر المومنین (ع) کو تلوار کے ساتھ دکھایا گیا تھا! ہمیں مغرب میں ائمہ علیہم السلام کا تعارف اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں فلم ’’لیڈی آف پیراڈائز‘‘ کے پروڈیوسر نے خیانت کی ہے اور مذہبی اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

آخر میں آیت اللہ رمضانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میڈیا کی آمریت مکتب اہل بیت(ع) کی آواز کو لوگوں کے کانوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیتی، اہل بیت(ع) کی تعلیمات کی تبلیغ کے لیے بین الاقوامی اداروں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کرنے پر تاکید کی۔

............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*