فرانس میں شیعہ تنظیموں کے ساتھ ملاقات میں؛

آیت اللہ رمضانی: اہل بیت(ع) کے پیروکار مغربی ممالک کے لیے بہت قیمتی ہیں/ مغربی معاشروں میں شیعوں کی طرف سے قوانین کی پاسداری کی مثال

آیت اللہ رمضانی: اہل بیت(ع) کے پیروکار مغربی ممالک کے لیے بہت قیمتی ہیں/ مغربی معاشروں میں شیعوں کی طرف سے قوانین کی پاسداری کی مثال

آیت اللہ "رضا رمضانی" جو بعض مذہبی اور بین الادیان ملاقاتوں کے لیے یورپ کے دورے پر ہیں، نے فرانس میں "شیعہ تنظیموں" کے اراکین سے ملاقات کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق، آیت اللہ "رضا رمضانی" جو بعض مذہبی اور بین الادیان ملاقاتوں کے لیے یورپ کے دورے پر ہیں، نے فرانس میں "شیعہ تنظیموں" کے اراکین سے ملاقات کی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اس ملاقات میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ "دشمنان اسلام آج ماضی کی طرح اسلام کو الٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں" کہا: بحیثیت مسلمان ہمارا سب سے اہم فریضہ اسلام کی مکمل شناخت ہے۔ آیات اور احادیث کی صحیح تفہیم کی بنیاد پر، اسلام ایک جامع دین ہے جو انفرادی مسائل اور سماجی تناظر دونوں کو حل کرتا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے اسلام کی جامع اور مکمل شناخت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: اسلام دنیا اور آخرت دونوں پر برابر نگاہ رکھتا ہے، قرآن میں کہا گیا ہے: «وَلَا تَنسَ نَصيبَكَ مِنَ الدُّنیا»؛ دنیا میں جو تمہارا حصہ ہے آخرت تک پہنچنے کے لیے اسے فراموش مت کرو، یعنی بعض لوگ صرف دنیا کے گرویدہ ہو جاتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں اور بعض صرف آخرت کی تلاش میں دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں، دونوں نظریات غلط ہیں۔

۔اسلام میں روابط کی اقسام
آیت اللہ رمضانی نے اسلام میں روابط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "خود سے رابطہ"، "خدا سے رابطہ"، "معاشرے سے رابطہ"، " بین الاقوامی میدان میں رابطہ" اور "فطرت کے ساتھ رابطہ"، یہ پانچ روابط ہیں جو دنیا میں پائے جاتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے ان میں سے ہر ایک کے لیے مخصوص احکام بیان کئے گئے ہیں۔
اس اسلامی مفکر نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: "لیبرل اسلام" کی نظر میں صرف انسان کا خدا کے ساتھ تعلق اور انسان کے اپنے آپ سے تعلق کو پیش نظر رکھا جاتا ہے، اور یہ آیات اور احادیث کے خلاف ہے۔ کیونکہ اسلام میں معاشرے کے حوالے سے اصول و ضوابط ہیں اور انسانوں کا ایک دوسرے سے رشتہ ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلام سے منسوب تشدد کا اس مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا: "جو لوگ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کے الفاظ سے دوسرے لوگوں کا سر قلم کرتے ہیں ان کا یقیناً اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اسلام کے دشمنوں کے بنائے ہوئے عناصر ہیں۔ جب ہم قرآن کی آیات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کسی بھی طرح قتل کرنے اور قتل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

۔کوئی نبی تشدد کے لیے نہیں بھیجا گیا

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ " نظریاتی مباحث میں مسائل کو فکر و تدبر کے ساتھ فروغ دینا چاہیے" بعض شبہات کے جواب میں کہا: یہ جو کہا جاتا ہے کہ اسلام جناب خدیجہ کی دولت اور علی علیہ السلام کی تلوار سے پھیلا ہے یا یہ کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے، یہ باتیں قرآنی یا روایتی بنیاد پر نہیں کہی جاتیں۔ پیغمبر اکرم کے زمانے میں مسلمانوں کو زیادہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لیے ان میں سے بہت سے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے دفاع کے لیے اجازت طلب کی۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ اجازت نہیں دی۔ اسلام کے دشمنوں نے پیغمبر اکرم (ص) اور بہت سے مسلمانوں کو قتل کرنے کی سازش کی اور آپ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شہر میں آباد ہوئے تو مشرکین آپ کو قتل کرنے اور اسلام کو شکست دینے کے لیے مدینہ چلے گئے۔ یہاں رسول اللہ (ص) کو اپنا اور مسلمانوں کا دفاع کرنا تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ پیغمبر اسلام تشدد کا پیامبر ہے یا اسلام ایک متشدد مذہب ہے اس کی کوئی علمی، تاریخی یا قرآنی بنیاد نہیں ہے۔

