آیت اللہ رمضانی: ادیان کے پیروکاروں کے حقوق کا تحفظ، معاشرے کے افراد کے درمیان اتحاد کا باعث بنے گا

آیت اللہ رمضانی: ادیان کے پیروکاروں کے حقوق کا تحفظ، معاشرے کے افراد کے درمیان اتحاد کا باعث بنے گا

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اس ملاقات میں اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میرے لیے اس کپلیکس سے رابطہ بہت اہم ہے۔ ایران میں ہم ان رابطوں کو "ادیان و مذاہب کے درمیان تقریب" کے نام سے رکھتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل آیت اللہ "رضا رمضانی" ورلڈ کونسل آف چرچز کے روابط عامہ کے سربراہ بنجامن سیمون اور اس کونسل کے کالج کے سربراہ سیمن سین سے ملاقات کی۔
سوئٹزرلینڈ کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے شہر جنیوا میں اس کونسل کے کچھ پروفیسروں سے ہوئی اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے بین الادیان ہم آہنگی سرگرمیوں کی ضرورت پر گفتگو کی۔

۔ ادیان الہی کے پیروکاروں کے حقوق کا تحفظ معاشرے کے ارکان کے درمیان اتحاد کا باعث بنتا ہے
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اس ملاقات میں اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میرے لیے اس کپلیکس سے رابطہ بہت اہم ہے۔ ایران میں ہم ان رابطوں کو "ادیان و مذاہب کے درمیان تقریب" کے نام سے رکھتے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے "ادیان و مذاہب کے درمیان تقریب " کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: " تقریب کا مطلب ہے علمی سطح کو بلند کرنا، آگاہی دینا، ادیان اور مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنا اور باہمی احترام کو مضبوط بنانا اور اخوت کے رشتوں میں بلا تفریق قوم و قبیلہ، فرقہ و مذہب بھائی چارے کی فضا کو قائم کرنا۔
انہوں نے ادیان کے پیروکاوں کے حقوق کے تحفظ کا فائدہ بیان کرتے ہوئے کہا: ادیان الہی کے پیروکاروں کے حقوق کا تحفظ معاشرے کے ارکان کے درمیان اتحاد کا باعث بنتا ہے۔

۔ ادیان و مذاہب کے درمیان اتحاد سماجی حقوق کو یقینی بنانے میں ایک تعمیری عنصر ہے
اہل بیت(ع) انٹر نیشنل یونیورسٹی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈٓاکٹر سعید جازاری نے بھی اس ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ادیان و مذاہب کے درمیان اختلاف کی ایک عظیم وجہ مختلف جغرافیائی کلچر اور سیاسی فضا ہوتی ہے اور اگر یہ دو مسئلے ٹھیک سے مورد توجہ واقع ہوں تو ادیان کے درمیان تعامل حاصل ہو جائے گا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ "ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد سماجی حقوق کے حصول کا ایک تعمیری عنصر ہے"، مزید کہا: "ادیان خدا کی طرف سے انسانوں کی سعادت اور ظلم و جہل سے روشنی اور روشن خیالی کی طرف جانے اور ایک خدا کی عبادت کے لیے آئے ہیں۔

جازاری نے ادیان و مذاہب کے درمیان ایک دوسرے کی خصوصیات اور نظریات کے مطابق گفتگو کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا: تمام مذاہب گفتگو، محبت اور بقائے باہمی اور پرامن بقائے باہمی کے اصول پر زور دیتے ہیں اور یہی انبیاء کا مشن رہا ہے۔

۔ ورلڈ کونسل آف چرچز کی سرگرمیوں کی رپورٹ
ورلڈ کونسل آف چرچز کی یونیورسٹی کے پروفیسر اس ملاقات میں کالج کی سرگرمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: یہ اسکول دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد یورپی اور غیر یورپی نوجوانوں کو امن و سکون کو فروغ دینے کے لیے تعلیم دینا تھا۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے پہلے گرجا گھروں کے درمیان تعلقات کو بڑھایا، اور پھر کمیونٹی اور چرچ کے درمیان تعلقات کو بڑھایا، اور 2006 میں ہم نے ابراہیمی مذاہب کے درمیان بات چیت اور گفتگو کا ایک پروگرام شروع کیا۔ اس سلسلے میں، ہم ہر موسم گرما میں کورسز منعقد کرتے ہیں جو تین ہفتے آن لائن اور تین ہفتے آفلائن ہوتے ہیں۔ متعدد محققین اور طلباء ان کورسز میں شرکت کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی بڑا کالج نہیں ہے۔ لیکن ایک اہم کالج شمار ہوتاہے۔ ہمارا کام چرچ کے رہنماؤں کو تربیت دینا ہے۔ مثال کے طور پر، 33 طلباء کو حال ہی میں گرجا گھروں میں مذہبی رہنما کے طور پر پرورش پانے کے لیے قبول کیا گیا تھا۔

چرچز کی عالمی کونسل کے صدر نے زور دیا: "ہمارے پاس لوگوں کا ایک اہم نیٹ ورک ہے جو دنیا کے اہم اور حساس مواقع پر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*