آیت اللہ رمضانی: شہید قاسم سلیمانی کی شہادت انکی زندگی سے زیادہ موثر واقع ہوئی/ وہ تمام اقوام اور انسانیت سے تعلق رکھتے تھے

آیت اللہ رمضانی: شہید قاسم سلیمانی کی شہادت انکی زندگی سے زیادہ موثر واقع ہوئی/ وہ تمام اقوام اور انسانیت سے تعلق رکھتے تھے

سردار سلیمانی کی شہادت کی عالمی عکاسی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا: "امت مسلمہ، بلکہ پوری انسانیت نے ان کے سوگ میں گریہ کیا اور آج ان کی یاد کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، ان کی شہادت کے دوران ہندوستان جیسے بعض ممالک میں 100 سے زائد مجالس کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی مزاحمت کے کمانڈروں شہید قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی دوسری برسی کے موقع پر اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے آیت اللہ رضا رمضانی نے خطاب کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ رہبر انقلاب کے مطابق، حاج قاسم سلیمانی سب سے زیادہ قومی اور ملی شخصیت کے مالک تھے کہا: ان کی شہادت سے بین الاقوامی سطح پر مزاحمت کے میدان میں ایک نیا باب کھل گیا ہے جسے پوری دنیا مشاہدہ کر رہی ہے۔
سردار سلیمانی کی شہادت کی عالمی عکاسی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا: "امت مسلمہ، بلکہ پوری انسانیت نے ان کے سوگ میں گریہ کیا اور آج ان کی یاد کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، ان کی شہادت کے دوران ہندوستان جیسے بعض ممالک میں 100 سے زائد مجالس کا انعقاد کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا: ہم عصر شخصیات میں کوئی بھی ایسی شخصیت آپ کو نظر نہیں آئے گی جس کے حوالے سے اتنی مجالس منعقد کی جائیں، شیعہ، سنی، مسلمان، غیر مسلمان، دیگر ادیان کے ماننے والے، سب نے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "ہمیں اس عزیز شہید کی یاد کو باقی رکھنا چاہیے،" انہوں نے کہا: "وہ قاتلوں کا مقابلہ کرنے میں ایک ہیرو تھے۔ انہوں نے خود کہا کہ "میں قاتل نہیں ہوں لیکن قاتلوں اور مجرموں کا مقابلہ کروں گا"۔
آیت اللہ رمضانی نے حاج قاسم کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: "انہوں نے ان لوگوں کا مقابلہ کیا جو متکبرانہ مزاج رکھتے ہیں اور انسانی معاشرے کا استحصال کرتے ہیں۔ اور یہ ایک اعلیٰ مقام ہے"۔
انہوں نے سردار سلیمانی کی شفقت اور نرم مزاجی کا بھی حوالہ دیا اور کہا: "تکفیریوں، دہشت گردوں اور تشدد پسند لوگوں کے خلاف شدید جدوجہد کے باوجود وہ شہیدوں کے بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان تھے۔ آپ ظالموں، کافروں اور دشمنوں کے لیے ناقابل تسخیر طاقت تھے اور اہل اسلام کے لیے نہایت رحم دل اور شفیق تھے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کا درجہ عطا کیا۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: امیر المومنین (ع) نے مالک اشتر کے نام اپنے ایک خط کے آخر میں خدا سے اپنے لیے اور مالک اشتر کے لیے شہادت کی دعا کی۔ کیونکہ آگے کا راستہ ایک کٹھن راستہ ہے اور اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے اور سب سے قیمتی چیز انسان کی جان ہے جسے انسان اپنے معبود اور معشوق کی راہ میں قربان کرتا ہے۔ شہید سلیمانی کا معبود اور معشوق حق تھا، اور وہ حق کی راہ پر گامزن تھے اسی وجہ سے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس شہید کی تاثیر حتیٰ انکی زندگی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: "سردار سلیمانی کی زندگی کے دو بابوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، ایک باب ان کی زندگی کا دور ہے اور دوسرا اس شہید کی شہادت کا دور ہے۔ شہید سلیمانی شہادت کے دور کی تاثیر اگر ان کی زندگی سے زیادہ نہیں ہے تو کسی بھی صورت میں کم بھی نہیں ہے۔ یہ تاثیر پوری دنیا میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام حریت پسندوں میں دکھائی دیتی ہے۔ میدان مزاحمت کے مجاہدین شہید سلیمانی کو اپنا آئیدیل سمجھتے ہیں یقینا وہ دلوں کے سپہ سالار تھے۔ شہید سلیمانی خود کو حق کا بندہ سمجھتے تھے لہذا دوسرے ان کے مطیع اور فرمانبردار تھے۔
انہوں نے شہید سلیمانی کی شخصیت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "اس شہید نے ایک کرشماتی، روحانی، جذباتی، عقلانی اور جہادی شخصیت زندگی گزاری ہے، اور یہ ایک نمایاں نکتہ ہے جس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*