نئے بین الاقوامی نظام کی طرف؛ (1)

آج دنیا میں ایک نئے بین الاقوامی نظام کی آمد ہے

آج دنیا میں ایک نئے بین الاقوامی نظام کی آمد ہے

اس دور میں رونما ہونے والا اہم ترین واقعہ سنہ 1979ع‍ میں ایران کا اسلامی انقلاب تھا۔ یہ انقلاب عالمی تعلقات پر مسلط راہ و روش کے خلاف اور ان دونوں قطبوں میں سے کسی ایک پر بھروسہ کئے بغیر، بپا ہؤا اور دونوں بلاکوں کے خلاف تھا؛ اور اس نے ایک نیا منصوبہ بنی نوع انسان کے سامنے رکھا، جس میں دین [مذہب] پر قائم "لا شرقیہ لاغربیہ" کے اصول پر کاربند ایک نئے نظام حکومت کا قیام شامل تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے 27 اپریل 2022ع‍ کو ایران کی مختلف طلبہ تنظیموں کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "آج ایک نئے نظام کی آمد ہے، ایک نیا بین الاقوامی نظام آ رہا ہے دنیا کے لئے۔ اس دو قطبی نظام کے مقابلے میں جو کئی سال قبل تھا، امریکہ اور سوویت اتحاد، مغرب اور مشرق، اور اس یک قطبی نظام کے مقابلے میں جس کا چند عشرے قبل جارج بش (باپ) نے اعلان کیا تھا برلن کی دیوار گرائے جانے اور دنیا کی مارکسی مشینری کے انہدام اور سوشلسٹ حکومتوں کے خاتمے کے بعد؛ بش نے کہا تھا: آج دنیا "نئے عالمی نظام" کی دنیا امریکہ کی یک قطبی دنیا ہے۔ یعنی امریکہ اس نظام کی چوٹی پر ہے۔ البتہ وہ غلطی پر تھا۔۔۔ اس کو بعد میں احساس ہو گیا تھا کہ امریککہ ان ہی برسوں میں آہستہ آہستہ کمزور سے کمزور تر ہو چکا ہے۔ روز بروز کمزورتر ہؤا ہے، اپنے اندر بھی اپنی اندرونی پالیسیوں میں بھی، اور اپنی خارجہ پالیسیوں میں بھی، اپنی معیشت بھی بھی، اپنی سلامتی میں بھی، تمام شعبوں میں امریکہ 20 سال قبل کی دسبت کمزورتر ہوچکا ہے"۔
۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے میں کسی فرد، کسی نسل، کسی قوم، کسی ملک یا ممالک کا کسی اتحاد نے اپنے زمانے کی دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس رجحان نے پہلی عالمی جنگ کے بعد سے، ایک قانونی شکل اختیار کی اور موجودہ طاقتیں اس بار قیام امن کے بہانے ایک "اجتماعی" ڈھانچے پر کاربند ہوئیں؛ ایک مکمل جنگ کے دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی غرض سے جمیعت اقوام (League of Nations) قائم ہوئی لیکن ناکام رہی اور دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک نئی بلاک بندی معرض وجود میں آئی۔
۔یہ جدید بلاک بندی، دوسری جنگ کے فاتحین کے ہاتھوں انجام پائی جس کے تحت دنیا [سوویت روس کی قیادت میں] مشرقی بلاک اور [امریکہ کی قیادت میں] مغربی بلاک میں تقسیم ہوئی؛ اور تقریبا بیسویں صدی کے آخر تک جاری رہی۔ (اقوام متحدہ کا قیام اور پانچ ممالک کو ویٹو کا امتیازی حق دینا، بھی فاتحین کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا)۔ دنیا کے ممالک کو اپنی حیات کے لئے ان دو بلاکوں کے جھنڈے تلے جانا پڑتا تھا۔ غیروابستہ تحریک [بظاہر] ان دو بلاکوں سے رہا ہوکر خودمختار رہنے کے لئے بنائی گئی لیکن اس کے رکن ممالک کے پس منظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے ان دو بلاکوں میں سے ایک سے وابستہ یا متاثر تھے۔ دنیا پر مسلط اس نظام کو "دو قطبی" دنیا کا نظام کا نام دیا جاتا تھا۔ اس دور میں دنیا میں کوئی بھی سنجیدہ اقدام کا امکان نہیں تھا سوا اس کے ان دو طاقتوں میں سے ایک کی حمایت حاصل کی جاتی۔ اس دور کو - دو بڑی طاقتوں کے درمیان بالواسطہ جھگڑوں، دشمنیوں اور کشمکشوں کی وجہ سے "سرد جنگ کا دور" بھی کہا جاتا ہے۔
۔اس دور میں رونما ہونے والا اہم ترین واقعہ سنہ 1979ع‍ میں ایران کا اسلامی انقلاب تھا۔ یہ انقلاب عالمی تعلقات پر مسلط راہ و روش کے خلاف اور ان دونوں قطبوں میں سے کسی ایک پر بھروسہ کئے بغیر، بپا ہؤا اور دونوں بلاکوں کے خلاف تھا؛ اور اس نے ایک نیا منصوبہ بنی نوع انسان کے سامنے رکھا، جس میں دین [مذہب] پر قائم "لا شرقیہ لاغربیہ" کے اصول پر کاربند ایک نئے نظام حکومت کا قیام شامل تھا۔ اس عظیم واقعے کی اہمیت اس وقت اچھی طرح قابل فہم ہوجاتی ہے کہ ہم جان لیں کہ مشرق پر مسلط قطب (مشرقی بلاک) دین کو معاشروں کے لئے افیم [یا افیوم] سمجھتا تھا اور دین کے کسی بھی نشان کو برداشت نہیں کرتا تھا اور لبرلزم کا دعویدار مغربی بلاک بھی دین کو ایک ذاتی معاملہ اور اتوار کے دن کی مذہبی سروس تک محدود قرار دیتا تھا۔ کسی بھی یقین نہ تھا کہ ایسا بھی کوئی انقلاب ہوسکتا ہے اور ایسا انقلاب زندہ اور پائندہ بھی رہ سکتا ہے۔ اس انقلاب کی حقیقت کچھ ایسی تھی کہ مشرق اور مغرب میں قائم تفکر کو چیلنج کرتی تھی لہذا دونوں نے اس کی دشمنی کی ٹھان لی۔ مغرب اور مشرق کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ، مختلف بغاوتوں اور فتنوں اور سینکڑوں سازشوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