جناب رمضانی نے مزید کہا: قرآن، اس کی تمام سورے - ایک سورے کے علاوہ - "خدا کے نام سے، جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے" سے شروع ہوتے ہیں۔ اور قرآن جس میں "رحمن"، "رحیم"، "غفور" اور "رؤف" جیسے الفاظ بار بار استعمال ہوئے ہیں، وہ یقیناً تشدد کے مذہب کی کتاب نہیں ہو گی۔ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ ہمارا ماننا ہے کہ کوئی نبی یا مذہب تشدد کے لیے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا: یہ خیال کہ "جناب عیسی کا خدا رحمت کا خدا ہے اور محمد کا خدا تشدد کا خدا ہے!" یہ خدا اور انسانیت کے دشمنوں کا پروپیگنڈہ ہے۔ جو چیز اسلام کی ترقی کا سبب بنی وہ "پیغمبر (ص) کا اخلاق" تھا جو کہ قرآنی اخلاق ہے۔ خداوند متعال نے پیغمبر اکرم (ص) کے اخلاق کو متعدد آیات میں بیان کیا ہے جیسے " "انک لعلی خُلُق عظیم"، "فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِك" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی رحمت کے واسطے حضور (ص) کا اخلاق اچھا تھا اور اس طرح لوگ آپ کی طرف راغب ہوئے۔
آیت اللہ رمضانی نے اس سلسلے میں کہا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "إِنَّ اَللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَدَّبَ نَبِيَّهُ، فَلَمَّا اِنْتَهَى بِهِ إِلَى مَا أَرَادَ قَالَ لَهُ إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ" "اللہ تبارک و تعالی نے اپنے اپنے نبی کو ادب سے آراستہ کیا اور جب وہ اللہ کے مقصد میں انتہا تک پہنچ گئے تب خدا نے فرمایا: آپ خلق عظیم پر فائز ہیں۔

۔ امت اسلامیہ کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے "اتحاد اسلامی کی ضرورت" کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "جو چیز ہم سب کے لیے خاص طور پر اہل بیت کے پیروکاروں کے لیے اہم اور ضروری ہے وہ امت اسلامیہ کے اتحاد پر توجہ ہے۔ بعض واضح طور پر سنی امت اور شیعہ امت کا ذکر کرتے ہیں! جبکہ سنی امت اور شیعہ امت دشمنان اسلام کی طرف سے بنائی ہوئی چیزیں ہیں۔ ہمیں جس چیز کی پیروی کرنی چاہیے وہ ہے اسلامی امت کا اتحاد، اور یہی وہ چیز ہے جس پر بزرگ شیعہ رہنما یقین رکھتے ہیں۔
مجمع جہانی تقریب مذاہب کی مجلس اعلیٰ کے رکن نے مزید کہا: "داعشی سوچ اور داعشی طرز عمل" سنی علماء کو بھی منظور نہیں ہے اور سب نے متفقہ طور پر اسے مسترد کر دیا ہے۔ ہم نے عملی طور پر ان انتہا پسند اور خطرناک خیالات کا بھی مقابلہ کیا۔ لہذا شہید الحاج "قاسم سلیمانی" ایک ایسے شخص تھے جو ان درندوں کے خلاف کھڑے ہوئے اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
آیت اللہ رمضانی نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعوی کرنے والوں کی منافقت اور دورویی" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرتا ہے؛ جبکہ یہ ملک خود دہشت گردی کو رواج دیتا اور دھشتگرد تیار کرکے شام، عراق، افغانستان اور دیگر جگہوں پر بھیجتا ہے۔ یہ وہ سناریو ہیں جو انہوں نے خود بنائے ہیں۔

