آیت اللہ رمضانی: اہل بیت(ع) سے محبت اسلامی وحدت کا مرکزی نقطہ ہے/ شیخ حسون: ہمیں امامت کے زیر سایہ رہنا چاہیے نہ خلافت کے؛ امامت کا سلسلہ قیامت تک باقی ہے

آیت اللہ رمضانی: اہل بیت(ع) سے محبت اسلامی وحدت کا مرکزی نقطہ ہے/ شیخ حسون: ہمیں امامت کے زیر سایہ رہنا چاہیے نہ خلافت کے؛ امامت کا سلسلہ قیامت تک باقی ہے

شیخ حسون نے مزید کہا: ہمیں توجہ کرنا چاہیے کہ ہمیں امامت کے زیر سایہ رہنا چاہیے نہ خلافت کے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر حضرت علی نہ ہوتے تو دیگر خلفاء بھی نہ ہوتے، امامت قیامت تک باقی رہنے والی چیز ہے لیکن خلافت فنا پذیر ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے شام و لبنان کے دورے کے دوران شام کے مفتی اعظم شیخ "احمد بدرالدین حسون" سے ملاقات اور گفتگو کی۔
آیت اللہ رمضانی نے اس ملاقات میں کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسلمان اسلامی وحدت کے مخالف ہیں اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ نفرتیں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرمان کے مطابق  "امامتنا اماناً من الفرقه"  اہل بیت(ع) کی امامت امت مسلمہ کو افتراق اور اختلاف سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے، آج امت کو ہر دور سے زیادہ اتحاد اور ہمدلی کی ضرورت ہے اور عالمی سطح پر دشمنوں کے مقابلے میں تمام شعبہ جات؛  چاہے وہ ثقافتی شعبہ جات ہوں یا سیاسی و عسکری، میں اس اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت دوچنداں ہو جاتی ہے۔
انہوں نے شیعہ سنی اختلاف کو اسلام کے دشمنوں کی سازش قرار دے کر کہا: اختلاف امت کے لیے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، ہمیں چاہیے کہ وحدت کے لیے چارہ جوئی کریں اور اسلام کی نظر میں محبت اہل بیت(ع) وحدت کے لیے بہترین نقطہ اشتراک ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: جرمنی کے شہر ہمبررگ میں، میں نمائندہ ولی فقیہ کی حیثیت سے تھا۔ ایک عیسائی نے مجھ سے سوال کیا کہ کیوں اسلام تشدد اور خونریزی کا دین ہے؟ میں نے اس کے بعد کم سے کم بیس ہفتے نماز جمعہ کے خطبوں میں "قرآن میں محبت" کے عنوان پر گفتگو کی اور یہ خطبے جرمن زبان میں ترجمہ کر کے شائع کئے۔ وہ تہمتیں جو اسلام پر لگائی جاتی ہیں اسلام کے چہرے کو خدشہ دار کرنے کی غرض سے لگائی جاتی ہیں ہمیں مغرب میں اسلاموفوبیا کے مسئلے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
انہوں نے عالم اسلام کی مشکلات کے بارے میں کہا: دین کے بارے میں اسلامی معاشرے کی شناخت بہت سطحی ہے کہ جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ امت اسلامی کی زیادہ تر مشکلات اسی دین نہ سمجھنے یا سطحی سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ کیوں بعض لوگ سب سے پہلی چیز جو دین اسلام کے بارے میں سکھاتے ہیں وہ قتل کرنا ہے کیوں قتل و غارت اسلام کی علامت بن گئی ہے؟ جبکہ سورہ علق کی پہلی آیتوں کے مطابق سب سے پہلی چیز جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے وہ علم حاصل کرنا اور پڑھنا لکھنا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نےکہا: یورپ میں ایک مقالے میں تین نازیبا چیزوں کو پیغمبر اکرم کی طرف نسبت دی تھی جنگ پرستی، اقتدار پرستی اور شہوت پرستی۔ یہ چیزیں مغربی میڈیا میں اسلام کے خلاف اہم ترین ہتھکنڈوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ہمیں اپنے حوزات علمیہ میں اس طرح سے منصوبہ بندی کرنا چاہیے کہ مغربی سماج کی نگاہ کو اسلام کی نسبت اپنے عمل اور کردار سے بدلنے میں کامیاب ہو سکیں اور اسلام کو صحیح معنی میں پہچنوا سکیں۔

