آیت اللہ رمضانی: انسانی معاشروں میں خوبصورت ترین انسانی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں/ کلیسیاؤں کی عالمی کونسل کے سیکرٹری جنرل: ایرانی قوم مظلوم ہو چکی ہے

آیت اللہ رمضانی: انسانی معاشروں میں خوبصورت ترین انسانی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں/ کلیسیاؤں کی عالمی کونسل کے سیکرٹری جنرل: ایرانی قوم مظلوم ہو چکی ہے

جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے بین الادیان گفتگو اور مشترکہ سرگرمیوں کی انجام دہی پر تاکید کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل آیت اللہ "رضا رمضانی" جو ورلڈ کونسل آف چرچز کی دعوت پر سوئٹزرلینڈ کے دور پر تھے نے اس کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوآن ساوکا سے ملاقات کی۔
جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے بین الادیان گفتگو اور مشترکہ سرگرمیوں کی انجام دہی پر تاکید کی۔

۔ مشترکہ اقدار کو سامنے لائیں
ملاقات کے آغاز میں جناب ساوکا نے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ تقریباً ہر 18 ماہ بعد ہم تہران یا جنیوا میں ایک کانفرنس منعقد کرتے ہیں۔ ان کانفرنسوں اور ملاقاتوں کا دائرہ حتی قم اور ایران کے دیگر شہروں تک بھی پھیل چکا ہے۔
ورلڈ کونسل آف چرچز کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: "ہماری کوشش اور مقصد مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان ایک پل بنانا ہے۔ کیونکہ یہی ہمارا مشن ہے۔ عیسائیت میں بھی دوسرے ادیان کی طرح مختلف فرقے رکھتی ہے۔ ہم مشترکہ اقدار کو ظاہر کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں، اور یہی ادیان و مذاہب کے درمیان تعامل کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا: "پچھلی کانفرنسوں میں، ہم نے مشترکہ عبادتوں اور زیارتوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی - جیسے "عبادت کے راستے پر پیدل مارچ" جیسے "اربعین مارچ "۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشترکات کے پائے جانے کے بغیر بھی کوئی مشترکہ اقدار کے حصول کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔ جیسا کہ پوپ نے پرامن باہمی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ہم سب کا ہدف اور مشن خدا کی طرف سے مقرر کردہ سمت میں آگے بڑھنا ہے۔

۔اسلام اور آسمانی مذاہب کی سچائیاں نسل پرستی کے مخالف ہیں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے بھی کلیساؤں کی عالمی کونسل کی دعوت کا شکریہ ادا کیا اور کہا: پوری تاریخ میں بہت سے عقائد قلبی اور باطنی معاملات رہے ہیں اور ہر کوئی اپنی فکری اور معنوی صلاحیت کے مطابق ان پر ایمان رکھتا ہے۔ لہذا اس اعتبار سے ہمیں، عقائد سے ہٹ کر انسانی معاشرے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ "ہمیں پرامن زندگی گزارنی چاہیے اور ہمیں لوگوں کو نسل پرست کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے،" کہا: مغرب میں کچھ نسل پرستانہ خیالات ہیں۔ دنیا کے دوسرے خطوں میں بعض عربوں کو غیر عربوں سے اور بعض غیر عربوں کو عربوں سے برتر سمجھتے ہیں! جبکہ یہ درست نہیں ہے اور ادیان الہی نسل پرستی کے مخالف ہیں۔ اسلام میں رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہو کر "وقار" کو انسان کا جوہر سمجھا گیا ہے اور چو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ "تقوا اور پرہیزگاری" ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے "انسان کی ترقی اور اس کے تعلقات کی نوعیت کی بنیاد پر اس کی سربلندی پر توجہ دینے" پر تاکید کی اور کہا: "خدا کے ساتھ انسان کا تعلق اور روحانیت کی طرف توجہ، انسان کا خود سے تعلق اور فطرت کے ساتھ انسان کا رشتہ وہ چیزیں ہیں جن کے لیے راہ حل موجود ہیں۔ مثال کے طور پر انسان کو اپنے تعلق سے مادہ پرست اور دنیا پرست نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ مادہ پرست انسان کو عقلی اور شہودی انسان کی منزل تک پہنچنا چاہیے۔ انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ تعلقات میں بھی انسانی مشترکات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے "خدا کے ساتھ اپنے تعلق میں عبادت اور روحانیت کی طرف انسان کی توجہ" کے بارے میں بھی واضح کیا: کسی بھی مذہب میں عبادت کی اپنی ایک خاص تعریف ہوتی ہے جس کا احترام کیا جانا اور اسے مضبوط کیا جانا چاہیے۔