۔اسلام کی خصوصیات
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ "اتحاد اور ہم آہنگی مکتب اہل بیت (ع) کو متعارف کرانے میں بہت زیادہ کردار ادا کر سکتی ہے" کہا: اسلام کی پہچان جو چیز ہے وہ "عقلانیت" ہے۔ کیونکہ اسلام عقل، فکر اور عقلانیت کا دین ہے۔ یہاں تک کہ اسلام میں نماز اور روزہ جیسی عبادتیں بھی عقل کی سلامتی کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے اسلام کی دوسری خصوصیت کو متعارف کراتے ہوئے کہا: "قرآن کی تمام آیات اور اہل بیت(ع) کی احادیث معنوی دنیا کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان روحانی اور عقلانی طور پر ترقی کرتے۔ یعنی جو آدمی اس دنیا میں آیا ہے، اسے اپنی عقل اور دل کی تربیت کر کے عقلی اور شہودی آدمی بننا چاہیے۔ ہم جس روحانیت اور معنویت کی تلاش کرتے ہیں اس میں سرفہرست خدا ہے، اور ایک اعلیٰ حقیقت کی طرف توجہ جو سب سے زیادہ کامل ہے۔ ہم جس روحانیت کی پیروی کرتے ہیں وہ ایک دوسرے اور خدا کے مذہب کے سامنے جوابدہ ہےاس لیے ضروری ہے کہ تعلیمات میں روحانیت کو شامل کیا جائے۔

۔انسانی معاشرہ ناانصافی، غربت اور بدحالی کا شکار ہے
آیت اللہ رمضانی نے "عدالت" کو اسلام کی تیسری خصوصیت قرار دیتے ہوئے اسلام میں عدالت کے مقام کی اشارہ کیا اور کہا کہ عدالت کا قیام تمام انبیاء کی خواہش تھی جیسا کہ قرآن میں ہے "لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ" ہم نے تمام انبیاء کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں میں عدالت قائم کر سکیں۔ انسانی معاشرہ جس چیز کا شکار ہے وہ ناانصافی ہے جو غربت اور بدحالی کا باعث بنی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے مزید کہا: "لہذا ہم ایک لحاظ سے اسلام کو "رحمت کا دین، عقلانیت کا دین، روحانیت کا دین، عدل و انصاف کا دین کے طور پر متعارف کروا سکتے ہیں۔

۔ مغربی ممالک میں اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کی موجودگی بہت قیمتی ہے
انہوں نے مذہب اہل بیت (ع) کو جامع مذہب متعارف کروانے پر تاکید کرتے ہوئے مزید کہا: مغرب کے حکمرانوں کو جس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے وہ یہ ہے کہ اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کی موجودگی ممالک میں غنیمت ہو گی۔ اس لیے کہ وہ انتہا پسندی، تشدد اور غیر قانونی کاموں کے خلاف ہیں۔
جناب رمضانی نے "مغربی معاشروں میں شیعوں کی قانون کی پاسداری" کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا: "جب امام خمینی (رہ) فرانس کے "نوویل لوشاتو" میں تھے تو امام کے ساتھیوں نے گھر میں ایک بھیڑ ذبح کی اور اس سے کھانا تیار کیا، امام نے پوچھا: یہ بھیڑ کا گوشت کہاں سے آیا اور اسے کہاں ذبح کیا گیا ہے؟ ساتھیوں نے کہا کہ ہم نے اسے گھر میں ذبح کیا ہے اور پھر اس کام کی توجیہ کرنے کی کوشش کی، امام نے فرمایا: کیا فرانس کی حکومت تمہیں ایسی جگہ پر جانور ذبح کرنے کی اجازت دیتی ہے یا بھیڑ کے ذبح کی کوئی خاص جگہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ شاید اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امام نے فرمایا: "پس میں یہ کھانا نہیں کھاتا۔" یہ وہ اہم نکات ہیں جن پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں خود یورپ میں اپنے 13 سالوں کے دوران اس طرف توجہ دیتا رہا ہوں۔

 ۔ مقدسات کے تقدس کا تحفظ کرتے ہوئے آزادی اظہار کی پاسداری
اہل بیت(ع) عالمی مجلس کے سکریٹری جنرل نے کہا: میں نے جو تجربہ حاصل کیا ہے اس کی بنیاد پر میں جانتا ہوں کہ ہمیں مکتب اہل بیت(ع) کو صحیح طور پر پہچاننا اور پہچنوانا چاہیے اور پھر فیصلے کو دوسروں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ کیونکہ وہ خود ایسے اہل بیت(ع) کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ شیعہ علماء کسی عیسائی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ مکتب اہل بیت (ع) کو صحیح طور پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آخر میں "احترام مقدسات کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی" کے بارے میں انہوں نے کہا: "پاپ" کو لکھے گئے خط میں ہم نے کہا کہ "اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی کے مقدسات کی توہین نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کسی مقدس کتاب یا کسی نبی کی توہین نہ کریں۔ مقدس ہستیوں کا خاکہ بنانا اور دوسروں کے مقدسات کی توہین کرنا انسانی عقل اور فطرت کے خلاف ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*