مزاحمت کو رحمت الہی کے زیر سایہ پیش کریں
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے زور دے کر کہا: ہمیں چاہیے کہ دنیائے اسلام میں ایک نیا طریقہ کار اپنائیں اور اسلام و دین کی صحیح تعریف بیان کریں۔
آیت اللہ رمضانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شام میں موجودہ حالات میں مزاحمت کے مفہوم کہ جو ایک قرآنی حقیقت ہے کو صحیح معنی میں پیش کیا جا سکتا ہے، کہا: مزاحمت کو رحمت الہی کے زیر سایہ پیش کرنا چاہیے اور اسلام حقیقی کے تحفظ کے لیے سامراج اور عالمی استعمار کے مقابلے میں کھڑے ہونا چاہیے۔

خلافت کی نسبت امامت کی اہمیت کہیں زیادہ ہے
شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون نے بھی اس ملاقات میں امام علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ کی ولادت کے ایام کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا: حضرت علی (ص) کے وجود مبارک نے امامت کو خلافت پر واقعی معنی میں ترجیح دے دی۔ خلافت اور امامت دو حقیقی مفہوم ہیں خلافت اہل سنت کی نگاہ میں ایک انسانی ذمہ داری پر دلالت کرتی ہے اور ایک مشخص وقت اور دائرہ حدود کی حامل ہے لیکن امامت کا مفہوم ایمان سے جنم لیتا ہے اور دائمی ہے اس کے لیے کوئی زمانہ معین اور مشخص نہیں ہے۔ لہذا اپنے ایمان کو مضبوط بنانا چاہیے۔
احمد حسون نے کہا: ایک ہزار سال قبل کے یہ مفاہیم آج ہمارے نوجوانوں کے لیے قابل درک نہیں ہیں ہمیں ان مفاہیم کو آسان کر کے آج کی زبان میں بیان کرنا چاہیے۔
شیخ حسون نے مزید کہا: ہمیں توجہ کرنا چاہیے کہ ہمیں امامت کے زیر سایہ رہنا چاہیے نہ خلافت کے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر حضرت علی نہ ہوتے تو دیگر خلفاء بھی نہ ہوتے، امامت قیامت تک باقی رہنے والی چیز ہے لیکن خلافت فنا پذیر ہے۔ جیسا کہ مفتی امامت کے زیر سایہ ہوتا ہے لیکن وزیر خلافت کے زیر سایہ۔
شام کے مفتی اعظم نے اہلبیت اطہار (ع) کی تعلیمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں جب اہل بیت(ع) کی کتابوں کو مطالعہ کر رہا تھا تو صحیفہ سجادیہ سے میں بے حد متاثر ہوا۔ میں نے امام سجاد (ع) سے یہ سیکھا کہ دشمنوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے اچھے اخلاق سے انہیں اپنی طرف جذب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ ہم پہلے لوگوں کو اہل بیت(ع) کی محبت اور مودت کی طرف دعوت دیں اس کے بعد انہیں ان کی تعلیمات سے آشنا کریں۔
انہوں نے کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شیعوں کے درمیان رائج بعض بدعتیں دیگر مسلمانوں کے ان سے دور کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ درحقیقت تبلیغ کے امور میں ہماری کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ جب رہبر انقلاب اسلامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دیگر ممالک میں تبلیغ کریں تو ان کی بات بالکل درست ہے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
.......
242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*