 باہمی بقا اور تعامل کی فضا میں افراط و تفریط سے اجتناب
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنی گفتگو کو مکمل کرتے ہوئے بعض اسلامی دعاؤں کے جملات دھراتے ہوئے کہا: اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ بیمار کے لیے اس طریقے سے دعا کرو: "اللهم اشفِ کل مریض" یعنی خدایا ہر مریض کو شفا عطا کر، یعنی اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ مریض مسلمان ہے یا عیسائی ہے۔ یا مثلا بھوکے کو سیر کرنے کے لیے دعا کرتے ہیں "اللهم أشبع کل جائع" یعنی خدایا ہر بھوکے کو سیر کر دے۔ اسی طرح تمام ضرورتمندوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
آقائے رمضانی نے امام علی علیہ السلام کے مالک اشتر کو لکھے گئے حکم نامے کے ایک فقرے کی طرف اشارہ کیا جس میں آپ نے فرمایا: "الناس إمّا أخٌ لَكَ في الدِّينِ، أو نَظيرٌ لَكَ في الخَلقِ"؛ کہ لوگ یا تو دین میں آپ کے بھائی ہیں یا مخلوق میں آپ جیسے ہیں"۔ "أخٌ لَكَ في الدِّين " ایک مذہبی بھائی چارہ کی طرف اشارہ ہے جو تمام فرقوں اور مذاہب کو شامل ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں تمام مومنین، عقائد اور نظریات میں اختلاف کے باوجود، بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی جیسا سلوک کرنا چاہیے۔ اور جملہ " نَظيرٌ لَكَ في الخَلق" تمام انسانوں کے بارے میں ہے۔ اس لحاظ سے کہ تمام انسانوں کا وجود اور انسانی وقار کا جوہر مشترک ہے اور یہی ان کے ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد ہے۔ لہذا، یہ وہ مشترکات ہیں جن پر تمام مذہبی رہنماؤں کو فرقہ وارانہ تقسیم کے باوجود پابند رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم میں دو آیات ہیں جو انسانوں کو حکم دیتی ہیں کہ وہ گروہی نظریہ نہ رکھیں۔ ان میں سے ایک آیت "قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً" لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے گفتگو کرو۔ دوسروں کے ساتھ برتاؤ کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ خدا تمام انسانوں کو دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ دوسری آیت عدالت کے نفاذ کا حکم دیتی ہے؛ خدا اس آیت میں بے عدالتی اور ناانصافی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتا، لہذا انسانیت کو ایسی تعلیمات سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اور ضروری ہے کہ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی کو سماج پر حاکم کریں۔
آیت اللہ رمضانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں خدا کی طرف سے انسانیت کو امن کا پیغام دینا چاہئے، کہا: انسانیت اپنے آپ سے بیگانگی، خدا سے بیگانگی اور دوسرے انسانوں سے بیگانگی کا شکار ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کا واحد حل یہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے، اپنے خدا اور دوسروں سے صلح کر لیں۔ یہ ایک اہم اخلاقی اور عرفانی اصل ہے جو حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں بارہا دہرایا گیا ہے اور مذہبی رہنماؤں کے اہم فرائض میں سے ایک ہے۔ اسے فروغ دیں اور سکھائیں.