۔یکم جنوری سنہ 1989ع‍ کے دن امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے سوویت اتحاد کے راہنما میخائیل گورباچوف کے نام خط میں کمیونزم کے خاتمے کا پیغام دیا اور یہ کہ بنی نوع انسان کی نجات توحید اور اسلام کی طرف بازگشت میں ہی مضمر ہے۔ لیکن گورباچوف امام کے اصل پیغام کے ادراک سے عاجز رہے اور جب انھوں نے اس پیغام کو سمجھ لیا تو بہت دیر ہو چکی تھی، سوویت اتحاد ٹوٹ چکا تھا اور وہ خود بخود معزول ہو چکے تھے اور ان کی ندامت کا دور شروع ہوچکا تھا۔ گورباچوف کہتے ہیں: "اگر ہم اس پیغام میں آیت اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی پیشین گوئیوں کو سنجیدہ لیتے آج قطعی طور پر ہمیں موجودہ صورت حال کا سامنا نہ ہوتا"۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ "امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) وقت سے ماورا سوچتے تھے اور کسی سرزمین تک محدود نہ تھے۔ انھوں نے عالمی تاریخ پر بہت بڑا اثر مرتب کیا"۔ بیسویں صدی اختتام پذیر ہوئی جبکہ مشرقی بلاک ختم ہو چکا تھا۔
۔سوویت اتحاد کے زوال اور عالمی سطح پر کمیونسٹ نظام کے اختتام کے ساتھ ہی دو قطبی نظام بھی اختتام پذیر ہؤا۔ امریکہ نے خود کے بلا رقیب پایا چنانچہ بیسویں صدی کی نوے کی دہائی میں عملی طور پر امریکی بالادستی کے تحت "یک قطبی نظام" قائم ہؤا۔ امریکہ نے - جو اپنے آپ کو دنیا کا مدار و محور سمجھتا تھا - ہر اس ملک پر حملہ کیا یا پابندیوں کا نشانہ بنایا جس کو وہ "اپنا" نہیں سمجھتا تھا۔ انسانی حقوق، دہشت گردی، جمہوریت، آزادی وغیرہ ان تمام ممالک و اقوام کے خلاف امریکی جرم کے اوزار تھے جنہیں وہ "غیر" سمجھتا تھا۔ اور تضادات کی حد یہ ہے کہ اگر آری اٹھا کر جمال خاشقجی کے ٹکڑے کرنے والا محمد بن سلمان اس کے مفادات کے ساتھ سازگار ہو، تو وہ واشنگٹن کا اتحادی بن سکتا ہے۔
۔یک قطبی دنیا کی کھال کے نیچے دوسری طاقتیں نشوونما پا رہی ہیں؛ چین روزافزوں ترقی، مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور سمندری قوت میں بے پناہ ترقی کے بدولت بہت بڑی طاقت بن چکا ہے۔ روس نے ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بحالی اور بازیافت کے مراحل طے کر چکا ہے اور عالمی سطح پر کردار ادا کرنے کے درپے ہے لیکن یورپ - پیشین گوئیوں اور منصوبوں کے برعکس - ایک بڑی اقتصادی طاقت نہیں بن سکا ہے چنانچہ اسے امریکہ کا تابع مہمل بنا ہؤا ہے۔ بھارت، برازیل اور کئی دوسرے ممالک بھی ہیں جو عالمی انتظام میں اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔
۔اسی اثناء میں "سیاسی اسلام" بھی - جو اسلامی انقلاب کا ہمزاد کہلاتا ہے اور مسلسل فروغ پا رہا ہے - مکر و فریب کے نظریئے پر استوار لبرل امریکی عالمی نظام کے وجود اور شناخت کے لئے سنجیدہ خطرہ ہے۔ چنانچہ اس نے - اپنے لئے درپیش خطرے کو اسلامی امت کی طرف لوٹانے کی غرض سے - داعش اور دوسرے شیطانی فتنوں کو جنم دے کر، مسلمانوں کے درمیان مذہبی، قومی اور نسلی جنگوں کے منصوبے کو نافذ کرنا چاہا، لیکن وہ اس حقیقت سے غافل تھا کہ اللہ کی مرضی کچھ اور ہے۔ اسلامی مقاومت ایک الہی قیادت کے زیر انتظام، اسی خطرے کے بیچ سے اٹھی اور بالیدہ ہوئی اور آجر ایک عظیم طاقت میں تبدیل ہوئی ہے۔
ان کے پاس اس اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ تنازعے کے قواعد بدل گئے ہیں اور اسرائیل کو اندرونی بحرانوں کا سامنا ہے۔ اور اسرائیل کے اندرونی بحران کی مساوات کو بدلنے کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: سلطانپور
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*