شیطان کے سپاہی:

بچوں کے قاتل شمعون پیرز کا مختصر تعارف

بچوں کے قاتل شمعون پیرز کا مختصر تعارف

یہودی ریاست کہ صدر شمعون پیرز 2 اگست 1923 کو پولینڈ میں پیدا ہوا۔ باپ کا نام اسحق اور ماں کا نام سارا ملٹز تھا اور پیرز ان کا پہلا بیٹا تھا۔ باپ لکڑی کا تاجر تھا اور ماں کتابدار (لائبریرین) تھی اور وہ یہودی ـ پولش ـ روسی ماحول میں پروان چڑھا۔ خود کہتا ہے کہ وہ اپنے نانا رابی زوئے ملٹز سے متاثر تھا جو خود رابی چائم ویلوزن کا پوتا تھا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ پیرز خود کہتا ہے: میں اپنے نانا کے گھر میں پلا اور اسی نے مجھے تربیت دی۔ اس کا باپ سنہ 1932 میں برطانیہ کے زیر قبضہ فلسطین میں منتقل ہوا اور یہ شخص اپنے خاندان کے ساتھ تل ابیب میں ہی رہائش پذیر ہوا اور یہیں ہائی اسکول سے فارغ ہوا اور 1945 میں اس نے سونیا گلمین سے شادی کی۔ اس کے دو بیٹے، دو بیٹیاں اور چھ پوتے نواسے ہیں۔ اس نے اس کے بعد زراعت کے شعبے میں تعلیم جاری رکھی اور سوشل لائف کے مضمون میں ہاوارڈ سے تعلیم حاصل کی۔  وہ 1947 میں دہشت گرد صہیونی تنظیم ہاگانا میں شامل ہوا اور بن گورین نے اسلحہ خریدنے کی ذمہ داری اسی کو سونپ دی۔ اس کا خاندانی نام ابتداء میں "پیرسکی تھا جس کو اس نے تبدیل کیا اور نوجوانی ہی سے صہیونیت کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا اور 1948 میں فلسطین پر یہودی قبضے کے ساتھ ہی صہیونی فوج کی بحری یونٹوں کا کمانڈر مقرر کیا گیا اور 1950 میں صہیونی وزارت جنگ کے وفد کے سربراہ کی حیثیت سے امریکہ کے دورے پر گیا۔ پیرز ہی یہودی ریاست کے خفیہ جوہری پروگرام کا منصوبہ ساز مانا جاتا ہے  1952 میں وہ صہیونی ریاست کا نائب وزیر جنگ بنا اور دو سال بعد 29 سال کی عمر میں وزیر بنا۔ اس نے اسلحہ خریدنے اور خاص طور پر صہیونی ریاست کو ایٹمی قوت بنانے ڈیمونا ایٹمی پلانٹ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سنہ 1969 میں وہ بیرونی ممالک سے یہودیوں کو ترک وطن کروانے اور انہیں فلسطین میں بسانے کا وزیر بنا اور 1970 میں مواصلات کا وزیر بنا اور کچھ عرصہ انٹیلجنس کا وزیر رہا اور اس کے بعد 1974 میں پھر بھی وزیر دفاع بنایا گیا اور 1977 وزیر دفاع رہا۔ وہ کئی عشروں سے لیبر پارٹی کا بنیادی رکن تھا اور کئی بار اس جماعت کا سربراہ بھی رہا لیکن 2005 میں جماعت کے اندرونی انتخابات میں شکست کھانے کے بعد اس جماعت سے مستعفی ہوا اور کادیما (قدیمہ) پارٹی میں شامل ہوا۔ پیرز، صبرا و شتیلا کے قصاب کے نامی سے بدنام زمانہ سابق وزیر اعظم ایریل شیرون کا نائب رہا اور سنہ 2005 میں صدر موشے کاتساؤ کا جنسی اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد صہیونی ریاست کا صدر بنایا گیا۔ صہیونی ریاست میں بڑے مناصب ان لوگوں کو دیئے جاتے ہیں جنہوں نے فلسطینی اور عرب مسلمانوں کے قتل عام میں شرکت کی ہو چنانچہ شمعون پیرز کو اس حوالے سے مشکل کا سامنا تھا کیونکہ بظاہر اس کے ریکارڈ میں قتل عام کا کوئی کیس موجود نہ تھا اور یہ صہیونی قاموس میں ایک نقص ہے چنانچہ اس کے حامیوں کو توقع تھی کہ انسانیت دشمنی اور انسان کشی کے مسئلے میں اس کی پوزیشن اس حد تک ہو کہ اس کو صدر بنانے کے لئے زیر بحث لائی جاسکے؛ اور اسی مسئلے کو ثابت کرنے کے لئے یہودی ریاست نے 11 اپریل 1996 کو لبنان پر فضائی حملوں کا آغاز کیا جس کو صہیونیوں نے "غضب کے خوشے" (Operation Grapes of Wrath) کا نام دیا اور یہ حملے 27 اپریل تک جاری رہے۔ صہیونیوں نے ان حملوں کے درمیان انسانیت دشمنی کے نئے نمونے رقم کئے اور جنوب لبنان میں محدود پیشقدمی کی۔ اقوام متحدہ اور مغربی ممالک اس واقعے کو بھی اسرائیل کا حق قرار دیتے اور یہ واقعہ بھی فراموش کیا جاتا اگر قانا کے علاقے میں اقوام متحدہ کے دفتر کو بھی نشانہ نہ بنایا جاتا اور یہ حملے صہیونی درندگی اور خونخواری کا نشانہ ثابت ہوئے۔ اس حملے میں قانا میں قائم اقوام متحدہ کے کیمپ میں 106 لبنانی باشندے شہید ہوئے جن میں غالب اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔ 116 لبنانی اور یو این پیس فورس کے چار فیجیائی سپاہی زخمی ہوئے۔ اس جنگ میں صہیونیوں کی درندگی خاص شکل میں نمایاں ہوئی جس میں صہیونیوں نے یو این کیمپ کو بھی نہ بخشا اور وہاں موجود سینکڑوں نہتے بچوں اور خواتین کو قتل کیا اور یوں شمعون پیرز کی درندگی ثابت ہوئی جو اس کی صدارت کے لئے ضروری تھی۔

عرب واسلامی وزارئے خارجہ کے اجلاس سے اسرائیلی صدر کا خطاب!


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License