۔ مختلف فرقوں کی جنگ کا بائبل سے کوئی تعلق نہیں ہے

ورلڈ کونسل آف چرچز کے سیکرٹری جنرل نے اس درمیان کہا: "یہ نکات بالکل وہی ہیں جو ہماری روایت اور مذہب میں ہیں۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ انسان ان تینوں موارد سے الگ نہیں ہے۔ اسی لیے ہم نے نسل پرستی سے لڑنے کے لیے ایک انجمن بنائی ہے۔ آپ نے قرآن کی بنیاد پر بات کی اور میں نے عیسائیت کی تعلیمات کی روشنی میں بات کی۔ لیکن ہم دونوں کی ایک نظر ہے۔ ہم انسان آپس میں بھائی ہیں اور ہم اپنے درمیان فرق محسوس نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم سب ایک ہی پس منظر سے آئے ہیں اور ہماری اصل ایک ہی ہے۔
پادری یوآن ساوکا نے مزید کہا: ہم پروگرام کے مختلف حصوں میں بین الادیان گفتگو رکھتے ہیں، اور تمام مسلمانوں کے لیے بغیر کسی مسائل کے اکٹھا ہونا ممکن ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ادیان و مذاہب کے درمیان جو جنگ پوری تاریخ میں ہوئی ہے وہ ثقافتی اختلافات سے متعلق ہے اور اس کا مذاہب کی مقدس کتابوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ورلڈ کونسل آف چرچز کے سربراہ کی حیثیت سے، ہم مشترکہ نتائج کی کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

۔ ہمیں شدت پسندی، انتہا پسندی اور تندروی کا مقابلہ کرنا چاہیے
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "میں بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ افراط، تفریط اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ تمام مذہبی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ انسانوں پر ظلم و ستم کو روکیں۔ اس مقصد کے لیے، بنیادی حکمت عملیوں میں سے ایک سیاسی خودمختاری کا تعاون ہے۔ کیونکہ سیاست دانوں کو سیاسی معاملات میں انبیاء کی تعلیمات کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔

آیت اللہ رمضانی نے "دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو مذاہب کی روح کے خلاف سمجھا" اور تاکید کی: کوئی بھی ملک جوہری ہتھیار تیار یا استعمال نہ کرے۔ کیونکہ ایسا کام ادیان الٰہی کے نقطہ نظر سے حرام ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کی ممانعت کے بارے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کا فتویٰ جو انہوں نے واضح طور پر بیان کیا ہے، اسی کے مطابق ہے۔ تاہم، کچھ ممالک کے لیے، بدقسمتی سے، جوہری ہتھیار رکھنے کو دوسرے ممالک اور اقوام سے پیسے بٹورنے کے لیے دباؤ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر انسانوں کو امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو ان چیزوں کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

۔ انسانی معاشروں میں خوبصورت ترین انسانی اقدار کو فروغ دیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انسانوں کے درمیان مفاہمت اور زمین پر تمام ظلم و جبر کا خاتمہ عدالت کا خوبصورت چہرہ ہے، کہا: ہمیں انسانی سماج میں خوبصورت انسانی اقدار کی ترویج کرنا چاہیے اور ایسے اقدام کے نتائج کا تحقق اس طرح کے جلسات سے حاصل ہو گا۔ دینی رہنماؤں کے ذریعے یہ اعلان کیا جانا چاہیے کہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین نہ کی جائے۔ کیونکہ مقدسات کی توہین کر کے آزادی اظہار مومنین کے دلوں کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
ورلڈ کونسل آف چرچز کے سکریٹری جنرل یوآن ساوکا نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جب بھی کوئی واقعہ ہو تو پیغام بھیجیں اور میڈیا تک پہنچیں۔ میرا ماننا ہے کہ سماجی زندگی میں لوگوں کو تکلیف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، اور ہمارے پاس انسانی حقوق اور انسانی وقار کے لیے رد عمل ظاہر کرنے کی ہمت ہے۔ میں نے ایران کے عزیز عوام اور پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں بیانات دیئے ہیں اور میں نے صدور سے بات کی ہے۔ کیونکہ ایرانی قوم محروم اور مظلوم رہی ہے۔
آخر میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے مذہبی پیشواؤں کے درمیان مکالمے کے ایک نئے دور کی تشکیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ ایک بہت ہی خوش آئند اور امید افزا مسئلہ ہے، اور انشاء اللہ ہم سب اس سمت میں کام کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات میں اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ حجت الاسلام ڈاکٹر "سعید جزری" بھی موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*